اتوار , 17 فروری 2019

کیا بن سلمان اپنے والد کا تختہ الٹ سکتا ہے؟

(تسنیم خیالی)
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل ہونے کے بعد سعودی عرب پہلے جیسا نہیں رہا اور اس وقت سعودی شاہی محل میں فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد علیحدہ علیحدہ بہت کچھ سوچ رہے ہیں، فرمانروا کی بات کی جائے تو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے خاشقجی کو قتل کروا کے انتہائی احمقانہ اور بیوقوفانہ اقدام کیا ہے جس کی وجہ سے آل سعود کی حکمرانی کی بقاء بھی خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔

شاہ سلمان اپنے بیٹے کو ولی عہد کے عہدے سے ہٹانے پر غور کر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جائے مگر ایک بات ضرور ہے کہ محمد بن سلمان کے لئے بھی آسان نہیں ہو گا۔

بات دراصل یہ ہے کہ محمد بن سلمان اقتدار چھوڑنے کے لئے نہیں آئے اور وہ بادشاہ بننے کی ہر ممکن کوشش ضرور کرے گا، ایک امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر شاہ سلمان اپنے بیٹے کو ولی عہد کے عہدے سے ہٹا کر کس اور کو ولی عہد بنانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ بن سلمان اپنے والد کا تختہ الٹتے ہوئے خود کو فرنروا بنا لے!

ایسا کرنے کے لئے بن سلمان کے پاس متعدد آپشنز موجود ہیں جن میں گرفتاری یا پھر قتل کے آپشنز شامل ہیں بن سلمان اقتدار کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہے اور وہ آسانی سے فرمانروا بننے کا خواب ترک نہیں کرے گا۔

وہ اپنی معزولی کے، والد کے کسی بھی حکم نامے کو قبول نہیں کرے گا اس کشمکش میں یہ بھی امکان ہے کہ بن سلمان کو روکنے کے لئے اسے قتل کیا جائے مگر یہ بھی امکان ہے کہ بن سلمان کو روکنے کے لئے اسے گرفتار یا قتل کیا جائے مگر یہ بھی اتنا آسان نہیں کیونکہ بن سلمان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ ’’ہٹ لسٹ‘‘ پر ہے اگر اپنے والد کی طرف سے نہیں تو اپنے خاندان والوں کی طرف س تو ضرور ہٹ لسٹ پر ہے بہر حال سعودی عرب میں آنے والے دنوں میں بہت کچھ ہونے کا امکان ہے جو صرف سعودیوں کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے حیران کن ثابت ہو گا۔

خود سعودی عرب اتحادی بھی حیران رہ جائیں گے کہ آخر ان کے اتحادی ملک میں یہ ہو کیا رہا ہے البتہ چند افراد ایسے ہوں گے جنہیں سب کچھ معلوم ہو گا اور وہ باقاعدہ ان معاملات میں ملوث ہوں گے ان کے چہروں پر کسی بھی قسم کی حیرانگی کی علامات دکھائی نہیں دیں گی۔

یہ بھی دیکھیں

کچھ نئے تحقیقی زاویے

(حامد میر) تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ ...