پیر , 19 نومبر 2018

جمال خاشقجی کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا: ترک صدر

انقرہ (اسلام آباد) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے کے اندر ہی قتل کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ شواہد سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جمال خاشقجی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی اپنے کاغذات کی تیاری کے سلسلے میں سعودی قونصل خانے آئے تھے اور جس دن وہ سعودی قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہوئے اسی روز وہ لندن سے استنبول پہنچے تھے۔

ترک صدر نے بتایا کہ ویانا کنونشن کی وجہ سے سفارتخانوں کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اسی لیے ترک حکام اس کے اندر داخل نہیں ہو سکے۔رجب طیب اردوان نے انکشاف کیا کہ کہ سعودی صحافی کے قتل کی منصوبہ بندی 29 سمتبر کو کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ خاشقجی کو قتل کرنے کے لیے 2 خصوصی ٹیمیں استنبول پہنچی تھیں اور وہ لوگ اس وقت سعودی قونصل خانے میں ہی موجود تھے جب صحافی کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قونصل خانے میں موجود سیکیورٹی کیمروں کو بھی بند کر دیا گیا تھا.

ترک صدر کا کہنا تھا کہ پہلے سعودی عرب نے تردید کی کہ جمال خاشقجی قونصل خانے سے جانے کے بعد لاپتہ ہو گئے لیکن بعد میں سعودی عرب کی ہی جانب سے یہ اعترافی بیان سامنے آیا کہ صحافی کو قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا.

رجب طیب اردوان نے کہا کہ صحافی کے قتل کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے گی جبکہ اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ انہیں قتل کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ترک صدر نے سعودی حکومت سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کی لاش کہاں ہے۔

رجب طیب اردوان نے جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کا اعلان کر دیا جبکہ سعودی حکام پر زور دیا کہ اس قتل میں ملوث افراد کے خلاف ٹرائل ترکی میں ہی کروایا جائے۔

طیب اردوان کے ترک زبان میں خطاب کو بین الاقوامی میڈیا نے انگریزی میں ترجمہ کر کے براہ راست نشر کیا، جس میں انہوں نے جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں مختلف زاویوں کی جانب اشارہ بھی کیا۔

جمال خاشقجی کا معاملہ
خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قنصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

سعودی حکام نے ترک ذرائع کے دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمال خاشقجی لاپتہ ہونے سے قبل قونصل خانے کی عمارت سے باہر جا چکے تھے۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد ایک ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا کہ سعودی صحافی، شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ خاشقجی کی صحافت سعودی حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں تھی لیکن ان کے خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات تھے جس کی وجہ سے انہیں بعض اہم معاملات سے متعلق علم تھا۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دھمکی آمیز بیان میں کہا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کر دی تھی۔

اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

فرانس:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، خاتون ہلاک

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں ‘یلو ...