جمعرات , 15 نومبر 2018

شرپسندوں کیخلاف ریاست کارروائی کرے

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

دین ِمبین کی تعلیمات بڑی واضح ہیں۔ اخوت، ہمدردی، بھائی چارہ، ایک دوسرے کا احترام، معاشرتی سطح پر عدل و انصاف۔ دنیا کے تمام مذاہب کی تعلیمات کا مرکزی نقطہ اخلاقیاتِ عالی کی تعلیمات ہیں۔ عبادات بندے اور خدا کا براہ ِ راست معاملہ ہے۔ یہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ہی بتایا کہ اللہ ایک ہے اور اسی کے سامنے جھکنا ہے۔ بخدا حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ قیامت تک کے انسانوں نے اب قرآن مجید اور رسالت مآبﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ہی ہدایت حاصل کرنی ہے۔ دین ِاسلام ہر سطح پر، ہر طرح کی بد زبانی، بد کلامی اور انتہاء پسندی و شرپسندی کی ممانعت کرتا ہے۔

گذشتہ دنوں ملک میں اس وقت ایک تکلیف دہ اور ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی، جب سپریم کورٹ نے توہین ِ رسالت ﷺ کے کیس میں، مسیح خاتون آسیہ بی بی کو بری کر دیا۔ یہ وہی آسیہ بی بی ہیں، جن کے کیس پر پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ پولیس کانسٹیبل ممتاز قادری نے اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں قتل کر دیا تھا، کیونکہ سلمان تاثیر نے اس وقت جبکہ پیپلز پارٹی کی مرکز میں حکومت تھی، ملک میں توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے کی بات کرتے ہوئے اسے کالا قانون کہا تھا، جس پر مذہبی حلقوں نے شدید احتجاج کیا اور سلمان تاثیر کے خلاف تقاریر کی تھیں۔ انہی تقاریر کے زیر اثر ممتاز قادری نے مذہبی جذبات میں آکر سلمان تاثیر کو قتل کر دیا تھا۔ بعد میں ریاست نے ریاستی قوانین کی رو سے مقدمہ چلا کر ممتاز قادری کو پھانسی دے دی تھی۔ ممتاز قادری کی پھانسی پر بھی مذہبی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ان دو واقعات سے پہلے نہ تو کسی نے "تحریک لبیک پاکستان” کا نام سنا تھا نہ ہی مولوی خادم رضوی کا۔ ختم نبوت کے معاملے پر میرا ایمان اور جذبات بھی وہی ہیں، جو دیگر مسلمانوں کے ہیں۔ لیکن مذہب کی آڑ میں ریاست کے مقابل ایک نئی قوت کے طور پر سامنے آنا اور اعلیٰ اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف جذبات کی رو میں بہہ کر قتل کے فتاویٰ جاری کرنا اصل میں سماج کے اندر انارکی پھیلانے کا سبب اور مولویانہ قوت کے اظہار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ریاست ایک مدت سے، یعنی کوئی لگ بھگ چار عشروں سے مسلسل مختلف طرح کی انتہا پسندی سے نبرد آزما ہے، بلکہ پاک فوج تو کم و بیش 17 سال سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عملی طور پر شریک بھی ہے۔ سماج بڑھتی ہوئی یا دانستہ کسی مقصد کی خاطر، بڑھائی گئی انتہا پسندی کی قیمت ادا کرتا چلا آرہا ہے۔ خبر نہیں مزید کتنا عرصہ معاشرہ اس دلدل میں پھنسا رہے گا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاستوں کی بقا کے لئے قوانین اور ادارے ہوتے ہیں۔ ان اداروں کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اسی طرح شہریوں کی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ قانون کو بہرحال بروئے کار آنا ہی ہوتا ہے، بہ صورت دیگر جس کے پاس آٹھ دس ہزار کا مسلح یا نیم مسلح لشکر ہوگا وہ خود کو "دینی کمانڈر” سمجھنے لگے گا۔ اس رویئے کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلتا ہے۔ اس کی مثال افغانستان ہے۔ جہاں روس کی واپسی کے بعد "دینی کمانڈروں” نے مرکزی حکومت کو ترجیح دینے کے بجائے غیر اعلانیہ طور پر اپنے اپنے علاقے بانٹ لئے تھے۔ نتیجے میں افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور ابھی تک بھگت رہا ہے۔ آسیہ بی بی کو عدالت عظمیٰ نے رہائی کا حکم دیا تو تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں نے لاہور، فیض آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں دھرنے دے دیئے۔ ان دھرنوں میں "عاشقان” نے گدھے ریڑھی والوں سے کیلے بھی چھینے، گاڑیاں اور موٹر سائیکل بھی جلائے اور "عاشقان” کے قائدین نے فتاویٰ بھی جاری کئے۔

حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور ہوئے۔ پہلے پہل تو "قائدین” کے مطالبات آسمان سے باتیں کر رہے تھے اور آخر کار پانچ چھ نکاتی ایک معاہدہ حکومت اور دھرنا مذاکرات کے درمیان ہو ہی گیا۔ معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ تحریک کے گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، جبکہ یہی قائدین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جلائو گھیرائو کرنے والوں سے ہمارا یا ہماری تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ سوال یہی ہے کہ جب ان کا آپ کی تحریک یا آپ سے تعلق ہی نہیں تو آپ ان کی گرفتاری پر اس قدر پریشان کیوں ہیں۔؟ تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے اٹھارہ سو سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں۔ دو تین بڑے ” قائدین” کے خلاف تو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد "سیل” بھی کر دی گئی۔ ریاست نے اب اگر قدم اٹھایا ہی ہے تو پھر ادھورا کام مت کرے۔ قانون و آئین کی حکمرانی کے لئے گاہے سختی کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

احتجاج یا دھرنا ہر شہری کا حق ہے، مگر ان دھرنوں، احتجاج یا مذہب کی آڑ میں دوسرے شہریوں کا راستہ روکنا، انھیں اذیت دینا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور اسے اپنی "فتح” کا رنگ دینا، ریاست کے اندر ہی متوازی ریاست کے تصور کو ابھارتا ہے۔ حکومت یا تو بالکل ہی اس معاملے کو نہ چھیڑے، لیکن اگر مقدمات درج کرنے شروع ہی کئے ہیں تو پھر ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائے اور ریاست و اداروں کے خلاف جذبات ابھارنے والوں سے بھی حساب برابر کرے، تاکہ آئندہ کوئی بھی تنظیم یا گروہ، چار چھ سو بندے لے کر ریاست پر دبائو بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے سماجی حیات کو تہ و بالا نہ کرے۔ ریاست میں قانون ہے اور گستاخی کرنے والے کے لئے سزا کا تعین بھی۔ کسی بھی ٹولے یا گروہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنا اصل میں جرم ہے، جس کی سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پرامن شہریوں کی آبرو، جان و مال کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری میں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب، توازن پوری طرح بدل گئے

غزہ اور اسرائیل کے درمیاں تصادم بڑھ گیا ہے ۔ اسرائیل کے تحریک آمیز اقدامات ...