جمعرات , 15 نومبر 2018

ایران پر تازہ امریکی پابندیاں

(تحریر: سید اسد عباس)
امریکہ کی جانب سے پانچ جمع ایک کے نیوکلیائی معاہدے سے یک طرفہ اور بے جا فرار کے بعد معاشی دھونس کا آغاز ہوا اور امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیوں کا اطلاق کر دیا۔ مئی کے مہینے میں لگائی گئی پابندیوں میں کرنسی، فضائی صنعت، گاڑیوں کی صنعت، سونے کے لین دین، پستہ کے کاروبار اور قالین بافی کی صنعت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ 5 نومبر سے ایران پر امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے، ان پابندیوں کے تحت ایران اپنا تیل عالمی منڈیوں میں فروخت نہیں کرسکتا، اسی طرح جہازرانی، بحری جہاز بنانے کی صنعت، مالیات اور توانائی کے دیگر شعبے بھی ان پابندیوں کے زیر اثر آئے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی کمپنی یا ادارہ جو ایران سے تجارت کرے گا، امریکہ پابندیوں کے تحت امریکہ سے تجارت نہیں کرسکے گا۔ یہ صورتحال بہت سے ایسے اداروں کے لئے مشکلات پیدا کرتی ہے، جو عالمی سطح پر بالخصوص امریکہ میں تجارت کے حامل ہیں۔

ایرانی معیشت کا بڑا حصہ تیل اور اس سے بننے والی مصنوعات کی آمدن پر ہی انحصار کرتا ہے۔ تیل کی فروخت کے حوالے سے آٹھ ممالک کو چھوٹ دی گئی ہے، جن میں چین، ترکی، ہندوستان، جاپان، یونان اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ یہ چھوٹ دینے کا مقصد تیل کی قیمت کو مستحکم رکھنا ہے، کیونکہ اگر عالمی منڈی سے ایرانی تیل فوری طور پر ختم کر دیا جائے تو اس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم تیل کے شعبے میں ایران پر پابندیوں کا اطلاق آہستہ آہستہ کریں گے اور ایسا ایران کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لئے کیا گیا ہے۔

امریکی سیکریڑی خارجہ کا کہنا ہے کہ مئی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں کے اعلان کے بعد سے ایران کا ایک ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ سے کم ہوا ہے، جس سے ایران کو زرمبادلہ میں 2.5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پومپیو کے مطابق ہم ایران کے اس زر مبادلہ کو صفر پر لانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم امریکہ کی یہ کوشش فوری طور پر کامیاب نہ ہوئی اور مئی میں پابندیوں کے اعلان کے بعد ایک دم تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس سے یقیناً دنیا کی تمام معیشتوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آج یہی وجہ ہے کہ امریکہ مجبور ہوا کہ آٹھ ممالک کو ایرانی تیل کی خریداری کے حوالے سے استثناء دے۔ چین نے تو تمام تر اقتصادی روابط کو قائم رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ چین کے مطابق ایران سے تعلقات عالمی قوانین کے تحت رکھے جا رہے ہیں۔

یورپی یونین نے بھی ایران سے تجارت کے لئے ادائیگیوں کا ایک خصوصی نظام تشکیل دیا ہے، جس کا اعلان 24 ستمبر کو کیا گیا۔ ایس پی وی کے نام سے متعارف کردہ یہ نظام یورپی ممالک کی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تجارت کے لئے مواقع اور ادائیگیوں کا نظام مہیا کرے گا۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اگر یورپ کی کوئی کمپنی ایران سے تیل یا کوئی اور چیز خریدے گی تو وہ اپنی رقم اس ایس پی وی میں جمع کروائے گی اور ایران ایس پی وی میں موجود اس رقم کے ذریعے یورپ میں اپنی مطلوبہ اشیاء خرید سکے گا، یوں ان دونوں کو عالمی ادائیگیوں کے نظام کی ضرورت نہیں رہے گی اور براہ راست کاروبار کے نتیجے میں یورپی کمپنیاں اور تاجر امریکی پابندیوں کا شکار بھی نہیں ہوں گے۔ یورپ کی جانب سے ادائیگی کا یہ وضع کردہ نظام بھی ٹرمپ کے اعلان کے خلاف ایک بغاوت ہے اور ایران کی فتح ہے۔ یورپ کی وہ کمپنیاں جو امریکہ میں کاروبار نہیں کرتی ہیں، وہ پہلے ہی ان پابندیوں سے آزاد ہیں۔

ایران نے تیل پر پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی سٹاک مارکیٹ کے ذریعے تیل کی فروخت پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، اس سلسلے میں 74.68 ڈالر فی بیرل کے حساب سے خام تیل فروخت کیا گیا۔ تجارت کے پہلے روز ہی ایران نے سٹاک ایکسچینج میں دو لاکھ سے زیادہ بیرل خام تیل فروخت کیا، جو ملک میں موجود خریدار نیز بیرون ملک کے خریدار خرید سکتے ہیں اور اسی تیل کو ماخذ کے اظہار کے بغیر عالمی مارکیٹ میں بیچ سکتے ہیں۔ تہران میں پابندیوں سے نمٹنے کے ماہر محمد اسلامی کے مطابق ایران تازہ امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے لئے اور بھی اقدامات کر رہا ہے، تاہم ہم ان اقدامات کو فی الحال ظاہر نہیں کرنا چاہتے، تاکہ ان کا سدباب ممکن نہ ہو۔

روس جسے ایران پر پابندیوں کے حوالے سے کوئی استثناء نہیں دیا گیا، نے ان پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور چین و روس مل کر ان پابندیوں سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ چین اور روس بھی امریکی پابندیوں کا شکار ہیں اور ان پابندیوں کا حل نکالنے کے لئے ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں کاروبار کو فروغ دیا جارہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان اور چین کے مابین ہونے والے معاہدوں کو بھی مقامی کرنسی میں کرنے کا معاہدہ طے پایا ہے، جو اس بات کا آئینہ دار ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ڈالر کے تسلط کے خاتمے کا آغاز ہوچکا ہے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمیں عجیب نہیں لگے گا کہ ایران ان پابندیوں سے بچ نکلے، تاہم ہم ان پابندیوں کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد کے لئے اپنی بھرپور توانائی صرف کریں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو موجودہ پابندیوں کے لئے وہ عالمی حمایت حاصل نہیں ہے، جو اس طرح کی پابندیوں کے نتائج کو حاصل کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے، جس کے سبب بہت جلد یہ پابندیاں اپنی طاقت اور قوت کھو دیں گی۔ ایرانی قیادت بھی پرعزم ہے کہ ہم ان پابندیوں کا مقابلہ کریں گے اور اس مرتبہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ ان پابندیوں کے اطلاق میں تنہا ہے اور اسے اپنے یورپی اتحادیوں کی پہلے جیسی حمایت حاصل نہیں ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی کمی کو پورا کرنے اور تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے امریکہ نے خود تیل کی پیداوار بڑھائی ہے اور سعودیہ سے تیل کی پیداوار کو بڑھانے کا کہا ہے، تاہم اگر روس، ایران ،وینیزویلا، عراق اور قطر مل کر یا ان میں سے چند کسی معاہدے کے تحت تیل کی پیداوار کو گھٹائیں تو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت امریکہ کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لئے کافی ہو گی۔ پھر ٹرمپ بہادر شاید کبھی اقتصادی پابندی کا نام بھی نہ لیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی خاتون پاکستانی لڑکے کی محبت میں سیالکوٹ پہنچ گئی

سیالکوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں ہزاروں میل دور بسنے ...