جمعرات , 15 نومبر 2018

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھاجپا لیڈر یوگی ناتھ کی ہرزہ سرائی

(رپورٹ: جے اے رضوی)
مقبوضہ کشمیر کے ساتھ یہ بدقسمتی رہی ہے کہ بھارت کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاستدانوں، خاص کر انہیں، جن کی سیاسی پرورش مخصوص نظریاتی چار دیواری کے اندر ہوئی ہے، کو اس کشمیر کی سماجی مذہبی اور سیاسی تاریخ کے بارے میں بہت ہی کم واقفیت ہے، جس کی وجہ سے وہ جب بھی اس کشمیر کے اندر موجود حالات اور سیاسی صف بندیوں پر تبصرہ کرتے ہیں تو بنیادی حقائق کو نظرانداز کرکے ایسی آراء مرتب کرکے بھارتی عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں عوامی سطح پر کشمیریوں کے تئیں تکدّر کی فضاء پیدا کرنے کی کوششوں کو تقویت ملتی ہے۔ بھارتی ریاست اُترپردیش کے وزیراعلٰی یوگی ادیتہ ناتھ کے حالیہ بیان کہ کشمیر میں ہندو اور سکھ تب تک محفوظ تھے جب تک جموں و کشمیر پر ہندو راجاؤں کی حکومت تھی، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک انتہائی بھونڈی اور بیدردانہ کوشش ہے۔ اگرچہ اس کے پس پردہ مقاصد کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں ہے، کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی حلیف جماعتیں آئندہ برس ہونے والے انتخابات کے لئے فضاء کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی ہمہ گیر کوششوں میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک حقائق کا تعلق ہے تو اُن لوگوں، جن سے یوگی ادیتہ ناتھ مخاطب تھے، کو دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اگر 1947ء میں برطانوی ہند کے بٹوارے کی تاریخ پڑھ لیں تو یہ دیکھ کر اُن کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ ایسے وقت میں جب فرقہ وارانہ بنیادوں پر سارے برصغیر ہند میں قتل و غارتگری کا طوفان برپا ہوا تھا اور جموں و کشمیر میں سریر آرائے سلطت ڈوگرہ حکومت نے راہ فرار اختیار کی تھی، اُس وقت بھی کشمیری مسلمانوں نے ہندؤں اور سکھوں کی حفاظت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، حالانکہ اسی کشمیر کے ہندو اکثریتی خطے جموں میں چھ لاکھ کے قریب مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا اور ایسے حالات پیدا کئے گئے، جن میں لاکھوں خانوادوں کو پاکستان ہجرت کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ یوگی ادیتہ ناتھ کشمیر کی تاریخ سے اس قدر نابلد ہوں گے، بھارت کی ایک بڑی ریاست کے وزیراعلیٰ کے بارے میں ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، مگر حقیقت بہرحال حقیقت ہے اور اپنی لاعلمی، جہالت اور کم ظرفی کا انہوں نے برملا اعلان کیا ہے۔ جہاں جموں و کشمیر میں 1990ء کے بعد پیدا شدہ حالات کا تعلق ہے تو اس میں لوگوں کو جس عنوان سے تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا ہے اُس میں کوئی ایک فرقہ مخصوص نہیں بلکہ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ دوسرے فرقوں کے مقابلے میں اکثریتی مسلمان فرقہ کو کہیں بڑے پیمانے پر بے بیان مصائب اور خون آشامی کا سامنا رہا ہے۔

یہ ایک عالمی حقیقت ہے کہ تصادم زدہ علاقوں میں ہجرتیں اُن حالات کا حصہ ہوتی ہیں، جو سیاسی قوتوں کی گنجلک نظریاتی شکت و ریخت کا نتیجہ قرار پاتی ہیں۔ یہ دنیا کے ہر اُس علاقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں، جو تصادم آرائیوں کی زد میں ہیں۔ اس کا فرقہ وارانہ بنیادوں پر تحلیل و تجزیہ کرنا حقائق سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔ یوگی ادیتہ ناتھ نے افغانستان، پاکستان اور مسلمان ممالک کا ذکر کرتے ہوئے یہ عندیہ دینے کی کوشش کی ہے کہ ایسا صرف اُن علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں مسلمان آباد ہیں۔ وہ اگر دنیا کی تاریخ کا مطالبہ کریں تو انہیں یورپ، امریکہ، افریقہ اور ایشاء کی تاریخ میں ایسے سینکڑوں مراحل سے واسطہ پڑے گا، جہاں فرقہ وارانہ تخصیص سے ماوراء ہو کر ہجرتیں وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ ایسے معاملات کو صرف ان کے تاریخی سیاسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا غالباً یوگی ناتھ کو کوئی علم نہیں۔ انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ موجودہ دور میں بھی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں سالانہ غیر کشمیری باشندے جن میں غالباً اکثریت غیر مسلموں کی ہوتی ہے کام کاج اور روزگار کی تلاش میں مقبوضہ کشمیر میں وارد ہوتے ہیں مگر کبھی بھی اور کہیں بھی کسی ایک متنفس کے ساتھ فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی زیادتی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اس کے برعکس ہندو انتہا پسند لیڈر یوگی ادتیہ ناتھ کی ریاست اُترپردیش سمیت کئی ریاستوں میں کشمیری طلاب کے ساتھ زیادتیوں کے معاملات برابر سامنے آرہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دائیں بازوں کے عناصر کشمیریوں کے خلاف ماحول برپا کرنے کے لئے تواتر کے ساتھ ہاتھ پیر مار رہے ہیں تاکہ آنے والے انتخابات میں ان سے فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ یوگی ادیتہ ناتھ کی اس ہرزہ سرائی کے خلاف جہاں مقبوضہ کشمیر کے مین اسٹریم اور مزاحمتی خیموں کی جانب سے زبردست ردعمل سامنے آرہا ہے، وہیں کشمیر کی موجودہ گورنر انتظامیہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر کے باہر کشمیر کے خلاف بے بنیاد باتیں پھیلانے والی ان کوششوں کا ہر ممکن طریقے سے تدارک کریں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی خاتون پاکستانی لڑکے کی محبت میں سیالکوٹ پہنچ گئی

سیالکوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں ہزاروں میل دور بسنے ...