ہفتہ , 15 دسمبر 2018

جمال خاشقجی، آزادی اسٹیڈیم اور بالفطرہ جھوٹے

(بقلم: س۔ ع۔ حسینی عارف)
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

بنی سعود کا دعوی ہے کہ ایران میں امن نہیں ہے! اس بنی سعودی دعوے کی بنیاد پر انھوں نے چند برسوں سے ایرانی فوٹبال کو بعض میچوں کی ميزبانی سے محروم کردیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حتی کہ اپنے ہی ملک کے باشندے کی لاش تک پر رحم نہیں کیا۔

1۔ پہلا پردہ
"جمال خاشقجی” سعودی شہری ہے، انہیں بیرون ملک مقیم تمام سعودی شہریوں کی طرح اپنے دفتری کاموں کے لئے اپنے ملک کے قونصلیٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ وہ روز منگل مورخہ 2 اکتوبر 2018ع‍ کو وہاں پہنچتے ہیں لیکن اس مقام پر (جو کہ اس کے وطن کی مٹی کے زمرے میں آتا ہے) بنی سعود کے گماشتے انہیں قتل کردیتے ہیں، ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے سوٹ کیسوں میں بھر دیتے ہیں اور پھر تیزاب کے ذریعے صفحہ ہستی سے محو کردیتے ہیں!

2۔ دوسرا پردہ
تہران، آزادی اسٹیڈیم، ایران کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے۔ روز ہفتہ مورخہ 10 نومبر 2018ع‍ کو اس اسٹیڈیم میں ایشین فوٹبال چیمپینز لیگ کا فائنل میچ کھیلا جاتا ہے اور متعدد ایشیائی ممالک کی اعلی شخصیات میچ دیکھنے کے لئے آزادی اسٹیڈیم میں حاضر ہوتی ہیں اور آزادی اسٹیڈیم در حقیقت ان شخصیات کی میزبانی کی ذمہ داری بطور احسن سرانجام دیتا ہے۔ اس میچ میں ایرانی ٹیم اپنے ایک لاکھ جذباتی طرفداروں کی موجودگی میں ایشین کپ حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے لیکن کسی قسم کا کوئی حادثہ رونما نہیں ہوتا۔ جاپانی ٹیم ایرانیوں سے داد وصول کرتے ہوئے چیمپئن شپ کا جشن منا لیتی ہے اور ایرانیوں کی مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے ہوئے حاصل کردہ کپ اور انعامات کے مزے لیتی ہے۔ عالمی شخصیات بھی مکمل امن و سکون میں، اچھی اچھی یادیں لے کر، اسلامی جمہوریہ ایران سے اپنے ملکوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ دو روز بعد، ایشین فوٹبال کنفیڈریشن کے سیکریٹری جنرل، ایرانی فوٹبال فیڈریشن کو خط لکھ کر ایران کی اعلی میزبانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

3۔ تیسرا پردہ
بنی سعود کا دعوی ہے کہ ایران میں امن نہیں ہے! اس بنی سعودی دعوے کی بنیاد پر انھوں نے چند برسوں سے ایرانی فوٹبال کو بعض میچوں کی ميزبانی سے محروم کردیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حتی کہ اپنے ہی ملک کے باشندے کی لاش تک پر رحم نہیں کیا چہ جائیکہ عراق، شام، بحرین اور یمن کے عوام پر۔

*دلچسپ نتیجہ
کہنہ مشق امریکی سینیٹر "برنی سینڈرز Bernie Sanders” کہتا ہے: امریکی صدر فطری طور پر جھوٹے ہیں۔
وہ سچ بولتے ہیں: لیکن انہیں "ٹرمپ” اور "بنی سعود” کے ساتھ کچھ دوسروں کے نام بھی بالفطرہ جھوٹوں کی فہرست میں درج کرنا پڑیں گے؛ منجملہ اپنے ملک کے وزیر خارجہ "مائک پمپئو” کا نام، جو ایران کو یمن کی ویرانی کا سبب اور لاکھوں یمنیوں کے قاتل، لاکھوں کو بے گھر کرنے والے اور لاکھوں کو بھوکوں مارنے والے بنی سعود کو اس ملک کا نجات دہندہ قرار دیتے ہیں!! گوکہ ہمیں یقین ہے کہ بالفطرہ جھوٹوں کا جھوٹ آخرکار ان کی اپنی رسوائی کا سبب بنے گا۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...