جمعرات , 18 اپریل 2019

یمن جنگ میں سعودی عرب کو بھیانک نقصان ہو رہا ہے

(تسنیم خیالی)
ٹویٹر پر سرگرم مشہور صارف ’’العہد الجدید‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی حکومت یمن جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کو حاصل ہونے والے نقصانات کو چھپا رہی ہے۔ العہد الجدید کے مطابق یمن جنگ کی وجہ سے اب تک 17 ہزار سے بھی زائد سعودی شہری متاثر ہوئے ہیں جن میں فوجیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

العہد الجدید کے مطابق اب تک 17 ہزار سعودی جن میں فوجیوں کی بڑی تعداد ہے اس جنگ کے باعث زخمی اور مارے جا چکے ہیں جن میں 1000 ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لئے معذور ہو چکے ہیں۔

العہد الجدید کے بقول سعودی عہدیداروں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ یمن جنگ میں اس قدر برے طریقے سے پھنس جائیں گے جس کا انہیں عسکری و اقتصادی طور پر بھاری نقصان برداشت کرنا پڑے گا، خاص طور پر کہ حوثی ہار ماننے کو تیار نہیں۔ یمن جنگ کو 4 سال ہونے والے ہیں اور جنگ میں سعودی عرب کے نقصانات کے حوالے سے کئی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے اور اس کے منفی اثرات سعودی عرب کی سماجی و سیاسی صورت حال پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔

سعودی عرب اپنے ہتھیاروں کو ’’اپ ٹو ڈیٹ‘‘ رکھنے پر مجبور ہو چکا ہے اور بعض اوقات از سر نو تبدیل کرنے پر بھی مجبور ہوتا ہے جو کہ خزانے پر بھاری ثابت ہوتا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب نے روس سے دفاعی میزائل سسٹم (ایس 400) خریدا اور امریکہ سے بھی میزائل دفاعی سسٹم تھا خریدا۔ اس قبل سعودی عرب کے طول و غرض میں امریکی دفاعی میزائل سسٹم پیڑیاٹ بھی نصب کیے گئے ان سب پر سعودی عرب سینکڑوں ملین ڈالرز خرچ کر رہا ہے۔

پیٹریات سسٹم کے ایک میزائل کی قیمت 3 ملین ڈالر ہے اور ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرانے میں 3 پیٹریاٹ میزائل درکار ہوتے ہیں یعنی 7 بیلسٹک میزائلز کو مار گرانے پر 21 ملین ڈالر صرف ہوتے ہیں جو کہ (79 ملین ریال سے زائد ہوتا ہے) یمن جنگ میں شریک طیاروں پر ماہانہ 230 ملین ڈالر صرف ہو رہے ہیں جو کہ 3 سالوں میں 8 ارب ڈالر سے بھی زائد بنتے ہے۔

گزشتہ مارچ کے مہینے میں سعودی اتحاد کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اب تک یمن میں 90 ہزار فضائی حملے کیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان حملوں پر 2 سال کے دوران 7 سے 9 ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں کیونکہ ایک حملے پر 84 ہزار سے ایک لاکھ 4 ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں؟ (امریکی سٹینڈرڈ کے مطابق) مشہور امریکی رسالہ فارن پالیسی کے مطابق سعودی عرب اس جنگ میں عسکری مقاصد کے لئے 2 سیٹلائٹس استعمال کر رہا ہے جن پر جنگ کے پہلے 6 ماہ کے دوران 18 ارب ڈالر کی رقم صرف ہوئی، جبکہ ’’قبل از وقت انتباہ کرنے والے ہوئی جہازوں ’’پر ایک گھنٹے کے دوران دو لاکھ 50 ہزار صرف ہو رہے ہیں جو کہ ایک سال میں80.1 ارب ڈالر بنتا ہے۔

یمن جنگ کے باعث سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں صنعتی و تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں اور جنگ کے باعث 10 دیہات خالی کرا دیئے گئے ہیں اور 7000 افراد کو علاقے سے منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ 500 سکولز بھی بند کر دیئے گئے ہیں جو کہ بھاری نقصان تصور کیا جاتا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ یمن جنگ میں 2500 سعودی فوجی مارے جا چکے ہیں اور دیگر 60 بڑے آفیسرز بھی جنگ میں مارے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں نجران، جازان، عسیر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں 650 سعودی ٹینکس سمیت دیگر سینکڑوں فوجی گاڑیاں اور بکتر بند تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...