پیر , 19 نومبر 2018

اس معاملے سے جان چھڑانا مشکل ہے!

(تسنیم خیالی)

سعودی صحافی جمال خاشقجی کا معاملہ سعودی عرب کے لئے روز بروز وبال جان بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر سعودی عرب کا اس اعتراف کے بعد کہ خاشقجی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں ہی مارے گئے ہیں صورت حال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ سعودی عرب کو اس وقت یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس معاملے سے خود کو کس طرح نکالے اور غیر موزون فیصلے کرتا جا رہا ہے۔

اس معاملے کی سنگین کیفیت کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے دست راست سمجھے جانے والے شہزادہ خالد الفیصل چند روز قبل خاشقجی کے معاملے کے حوالے سے ترکی گئے تھے جہاں ان کی ملاقات خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے ہوئی اس اہم ملاقات کے دوران خالد کے سامنے وہ تمام ریکارڈنگز رکھی گئی جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خاشقجی کو بہیمانہ تشدد بنانے کے بعد انتہائی درندگی سے قتل کیا گیا تھا۔ شہزادہ خالد نے ان تمام ریکارڈنگز کا معالعہ کیا اور انہیں سنا اور پھر خاموش ہو کر وہاں سے چلے گئے۔

سعودی عرب واپس آئے ہوئے شہزادہ خالد آل سعود خاندان کے لئے اپنے ہمراہ ایک بری خبر لیے ہوئے تھے اور کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار سے صاف الفاظ میں کہا کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے سے نکلنا انتہائی مشکل ہے۔

دراصل شہزادہ خالد کو اس بات کا اندازہ ہے کہ خاشقجی کے قتل کے شواہد اور اس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کے دلائل بہت ٹھوس ہیں اور سعودی عرب کی جانب سے اس معاملے کے حوالے سے جاری ہونے والا بیان کہ خاشقجی قونصل خانے میں ہونے والی ہاتھا پائی کے دوران مارے گئے انتہائی مضحکہ خیز اور مزید پھنسانے والا بیان ہے جسے جلد بازی اور سوچے سمجھے بنا ہی جاری کیا گیا ہے۔

دیکھا جائے تو سعودی بیان کو رد کرنے کا ٹھوس سبب خاشقجی کی لاش ہے جو اب تک نہیں ملی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس بیان کو جاری ہونے میں 18 دن لگے اور اس دوران سعودی حکام یہی کہتے رہے کہ خاشقجی قونصل خانے میں داخل ہونے کے محض 20 منٹ بعد واپس چلے گئے تھے!

ادھر ترک صدر رجب طیب اردگان نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ترک حکام نے خاشقجی کے معاملے میں اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہے اور منگل کے روز (23 اکتوبر) کو تحقیقات کے نتائج کے اعلان کر دیے جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترک حکام نے اعلان کیا کرنا ہے اور کیا اس اعلان میں بن سلمان کو خاشقجی کے قتل کا اصل ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا؟

اگر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو پھر سعودی عرب واقعی ایک بہت بڑی مشکل میں پھنس جائے گا جس کے نتائج سعودی عرب کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں اور اگر اس اعلان میں بن سلمان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا تو پھر سمجھیں کہ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان امریکہ کی سرپرستی میں ایک بہت بڑی ڈیل طے پائی گئی ہے جس کی وجہ سے بن سلمان محفوظ ہو جائیں گے۔

رہا سوال کہ آیا شاہ سلمان اپنے ولی عہد بیٹے کو بر طرف کریں گے یا نہیں تو فی الحال شاہ اس موڈ میں نہیں کہ وہ ایسا کریں البتہ خاندانی اور بیرونی دباؤ کے تحت وہ ایسا کر سکتے ہیں، البتہ فرمانروا کی یہ کوشش ضرور ہو گی کہ وہ ولی عہد کا عہدہ اپنے ہی کسی بیٹے کو سونپے کیونکہ وہ حکومت اور بادشاہت اپنی نسل کو دنیا چاہتے ہیں اور آل سعود خاندان کی دیگر شاخوں کو اپنی شاخ کے ماتحت کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...