ہفتہ , 24 اگست 2019

دوھرا معیار

الوقت نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی)
ایک بندہ قتل ہوا تو پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے اور دوسری جانب پوری ایک قوم ماری جا رہی ہے اور اسی دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا، یہ حالت ہے دنیا کی جو جمال خاشقجی کے قتل ہونے پر واویلا مچا رہی ہے، مگر یمن میں مارے جانے والے ہزاروں افراد کے قتل پر کئی سالوں سے خاموش ہے حالانکہ دونوں کو قتل کرنے والا شخص ایک ہی ہے۔

یہ ممالک سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات خود بھی کرنے پر آمادہ ہیں اور دوسرے ممالک سے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایسا کریں، البتہ یہی ممالک تین سال سے بھی زائد عرصے سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہزاروں یمنیوں کے قتل عام پر بیزاری کا اظہار بھی نہیں کر پائے اس کے برعکس انہوں نے اس قتل عام میں بن سلمان کو ہتھیار فراہم کر کے اس کا ساتھ دیا۔

خاشقجی کے قتل ہونے پر مغربی ممالک میں بلند ہونے والی آوازیں یمنیوں کے قتل پر کہاں تھی؟ یہ آوازیں بسوں پر حملوں میں مارے جانے والے ننھے یمنی بچوں کے معاملے میں کہاں تھی؟

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ خاشقجی کے ساتھ جو ہوا انتہائی درناک اور قابل مذمت ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام انسانوں کی جانیں قیمتی ہیں صرف ایک شخص کی نہیں!

البتہ مغربی ممالک اور پوری دنیا کا ایک خاشقجی کے قتل پر بھڑک اٹھنا قابل افسوس ہے، سعودی نظام کی تاریخ قتل و غارت گری اور دہشت گردی سے بھری پڑی ہے اور لاکھوں لوگ اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور چڑھ رہے ہے کیا اس پر مغربی ممالک کو نہیں بھڑک اٹھنا چاہئے تھا؟

یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں اب تک 16,200 یمنی مارے جا چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی ایک غیر معمولی تعداد شامل ہے، مگر مغربی ممالک نے اس قتل عام پر سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے سے اجتناب کیا اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیا کیوںکہ اس قتل عام سے ان کے خزانے پُر ہوتے ہیں!

خاشقجی تو ایک شخص تھا اور یمن میں پوری قوم ہے جو بے دردی سے ماری جا رہی ہے خاشقجی قتل ہوا اور بات وہیں ختم ہو گئی، مگر یمن میں سعودی اتحاد کی بمباری سے جہاں لوگ فوری طور پر مارے جا رہے ہیں وہیں ان بم بازوں کے باعث یمنیوں کو بھوک اور وبائی بیماریوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اس حوالے سے اقوام متحدہ نے بے شمار رپورٹس شائع کرتے ہوئے دنیا کو یمن میں ہونے والے سانحہ سے آگاہ کیا ہوا ہے مگر مغربی ذرائع ابلاغ کو یہ گوارہ ہی نہیں کہ وہ اس حوالے سے کسی قسم کی بات چیت کرے یا رپورٹ بنائے البتہ یہی ذرائع ابلاغ اپنا پورا زور خاشقجی کے معاملے پر لگا رہی ہیں اور صرف خاشقجی خاشقجی کر رہی ہیں۔ کیا یہ دوھرا معیار نہیں؟ کیا یہ بے حسی اور بے شرمی نہیں؟

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …