ہفتہ , 15 دسمبر 2018

چنیوٹ کے سادہ لوح دیوبندی اور امام مسجد کی دہشتگردی

(تحریر: ابو فجر لاہوری)
چنیوٹ کے نواحی چک 136 کے مکین دیوبندی مکتبِ فکر کے افراد اس بات پر پریشان ہیں کہ ایک شیعہ خاتون کا جنازہ پڑھنے پر ان کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں اور تجدیدِ نکاح کیلئے وہ عدت پوری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں عدت پوری ہونے تک وہ نامحرم کیساتھ مقیم ہونے پر بھی گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق چنیوٹ کے نواحی چک 136 میں ایک شیعہ خاتون کا انتقال ہوا، جس میں علاقے کے رسم و رواج کے مطابق تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ جب دیوبندی مسلک کے امام مسجد میاں خالد بشیر کو پتہ چلا کہ اس کے مقتدیوں نے بھی جنازے میں شرکت کی ہے تو اُنہوں نے نہ صرف نکاح ٹوٹنے کا اعلان کیا بلکہ کسی ’’مفتی اعظم‘‘ کا فتویٰ بھی لا پیش کیا، جس سے سادہ لوح دیہاتی پریشانی کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ نکاح پہلی بار نہیں ٹوٹا بلکہ یہ تیسری مرتبہ ہے، اس سے قبل بھی دو بار اسی ’’گناہ‘‘ کے ارتکاب پر دیوبندی حضرات کے نکاح ٹوٹ چکے ہیں اور اب تیسری بار نکاح ٹوٹنے پر لوگ پریشان ہیں۔ یہ نکاح تو نہ ہوا کمہار کا کچا کھڑا ہوا، جو بار بار کی ٹھوکر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ میاں خالد بشیر اب خود تو غائب ہے جبکہ لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔

پاکستان میں مذہب کو تو موم کی ناک بنا دیا گیا ہے۔ نکاح ٹوٹنے کے اس نظریہ کو 80ء کی دہائی میں فروغ ملا جب جھنگ سمیت پورے ملک میں کالعدم جماعت ’’سپاہ صحابہ‘‘ نے عروج پکڑا اور مولانا حق نواز جھنگوی نے ’’کافر کافر‘‘ کا نعرہ اتنا پھیلایا کہ ملک بھر میں یہ صدائیں بلند ہوئیں اور اس لہر کا اہلسنت بریلوی بھی شکار ہونے لگے۔ کافر کافر کی گردان اس تواتر کیساتھ شروع کی گئی کہ بریلوی بھی اہل تشیع کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے اور قریب تھا کہ پورا پاکستان ہی اہل تشیع کو کافر ڈیکلیئر کر دیتا، مگر ذمہ دار اہلسنت و اہل تشیع علماء نے کردار ادا کیا اور معاملہ وہیں تھم گیا۔ تکفیریت کی اس لہر میں پاکستان نے بہت قربانیاں دیں۔ انتہائی لائق ڈاکٹرز، پروفیسرز، سائنسدان، بیوروکریٹس، علمائے کرام اور نوجوان ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ ملک میں اہل تشیع کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا گیا، اس کے بعد درباروں اور مزاروں کی باری آئی۔ جہاں بم دھماکے کئے گئے۔ اہلسنت بیدار ہوئے اور اہل تشیع کیساتھ مل کر تکفیریت کے سامنے بند باندھا، جس سے یہ بلا ٹلی۔ رہی سہی کسر نیشنل ایکشن پلان نے پوری کی اور یوں دہشتگردوں کیلئے پاکستان کی زمین تنگ ہوئی، مگر اب بھی کچھ دہشتگرد مولوی خالد بشیر کے روپ میں مساجد میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

مولوی خالد بشیر کا یہ نظریہ کیا محض ایک مولوی کی سوچ ہے یا ایک پورا گروہ ہے، جو ایسی سوچ رکھتا ہے؟ یہ سوچ رکھنا بھی پاکستانی قانون کے مطابق جرم ہے۔ قومی ایکشن پلان میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے، لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کو روکنے اور نفرت پر مبنی مواد پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 153 اے اور بی کے تحت اگر کوئی شخص اپنے زبان و بیان سے یا کسی حرکت سے عدم برداشت، دشمنی، مختلف مذاہب اور نسلوں کے درمیان نفرت کو ہوا دے یا ان کی عبادتگاہ، رہائش، کمیونٹی کو زبان یا کسی بھی دوسرے طریقے سے نقصان پہنچائے تو وہ قابلِ سزا جرم کا مرتکب قرار پائے گا۔ اس پاکستان پینل کوڈ کی رو سے مولوی خالد بشیر نے قابل گرفت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ضلع چنیوٹ کا ڈی پی او ابھی تک لاعلم ہے۔ یہ واقعہ 15 سے 20 روز پرانا ہے مگر ڈی پی او فرماتے ہیں کہ مجھے تو علم ہی نہیں اور نہ ہی مجھے کسی نے ایسی کوئی درخواست دی ہے۔ جہاں قانون کے رکھوالوں کے علم کی یہ حالت ہے، وہاں انہیں کروڑوں روپے کا بجٹ ڈکارنے والے پولیس کے شعبہ ’’سپیشل برانچ‘‘ بند کر دینا چاہیئے۔ جس نے یہ اتنی خطرناک رپورٹ ہی نہیں دی کہ چک نمبر 136 میں کیا ہوا۔ حالانکہ اس واقعہ کا مقدمہ بھی درج ہوا تھا اور گرفتاریاں بھی ہوئیں، مگر مجسٹریٹ نے اپنی دانست استعمال کرتے ہوئے مقدمہ ہی خارج کر دیا۔

اب اہلسنت اور اہل دیوبند کے جید علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نکاح کے حوالے سے واضح فتویٰ دیں اور ’’متاثرین مولوی خالد بشیر‘‘ کو بتائیں کہ ان کے نکاح کی پوزیشن کیا ہے اور کیا اسلام میں یہ نکاح اتنا ہی ناپائیدار ہے کہ بار بار ٹوٹتا جڑتا ہے، کیونکہ چنیوٹ کے چک 136 کے مکینوں کا یہ نکاح تیسری بار ٹوٹا ہے۔ علماء اس حوالے سے صورتحال واضح کریں اور ایسے بے ہودہ فتوؤں کی بھی حوصلہ شکنی کریں۔ ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل کے ذمہ داران کو اس حوالے سے مشترکہ بیانیہ جاری کرنا چاہیے اور اس پر فوری نوٹس لینا چاہیئے۔ علمائے دیوبند سے راقم کئی بار مل چکا ہے۔ علمائے دیوبند ذمہ دار ہیں اور انہوں نے ہمیشہ تکفیریت کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس حوالے سے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کے مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب کو آگے آنا ہوگا اور آج کل تبلیغی جماعت کے مولانا طارق جمیل بھی وحدت کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں، انہیں بھی اتحاد امت کیلئے ایک بیان اس موضوع پر بھی جاری کرنا چاہیئے، تاکہ چنیوٹ کے چک نمبر 136 کی طرح دیگر علاقوں میں جو لوگ ایسے جعلی فتوؤں سے پریشان ہیں، انہیں تسلی ہو کہ یہ نکاح اتنا ناپائیدار نہیں جتنا مولوی خالد بشیر جیسوں نے بنا دیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...