ہفتہ , 15 دسمبر 2018

بھارت حکومت کاکشمیر میں صدارتی راج نافذ کرنے پر غور

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) ہندوستان کی مرکزی حکومت 19 دسمبر کو گورنر راج کی مدت پوری ہونے پر کشمیر میں صدارتی راج نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر کے آئین کے مطابق گورنر راج میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کشمیر میں 19جون سے براہ راست دہلی کی عملداری میں ہے جب بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی مخلوط حکومت کی حمایت واپس لے لی اور علاقے میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ 19دسمبر کو گورنر راج کی 6 ماہ کی مدت پوری ہو جائے گی۔ذرائع ابلاغ کی خبروں میں سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہلی کی عملداری کو جاری رکھنے کیلیے صدارتی راج کا نفاذ لازمی ہے۔

گورنر ستیاپال ملک نے گزشتہ ماہ صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ کشمیر میں جلد انتخابات کے حق میں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ ایوان سے مقبول عام حکومت نہیں بنائی جا سکتی، 87 رکنی اسمبلی میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں، اس میں پی ڈی پی کے 28 بی جے پی کے 25 اور نیشنل کانفرنس کے 15ارکان ہیں، صدارتی راج اسی صورت میں نافذ ہو سکتا ہے جب گورنر کی رپورٹ پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ صدر سے اس کی سفارش کرے گی، اگر صدارتی راج نافذ ہو جاتا ہے تو یہ موجودہ گورنر راج میں توسیع کی طرح ہی ہوگا تاہم یہ دہلی کی براہ راست حکومت کا آغاز تصور کیا جائے گا۔ ادھر حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک اور آغا سید حسن موسوی نے کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آئندہ پانچ ماہ میں پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی ہے ، بھارتی صحافی

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں انتخابات سے قبل پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی ہے ، ...