ہفتہ , 15 دسمبر 2018

فلاحی منصوبے اور آئی ایم ایف کا چنگل

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)
پاکستان اس وقت بدترین مشکلات کا شکار ہے، حکومت سے پالیسیاں نہیں بنائی جا رہیں اور نہ ہی پالیسیاں بنانے والی حکومت کے پاس کوئی ٹیم ہے۔ یہ بات حکومت، اپوزیشن، دانشور اور میڈیا سب کہہ رہے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان نے غربت کے خاتمے کے لئے ایک بڑے پیکج کا عندیہ دیا ہے، جس کا اعلان اگلے چند روز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کا اعلان اگلے روز لاہور میں بے گھر افراد کے لئے پناہ گاہ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کیا۔ بڑے شہروں میں بے گھر اور نادار لوگوں کے لئے جائے پناہ کی ضرورت تو یقیناً محسوس کی جاتی تھی، مگر حیران کن طور پر ماضی کی کسی حکومت نے ان سستے مگر ضروری منصوبوں کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا یہ منصوبہ اگلے وقتوں کی سراؤں کی یاد دلاتا ہے۔ لاہور سمیت کئی شہروں اور شاہراہوں پر پرانے دور کی اُن سراؤں کے آثار اب تک باقی ہیں۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں غریب مسافروں اور بے گھر افراد کی سہولت کے منصوبے ہمارے ہاں کی قدیم روایت ہے، جسے موجودہ حکومت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاہور میں اس قسم کے پانچ پناہ گھر تعمیر کئے جانے کا منصوبہ ہے، جبکہ پشاور اور کراچی میں بھی پناہ گھرتعمیر کئے جائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان شیلٹر ہومز کے انتظامات چلانے کے لئے ایک بورڈ آف گورنرز قائم کیا جائے گا۔ بے شک یہ منصوبہ سوسائٹی کے انتہائی غریب افراد کے لئے بڑی سہولت ثابت ہو سکتا ہے، مگر کچھ خدشات کا ذکر بھی ضروری ہو گا۔ حکومت یہ شیلٹرہومز تو اس نیت اور جذبے کے ساتھ تعمیر کرنے جا رہی ہے کہ بے آسرا افراد کو پناہ گاہ مل سکے، مگر یہ طے کرنا ضروری ہے کہ فٹ پاتھوں، پارکوں، بازاروں اور مزاروں کے گردو نواح میں راتیں بسر کرنے والے کتنے لوگ واقعی چھت سے محروم ہیں اور کتنے ایسے ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی نفسیاتی یا سماجی مسئلے کے باعث اس طرح کی زندگی کو اختیار کر رکھا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پناہ گاہوں کی تعمیر خانہ بدوشی اور گھر چھوڑ کر بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے کی حوصلہ افزائی کا سبب بن جائے۔ اس لئے ضروری ہو گا کہ ان پناہ گاہوں میں رہائش حاصل کرنے کے لئے قواعدو ضوابط متعین کئے جائیں۔ غربت سے نمٹنے میں چین ان دنوں وزیر اعظم کا آئیڈیل ہے۔ 30 برسوں میں 7 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنا بلاشبہ ایسا عظیم اور قابل قدر کارنامہ ہے کہ اس سے متاثر ہوئے بغیر رہا نہیں جا سکتا، مگرچین سے اس سلسلے میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت بھی ہے۔

چین میں غربت کے خاتمے کے لئے لوگوں کو مفت کھانا اور رہائش نہیں دی گئی بلکہ انہیں تعلیم دی گئی اور ہنر سکھائے گئے، جس کے بعد کام کے مواقع، اس طرح آمدنی شروع ہونے سے مفت رہائش اور کھانا کسی کے لئے مسئلہ ہی نہیں رہا۔ چین کی مچھلی اور کانٹے والی حکایت تو ہم نے سن ہی رکھی ہے کہ ہم اپنے دوست کو ایک مچھلی دیں تو اس کا ایک دن پیٹ بھرے گا اور اگر مچھلی پکڑنے کا فن اسے سکھا دیں تو وہ ہمیشہ کے لئے خود انحصار ہو جائے گا۔ ہمارے ملک میں بھی کچھ اسی قسم کی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ باہر سے بڑے شہروں میں مزدوری کی غرض سے آنے والے افراد اگر سڑکوں پر سونے کے لئے مجبور ہیں تو محض اس لئے کہ انہیں کئی کئی روز کام نہیں ملتا، جس کی وجہ سے وہ رہائش اور خوراک کے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ حکومت اگر ان مزدوروں کی رجسٹریشن کا کوئی ایسا منصوبہ شروع کرے جس سے مزدوروں کو کام حاصل کرنے میں آسانی ہو‘ تو پناہ گاہیں اور مفت روٹی فراہم کرنے سے یہ کہیں مفید اقدام ہو سکتا ہے۔

اسی طرح خانہ بدوش بذات خود بڑے ہنر مند لوگ ہوتے ہیں، مگر فنون کے اظہار کے مواقع کی عدم دستیابی نے انہیں بھیک مانگنے تک محدود کر دیا ہے، کیوں نہ ان قبیلوں کو ان کے روایتی فنون کے اظہار کے مواقع فراہم کئے جائیں، تاکہ ان کی عزت ِ نفس میں اضافہ ہو اوروہ مفید شہری کی صورت میں سماج میں نمایاں بھی ہوں۔ دوسری طرف پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہونے کے بعد پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز آج سے ہوگا، جو 20نومبر تک جاری رہیں گے۔ فلاحی ریاست کے نعروں کیساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی تجاویز پر حکومت عوام کی مالی مشکلات بڑھانے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے عہدیداروں کے ستمبر اور اکتوبر کے دورے کے دوران بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز پر حکومت نے من و عن عمل کیا اور اب یہ خدشات ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 15روپے اضافہ کر دیا جائے گا۔ یہ اضافہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس اہداف پورے نہ کئے جانے کی وجہ سے حکومتی آمدنی میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لئے کیا جائے گا۔

رواں مالی سال کے لئے وفاقی حکومت نے ٹیکس وصولی کا ہدف 4400 ارب روپے مقرر کیا تھا، مگر مالی سال کے چار ماہ گزرنے کے باوجود ایک ہزار ارب روپے ہی جمع کئے جا سکے ہیں۔ تاہم حکومتی ریونیو اگر کم ہوا ہے، تو اس کے اسباب بھی ظاہر ہیں کہ صنعت کساد بازاری کا شکار ہے، جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بڑے تعمیراتی منصوبوں پر کام ٹھپ پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوں ہر منصوبے کے ساتھ جڑی ذیلی صنعتوں میں بھی کام کی رفتار وہ نہیں جو کچھ عرصہ پہلے تھی۔ مجموعی طور پر معیشت شدید بحران سے گزر رہی ہے اور لوگوں کی قوت خرید میں واضح کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر ڈیموں کی تعمیر، ہاوسنگ اسکیم اور بلین ٹری منصوبوں کے فائدہ تمام شہریوں کو ہی ہوگا، لیکن اس صورتحال میں اگر محصولات کا مبالغہ آمیز ہدف رکھ لیا جائے اور وہ پورا نہ ہو تو اس میں حیرت کیسی؟ مگر اس مبالغہ آمیز ہدف میں ناکامی کا بدلا بیچارے عوام سے لینے کا بھلا کیا جواز ہے؟ کیا اس قسم کے فیصلے حکومت کی مقبولیت کی دلیل ہو سکتے ہیں؟ حکمرانوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

 

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...