جمعہ , 14 دسمبر 2018

غزہ میں کشیدگی؛ نقصان کس کا؟

نیتن یاھو اور ان کی حکومت دنیا کو غزہ میں جنگ نہ کرنے کے حوالے سے دھوکہ دے رہی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی دراصل حالات کو جنگ کی طرف لے جانے کی کوشش ہے مگر فلسطینی مجاھدین نے دشمن کی اس چال کو بروقت، ذمہ داری اور بیداری کے ساتھ ناکام بنا دیا۔

یوں تو صہیونی ریاست ہر آئے دن غزہ میں مزاحمتی محاذ کے خلاف فوجی کارروائیاں کرتی رہتی ہے لیکن دو روز قبل غزہ کی پٹی خان یونس کے مقام پر اسرائیلی فوجیوں‌ نے گھس کر ایک بزدلانہ کارروائی کے دوران ۷ فلسطینیوں کو شہید اور ۲۰ کو زخمی کر دیا۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ کاروائی ایک ایسے وقت میں‌ کی گئی جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو فرانس کے دورے پر تھے۔ انہوں نے عالمی اہمیت کے حامل اجلاس میں شرکت میں مزید رکنے سے معذرت کی اور یہ کہا کہ وہ غزہ میں حالات کو پرسکون بنانے کے لیے واپس جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غزہ میں‌ جنگ نہیں چاہتے۔ مگر ان کا یہ دعویٰ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ نیتن یاھو اور ان کی حکومت دنیا کو غزہ میں جنگ نہ کرنے کے حوالے سے دھوکہ دے رہی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کاروائی دراصل حالات کو جنگ کی طرف لے جانے کی کوشش ہے مگر فلسطینی مجاھدین نے دشمن کی اس چال کو بروقت، ذمہ داری اور بیداری کے ساتھ ناکام بنا دیا۔

اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے اسرائیلی فوج کی اس مجرمانہ کارروائی کی تفصیلات بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ اس کارروائی میں تنظیم کے خان یونس میں کمانڈر نور برکہ شہید ہوگئے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوجی ریڈیو کے نامہ نگار “زاحی دبوش” نے اعتراف کیاکہ غزہ کی پٹی میں‌ فلسطینی مجاھدین کے تعاقب میں‌ کی جانے والی کاروائی ایک ناکام کوشش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیشل فورس نے اس کاروائی کے لیے کوئی احتیاط نہیں‌ برتی اور اسے سہولت کے ساتھ مکمل کرلیا مگر یہ بہت بڑا “رسک” تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پیرس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں‌ نیتن یاھو نے کہا کہ وہ حماس کو غزہ میں‌ جنگ بندی اورامن کے قیام کے لیے ایک موقع دیں‌ گے اور جنگ سے بچنے کی کوشش کی جائے گی مگر میرے منصوبوں کے برعکس ہو رہا ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار حمزہ ابو شنب کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دشمن خفیہ اور خاموش کاروائی کرکے فلسطینی قوم میں‌ بے چینی سےپیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں مجاھدین کا تعاقب کر کے جہاں اس کاروائی کے لیے میڈیا کو کوریج کا موقع دیا وہیں صہیونی دشمن کو اس کاروائی کا دوگنا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خان یونس آپریشن کے نتائج بہت زیادہ خطرناک ہوں گے اور فلسطینی مجاھدین اسرائیلی فوج کی اس کاروائی کے لیے جوابی حکمت عملی بھی اپنا سکتے ہیں۔

فلسطینی تجزیہ نگار مصطفیٰ الصواف کا کہنا ہےکہ صہیونی دشمن نے حماس کے کمانڈر نورالدین نرکہ کو اغواء کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کے بدلے میں‌ غزہ میں‌یرغمال بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کے لیے کوئی ڈیل کی جاسکے۔ مگر اللہ نے ان کے مقدر میں‌شہادت کا رتبہ لکھا تھا۔ جب اسرائیلی فوجی فلسطینی مجاھدین کے گھیرے میں آگئے تو انہیں محاصرے سے نکالنے کے لیے اسرائیلی فوج کی فضائیہ حرکت میں آگئی جس نے بم باری کر کے فلسطینی مجاھدین کے چنگل سے اسرائیلی فوجیوں کو بچا لیا۔

انہوں‌ نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحانہ کاروائی بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ اس کاروائی نے نیتن یاھو اور صہیونی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین دونوں کو ایک نئی مشکل میں‌ پھنسا دیا ہے۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...