ہفتہ , 15 دسمبر 2018

یمن جنگ کے تین فیصلہ کن ہفتے

(تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی)
یمن کی موجودہ صورتحال مغربی عربی محاذ کی جانب سے حدیدہ بندرگاہ پر قبضے کی سرتوڑ کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔ پانچ دن پہلے امریکی وزیر دفاع نے یمن جنگ ختم کرنے کیلئے تیس دن کی مہلت دی اور اسی دن سے سعودی عرب کی سربراہی میں فوجی اتحاد کی جانب سے حدیدہ بندرگاہ پر قبضے کی بھرپور کوششوں کا آغاز ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ، فرانس اور برطانیہ بظاہر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یمن جنگ ختم ہونے کا وقت آن پہنچا ہے لیکن دوسری طرف سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن گریفتھ نے یمن سے متعلق امن مذاکرات کی پہلی نشست کی تاریخ ملتوی کر دی ہے اور نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا۔ درحقیقت اس نے حدیدہ پر عرب فوجی اتحاد کے نئے حملے کے نتائج سامنے آنے کا انتظار کیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں جس چیز کا بہت زیادہ امکان پایا جاتا ہے اور آئندہ تین ہفتے تک مسلسل جاری رہنے کا بھی بہت زیادہ امکان ہے وہ مظلوم یمنی عوام کے خلاف غیرانسانی مجرمانہ اقدامات میں اضافہ ہے۔

دوسری طرف امریکی اور سعودی حکام حدیدہ بندرگاہ پر قبضے کی غرض سے شروع کئے گئے نئے حملوں کی کامیابی کے بارے میں شک و تردید کا شکار ہیں۔ امریکہ نہ صرف مظلوم یمنی عوام کے خلاف جاری مجرمانہ اقدامات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جرم میں برابر کا شریک ہے بلکہ ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ کی کمان درحقیقت امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ امریکہ نے چند دن پہلے سے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ اس نے یمن میں عام شہریوں کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہوائی حملوں کی وجہ سے ان کے جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنا بند کر دیا ہے۔ اس سے چند ہفتے پہلے ریپبلکنز کا حامی تصور کئے جانے والے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے سعودی اور اماراتی جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنا بند کر دیا ہے لیکن انصاراللہ یمن کے رہنما محمد علی الحوثی نے اسی اخبار میں دو دن پہلے شائع ہونے والے اپنے مقالے میں اس کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی ایئرفورس اب بھی یمن کی فضائی حدود میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے میں مصروف ہے۔

البتہ یہ پہلی بار نہیں کہ وزیر دفاع کی سطح کا ایک اعلی سطحی امریکی عہدیدار اس حقیقت کا اعتراف کر رہا ہے کہ یمن کے خلاف ظالمانہ جنگ میں وہ جارح جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس ایندھن فراہم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکی فوج سرکاری سطح پر مظلوم یمنی عوام کے سروں پر گرائے جانے والے بموں کی پچاس فیصد ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔ ان روزانہ گرائے جانے والے بموں کی تعداد اب تک 2500 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر امریکہ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم نہ کرتا تو کم از کم متحدہ عرب امارات کے جنگی جہاز یمنی عوام کو ہوائی حملوں کا نشانہ نہ بنا سکتے۔ یہاں اس نکتے پر توجہ بھی ضروری ہے کہ جب امریکی حکام اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ یمن جنگ اختتام پذیر ہونی چاہئے اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے جارح جنگی طیاروں کو ایندھن کی فراہمی بند کر دی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے سے مایوس ہو چکے ہیں۔

امریکہ نے دو قسم کی اسٹریٹجی اپنا رکھی تھی۔ ایک "فیصلہ کن وار” اور دوسری "تعمیری انارکی” تھی۔ یمن کے خلاف جنگ کے ابتدائی مہینوں میں امریکی اور سعودی حکام نے فیصلہ کن وار کی باتیں کیں اور اپنے آپریشن کا نام "عاصفۃ الحزم” رکھا۔ انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک عبدالملک بدرالدین الحوثی اور اس کے ساتھیوں پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی لیکن ہر قسم کے مجرمانہ اقدامات انجام دینے میں کھلی چھٹی حاصل ہونے کے باوجود وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لہذا انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اپنے آپریشن کا نام تبدیل کر دیا اور "اعادۃ الامل” نام رکھ دیا جس کا مطلب امید کو واپس لوٹانا ہے۔ امریکہ اور سعودی اتحاد نے اس حکمت عملی کے تحت یمن کے دارالحکومت، بڑی بڑی شاہراہوں اور انصاراللہ یمن کے زیر کنٹرول اصلی علاقوں جیسے شمالی صوبوں پر قبضے کی کوشش کی تاکہ اس طرح اپنی حمایت یافتہ فورسز اور اتحادی ممالک میں امید کی کرن واپس لوٹا سکیں۔ لیکن تقریباً اڑھائی برس گزر جانے کے بعد بھی انہیں کوئی خاطرخواہ کامیابی نصیب نہیں ہو سکی۔ آخرکار سعودی اور اماراتی حکام اور ان کے مغربی سرپرست ممالک نے یمن کے مسائل مذاکرات کی میز پر حل کرنے کی پیشکش کی۔ دارالحکومت پر قبضے سے مایوس ہو کر سعودی اتحاد نے یمن کے مغربی علاقوں خاص طور پر حدیدہ بندرگاہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔

سعودی اتحاد نے امریکہ، فرانس اور برطانوی فوج کی مدد سے 16 جون کو ہوا، زمین اور سمندر سے حدیدہ بندرگاہ پر بھرپور حملے کا آغاز کر دیا۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری بیان کی روشنی میں یہ حملہ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے اندر اندر مکمل ہونا تھا لیکن اب تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس آپریشن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور امریکی، برطانوی اور فرانسیسی نیوی اور ایئرفورس کی بھرپور مدد کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فورسز اس بندرگاہ پر قبضہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا سعودی حکومت خطے میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے اور اہم ایشوز میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح یمن کے خلاف سعودی اماراتی جنگ میں ان کے اصلی حامی ممالک جیسے امریکہ، فرانس اور برطانیہ میں بھی یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ سعودی حکومت اپنے "ڈرٹی آپریشنز” کے باعث خطے میں مغربی پالیسیوں اور منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دے گی۔

دوسری طرف امریکی حکام کی "تعمیری انارکی” پر مبنی اسٹریٹجی کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اس حکمت عملی کی رو سے دشمن کے علاقے میں بدامنی اور انارکی آخرکار ایسے حالات پیدا کر سکتی ہے جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی حامی قوتیں ملک کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔ اس حکمت عملی کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں بہت کم اخراجات کی ضرورت ہے۔ یمن کے خلاف جنگ کے آغاز پر سعودی اور امریکی حکام کا تصور تھا کہ جنگ کا منطقی نتیجہ یمن کے اندر بدامنی اور انارکی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ لہذا سعودی حکام نے یمن میں تفرقہ پھیلانے اور یمنیوں کو آپس میں لڑوانے کی بھرپور کوشش کی۔ منصور ہادی کا منصوبہ اور دارالحکومت صنعاء کے مقابلے میں عدن میں ایک دوسری حکومت قائم کرنے کا اصل مقصد ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔ لیکن عدن میں حکومت چل نہیں سکی اور آخر میں تو وہ خود ہی اس حکومت کی مخالفت کرنے لگے۔ امریکہ اور سعودی عرب یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ملک میں انارکی پیدا ہونے کے نتیجے میں مختلف یمنی گروہ آپس میں الجھ جائیں گے اور یمن میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور آخرکار یمنی عوام تنگ آ کر خود ہی امریکہ اور سعودی عرب سے مداخلت کی درخواست کریں گے۔

امریکہ اور سعودی عرب تصور کرتے تھے کہ ایک طرف انصاراللہ یمن اور عبداللہ صالح کی فورسز کے درمیان جنگ شروع ہو جائے گی اور دوسری طرف انصاراللہ یمن اور اصلاح پارٹی کے درمیان بھی ٹکراو شروع ہو جائے گا جس کا نتیجہ یمن میں بھرپور خانہ جنگی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس مقصد کیلئے امریکہ اور سعودی عرب نے حسن باووم کی سادہ لوحی اور لالچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے مذاکرات کئے اور اسے جنوبی یمن میں خودمختار حکومت تشکیل دینے کا لالچ دیا۔ بدلے میں اس سے مطالبہ کیا کہ وہ حدیدہ بندرگاہ کے خلاف آپریشن میں شریک ہو۔ اب بھی سعودی حکام کا یہ تصور ہے کہ حدیدہ پر ہوائی حملوں کی شدت میں اضافہ کر کے وہ عوام کی بڑی تعداد کو شمال خاص طور پر دارالحکومت صنعاء کی جانب نقل مکانی پر مجبور کر سکتے ہیں تاکہ دارالحکومت میں انصاراللہ یمن کا کنٹرول ختم کیا جا سکے۔ یمن کے مغرب میں زیادہ آبادی سنی مسلمانوں کی ہے لہذا سعودی عرب کی جانب سے حدیدہ کو نشانہ بنانے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ سنی آبادی کو شمال کی طرف دھکیل دیا جائے جہاں شیعہ آبادی زیادہ ہے اور انصاراللہ یمن کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ امریکی اور سعودی سازش بھی ناکام ہو چکی ہے۔ انصاراللہ یمن اور اصلاح پارٹی کے درمیان جھڑپوں نے شدت اختیار نہیں کی۔ بلکہ سعودی حکام کی جانب سے اخوان المسلمین کے خلاف شدید موقف اختیار کئے جانے کے بعد یمن کی اصلاح پارٹی بھی سعودی عرب سے دور ہو گئی ہے اور اس وقت انصاراللہ یمن کے ساتھ تعاون کرنے میں مصروف ہے۔ حسن باووم نے بھی اپنی فوجیں حدیدہ سے واپس بلا لی ہیں جو ایک اندازے کے مطابق دو بریگیڈز پر مشتمل تھیں۔ حال ہی میں اس نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے حکام کے دھوکے کا شکار ہو گیا تھا۔ لہذا یمن میں انارکی نہیں پھیل سکی اور ملک کے شمالی علاقے جہاں تین چوتھائی آبادی مقیم ہے پرسکون ہیں اور امن و امان کی صورتحال ہے۔ روز بروز انصاراللہ یمن کی محبوبیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ یہ شکست امریکہ، سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادی ممالک کو مزید مجرمانہ اور غیرانسانی اقدامات انجام دینے سے روک دے گی۔ آئندہ تین ہفتے بہت اہم اور فیصلہ کن ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس دوران سعودی اتحاد کی جانب سے شدید جنگی جرائم انجام پائیں گے جن کے ناگوار اثرات اگلے کئی سالوں تک باقی رہیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...