جمعہ , 14 دسمبر 2018

قومی اسمبلی اور پیغمبر اکرم (ص) کی توہین

(تحریر: عالیہ شمسی)
ابھی چند دن پہلے کی بات ہے, جب پوری پاکستانی قوم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی مرتکب آسیہ کے خلاف دھرنے اور جلوس نکال رہی تھی, ابھی وہ بات ختم نہیں ہوئی اور تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کسی نے نہیں کئے تھے اور قرآن کی آیات کا وہ مذاق بنایا کہ آج تک کسی احمق سے احمق نے بھی اس طرح کا استدلال نہیں کیا تھا۔ مجھے صرف یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ آسیہ نے جو کہا، وہ عدالت میں ثابت بھی نہیں ہوسکا اور سب نے اس کے خلاف جلوس نکالے، دھرنے دیئے لیکن عاصمہ حدید جو رکن قومی اسمبلی ہے، اس کی ویڈیو پورے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

عاصمہ حدید کے وہ الفاظ جو اس نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ارشاد فرمائے، غور سے سنئیے، انہوں نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا فرمائی اور ان کے قول کے مطابق خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم بعد میں آیا ہے اور قرآن کی روشنی میں انہوں نے بیت المقدس کو یہودیوں کا کعبہ اور خانہ کعبہ کو مسلمانوں کا کعبہ قرار دے دیا اور حتٰی یہودیوں سے دوستی کو بھی قرآن کی روشنی میں پیش کیا، درحالانکہ صریح قرآنی آیات موجود ہیں کہ یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے تو پیغمبر اکرم (ص) کی نسبت یہودو نصاریٰ کی خوشنودی اور دوستی سے دینا، کیا قرآن اور پیغمبر اکرم (ص) کی توہین نہیں ہے۔؟

جب عاصمہ حدید قومی اسمبلی میں تقریر کر رہی تھی تو دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں کہ قومی اسمبلی میں یا تو سارے احمق، اندھے اور بہرے بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کو چپ ہو کر سنتے رہے یا پھر پہلے سے طے تھا کہ یہ جو بھی کہے گی، اس کی ہاں میں ہاں ملانا ہے۔ جس عورت کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی یا یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے نماز پڑھی، اسے قومی اسمبلی کی ممبر ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔

کیا یہی تھا نیا پاکستان؟؟
اب پوری پاکستانی قوم کہاں ہے، اب کیوں جلوس نہیں نکالے جا رہے، اب عاصمہ حدید کے خلاف دھرنے کیوں نہیں دیئے جا رہے، کیا یہ توہین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں ہے۔؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ دھرنے اور جلوس نکالنے والے سب اس وقت نکلتے ہیں، جب ان کا فائدہ ہو، جہاں انہیں کوئی فائدہ نظر نہ آئے، وہاں نہ اسلامی مقدسات کی توہین ہوتی ہے، نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین ہوتی ہے اور نہ ہی قرآن کی آیات کا مفہوم غلط سلط نظر آتا ہے اور یہ سب اسرائیل سے براستہ مسقط اسلام آباد آنے والے طیارے کے صیہونی اہلکاروں کی پاکستان میں موجود اسرائیلی نمک خواروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا نتیجہ ہے۔

عاصمہ حدید کے الفاظ کچھ اس طرح کہ کعبہ ہمارا قبلہ ہے اور بیت المقدس اسرائیل کا قبلہ ہے، فلسطین اسرائیل کا ملک ہے، ہمیں صیہونیوں سے دوستانہ تعلقات بنانے چاہیں، اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے، صیہونی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے دو ٹوک موقف کے بعد پاکستانی آئین میں اسرائیل کو غاصب ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے، پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح الفاظ میں تحریر ہے کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل دنیا کے تمام ممالک کیلئے کارآمد ہے، یہاں یہ بات بھی زذہن نشین رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ 7 دہائیوں میں نا فقط فلسطین میں مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کیا بلکہ ہزاروں بے گناہ مسلمان بچوں، بزرگوں، جوانوں، خواتین کو تہہ تیغ کیا، اسرائیل اور امریکہ کے گٹھ جوڑ نے عراق، افغانستان، شام، لبنان، بحرین، یمن، لیبیا، مصر اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بہیمانہ اقدام کئے، قرآن کریم میں بھی سریح الفاظ میں خداوند متعال نے حکم دیا کہ یہود ونصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔

لہذٰا ان تمام تاریخی اور قرآنی حقائق کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی ایک مسلم رکن قومی اسمبلی کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات اس گریٹر اسرائیل کے منصونے کی تکمیل کی کوشش ہے، جس کیلئے پہلے ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، عمان اور دیگر پر تول چکے ہیں۔ پاکستان اسلامی مملکت ہے اور اس مملکت میں ہم کسی کو بھی اسلامی مقدسات اور پیغمبر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین نہیں کرنے دیں گے، ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ عاصمہ حدید پوری اسلامی کمیونٹی سے معافی مانگے اور اس کی قومی اسمبلی کی رکنیت کو ختم کیا جائے، اگر حکومت یہ نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خود حکومت کا ایجنڈا تھا اور عاصمہ کو استعمال کیا گیا ہے۔ اسرائیل کا وجود عالم اسلام کیلئے ایک سرطان کی مانند ہے، جس نے کبھی مسلمانوں کیلئے خیر کا نہیں سوچا، صیہونیوں سے دوستانہ تعلقات تعلیمات قرآن کے منافی ہے، اگر حکومت نے اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں کسی تبدیلی کی کوشش کی تو 22 کروڑ مسلمان سراپا احتجاج ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...