ہفتہ , 24 اگست 2019

امریکہ محاصرے میں ہے ایران نہیں!

(ایلنار بائینازاروف/ کیریل گولوف (ترجمہ تسنیم خیالی)

امریکہ ایران کو محصور کرنے اور اسے تنہائی کا شکار بنانے میں مکمل طور پر نا کام ہو چکا ہے، ’’ایران جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا حق رکھتا ہے کیونکہ یہ معاہدہ ایران کے لیے بے کار ہو چکا ہے یہ کہنا تھا ماسکو میں متعین ایرانی سفیر مہدی سنائی کا، ان کے مطابق ’’جوہری معاہدی معاہدے سے غیر قانونی طور پر دستبرداری کے بعد امریکہ کو علامی برادری کی مذمت اور تنقید کا سامنا ہے اور یہ سب پر واضح ہے کہ ریاست کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے کوئی ایک شخص نہیں، اور کوئی بھی شخص خواہ وہ صدر ہی کیوں نہ بن جائے اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے سے پہلے صدر کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں کو منسوخ کردے۔ عالمی عدالت نے بھی اس ضمن میں فیصلہ دیتے ہوئے امریکہ کی ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات کی مذمت کی ہے‘‘۔

جوہری معاہدے میں شامل باقی ممالک ’’ایران، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی‘‘ تہران میں مسلسل طور پر اجلاس منعقد کرتے رہتے ہیں جو جوہری معاہدے کو بہتر کرنے پر مذکور ہوتی ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد امریکہ محاصرے میں آ گیا ہے، وہ تنہائی کا شکار ہو چکا ہے ایران نہیں!

مہدی سنائی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: ’’نومبر میں امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید پابندیوں کی باتیں گردش کر رہی ہیں، جن پر میرا یہ کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران پر وہ تمام پابندیاں عائد کر دی ہیں جن کی وہ خواہش کر رہا تھا اس نے نومبر کے لئے کچھ چھوڑا ہی نہیں، یہ پابندیاں ایران اقتصاد کو زیر کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں، بلاشبہ ان پابندیوں کے باعث اندرونی طور پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں البتہ ایران پہلے بھی اس تجربے سے گزر چکا ہے۔

یہاں میں اس حوالے سے ایران کی دو اہم پالیسیز بتانا چا ہوں گا، سب سے پہلے تو ایران اپنے ذخائر اور ملکی وسائل پر اعتماد کرتا ہے جیسے ہم ’’مذاحمتی اقتصاد‘‘ کہتے ہیں اس طرح ایران توانائی ’’تیل‘‘ کی برآمدات پر کم اعتماد کرتا ہے اور گزشتہ سالوں میں ’نان آئل سیکڑ‘‘ کا ایرانی بجٹ میں 50 فیصد حصہ رہا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایران پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کوشاں ہے اور یہ پالیسی ایرانی دفتر خارجہ کی اولین ترجیح ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات سے ایرانی تیل کی برآمدات میں کمی واقع ہوتی ہے البتہ ان اقدامات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …