جمعرات , 18 اپریل 2019

جرمنی سعودی عرب کو ہتھیار فراہم کرنا بند کر رہا ہے مگر!

(تسنیم خیالی)

جرمنی چانسلر اینجیلا میرکل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل بند کر رہا ہے اور یہ بندش تب تک جار رہے گی جب تک سعودی عرب استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں پیش آنے والے جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے کی وضاحت نہیں کرتا اور اس کے متعلق سوالات کا منطقی اور قابل قبول جواب پیش نہیں کرتا۔

میرکل کا یہ اعلان اچھا ہونے کے ساتھ ساتھ خوش آئندہ بھی ہے کیونکہ اعلان میں میرکل کی بے حسی بھی صاف دکھائی دیتی ہے جو ایک صحافی کے قتل پر سعودی عرب کو ہتھیار کی ترسیل بند کر رہی ہے مگر انہیں یمن میں سعودیوں کے ہاتھوں ہونے والے جنگی جرائم نظر نہیں آتے انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جن جرمن ہتھیار بھی ان ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کے ذریعے سعودی یمنیوں کا قتل عام پچھلے 3 سالوں سے کرتے آ رہے ہیں ۔

ایک شخص کی تکلیف انجیلا کو ہے مگر ہزاروں اور لاکھوں یمنیوں کی تکلیف نہیں! جرمنی کو ہتھیاروں ترسیل بہت عرصہ قبل ہی بند کر دینے چاہئے تھے بالخصوص اس وقت جب یمن میں سعودی جنگی جرائم کے واقعات منظر عام پر آ رہے تھے۔

اس وقت میرکل نے سعودی عرب سے اس حوالے سے کسی بھی وضاحت کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی قابل قبول جواب طلب کیے۔ یہی حال تقریباً تمام مغربی ممالک کا ہے جنہیں خاشقجی کا خون نظر آتا ہے مگر یمنیوں کا نہیں اگر ایک شخص کے قتل سے انہیں اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو ہزاروں یمنیوں کے مارے جانے پر انہیں تکلیف کیوں نہیں ہوتی؟

مختصر جواب یہ ہے سعودی عرب نے خاشقجی کو مارنے کے لئے جو ہتھیار استعمال کیے وہ امریکہ سے خریدے گئے تھے اگر یہی ہتھیار کسی مغربی ملک یا پھر جرمنی سے خریدے جاتے تو شاید میرکل خاموش رہتیں!

مغربی ممالک نے جمال خاشقجی پر قابل ستائش ردعمل دکھایا البتہ اسے انسانیت کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ صرف خاشقجی کے قتل پر سیخ پا ہوئے ہیں اور ایک لبمے عرصے سے یمنیوں کے قتل عام میں سعودیوں کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں دونوں حالات میں قاتل ایک ہے، البتہ مغربی ممالک کا موقف یکسر مختلف ہے جو کہ انتہائی درد ناک اور قابل افسوس بات ہے۔

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...