ہفتہ , 15 دسمبر 2018

بھارت میں نئی طرح کی انتہا پسندی کا فروغ

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)
تہذیبوں کا اتار چرھائو دو چار دنوں کی بات نہیں ہوتی۔ صدیوں کا سفر کسی تہذیب کے جواں ہونے میں صرف ہوتا ہے۔ لمحوں کی تھکن کا احساس کرنا کسی انتہا پسند ہندو سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں۔ یہ نفرت کے بیوپاری ہیں جو اپنے چند ووٹوں کی خاطر صدیوں پہ پھیلی تہذیب کے سینے میں نفرت اور تعصب کا چھرا اتار رہے ہیں۔ الہ آباد صرف مغل بادشاہ اکبر کے دور کی یادگار ہی نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ کا ذکر بھی ہے، فخر بھی اور نوحہ بھی۔ ہندو انتہا پسند تنظیمیں اور بر سر اقتدار جماعت نئی طرز کی انہتا پسندی اور نفرت کا بیج بونے چلی ہے۔ اس طرز سیاست کا بخدا کسی کو بھی کچھ فائدہ نہیں ہوگا، البتہ تاریخ، ثقافت، تمدن اور بالآخر ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں ہندئووں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج بڑھے گی۔ کیا سیاست صرف اسی کا نام ہے کہ مذہب، دھرم اور نفرت کے ذریعے ووٹ سمیٹے جائیں۔؟

سیاست کو خدمت کا نام دینے والے یہ بھول کیوں جاتے ہیں کہ خدمت یہ نہیں جو وہ کر رہے ہیں بلکہ خدمت اصل میں وہ ہے جس سے عام آدمی کی زندگی میں سہولت آئے۔ بے روزگاری ختم ہو، تعلیم اور صحت کی سہولیات ہر شہری کی دسترس میں ہوں۔ ہر شہری کو جان و مال کے تحفظ کا احساس ہی نہیں، یقین بھی ہو۔ عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی خبریں اور ہی طرح کی بدحواسی کا نقشہ کھینچ رہی ہیں۔ کیا ریاستی مفادات کا تحفظ یوں ہی کیا جاتا ہے، جس طرح بھارت کی انتہا پسند حکومت کرنے چلی ہے؟ کیا شہر بھی مسلم و ہندو ہوا کرتے ہیں؟ اگر کسی شہر کا نام کسی مسلم مغل بادشاہ نے رکھا تو اب چار سو سال کے بعد اس شہر کے نام کو بدل کر کون سی ثقافت اور تفاخر کا اظہار کیا جائے گا؟ بھارت کے مقبول شہر جسے اکبر بادشاہ نے آباد کیا تھا، الہ آباد، اب اس کا نام بدل کر پریاگراج رکھ دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نام بدلنے کا مقصد شہر کی تاریخی پہچان کو بحال کرنا ہے۔ اس شہر کا نام 435 برس قبل مسلم حکمرانوں نے رکھا تھا۔ الہ آباد مغل سلطنت کی فوج، ثقافت اور انتظامیہ کا مرکز تھا۔ برطانوی نوآبادیاتی نظام کے دوران اور سنہ 1947ء میں ملک کے آزاد ہونے کے بعد بھی اس شہر کا رتبہ برقرار رہا۔ ایک غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے الہ آباد یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیرمبھ چترویدی نے کہا کہ "یہ سب سیاست ہے۔ اگلے سال 2019ء میں عام انتخابات ہونے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ شہر کے ہندو ووٹروں کو خوش کر دیا جائے۔”

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ نے فیض آباد شہر کا نام ایودھیا میں تبدیل کر دیا اور اس کے بعد ریاست گجرات میں بی جے پی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ وہ احمدآباد کا نام بدل کر کرناوتی رکھنا چاہتے ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ الہ آباد کا نام بدلنے کے پیچھے بی جے پی کی انتہا پسندانہ سیاست ہے، جس کے تحت وہ ان تمام شہروں کے نام بدل رہے ہیں، جن کے مسلم نام ہیں۔” لیکن انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کا موقف ہے کہ الہ آباد کا نام بدلنے کی کوئی سیاسی وجہ نہیں ہے، کیونکہ پریاگراج ہی شہر کا پرانا اور اصل نام ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف تاریخ میں درج غلطیوں کو درست کر رہے ہیں، کیونکہ شہر کا نام مغل بادشاہ اکبر نے پریاگراج سے بدل کر الہ آباد رکھا تھا۔ لیکن تاریخ دان اس بات کو مکمل طور پر درست نہیں مانتے ہیں۔

بی بی سی اردو کی ہی رپوٹ کے مطابق الہ آباد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر این آر فاروقی کا کہنا ہے کہ تاریخی دستاویزات اور کتابوں کے مطابق پریاگراج نام کا کبھی کوئی شہر بسا ہی نہیں۔ یہاں صرف پریاگ نام سے منسوب ہندوؤں کا ایک زیارتی مقام ضرور ہوا کرتا تھا، جس کے بارے میں کئی کتابوں میں بھی لکھا گیا ہے۔ بہت سے بی جے پی نواز ہندوؤں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ نے بالکل صحیح قدم اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق ہندو تہذیب کے احیاء کا کام شروع ہوا ہے اور اب ان تمام شہروں اور مقامات کے نام بدلنے کی ضرورت ہے، جو بقول ان کے، حملہ آوروں کے ناموں پر رکھے گئے ہیں یا ان کی علامت ہیں۔ الہ آباد اور فیض آباد کے نام بدلنے کے بعد گجرات میں احمد آباد کا نام بدل کر "کرناوتی” رکھنے کی بھی مہم شروع ہوگئی ہے۔ شیو سینا نے مہاراشٹر کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اورنگ آباد اور عثمان آباد کے نام بدلے۔ ان کا کہنا ہے کہ اورنگ آباد کو شمبھا جی نگر اور عثمان آباد کو دھارا شیو کیا جانا چاہیئے۔ انتہا پسند تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ہمارا بہت پرانا مطالبہ ہے۔ لیکن سابقہ کانگریسی حکومتوں نے مسلمانوں کو خوش رکھنے کے لئے ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کیا تھا۔ اب جبکہ ریاست میں بی جے پی شیو سینا کی حکومت ہے تو ان دونوں شہروں کے نام بدل دیئے جانے چاہئیں۔

یہ ہے وہ نئے طرز کی انتہاء پسندی جو بھارتی سماج کو ناموں کے اندر بھی نظر آرہی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ فاتحین نے کتنا عرصہ ہندوستان پر حکومت کی اور کون کون سے شہر کس کس غرض سے بسائے۔ لیکن قریب قریب ہزار سالہ تاریخ کو بیک جنبشِ قلم مٹایا جانا احساس کمتری کے ساتھ انتہا کی نفرت کی علامت بھی ہے۔ بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ کیا اب ہندو انتہا پسندانہ تنظیمیں ان مسلمانوں کو بھی مجبور کریگی کہ وہ اپنے نام بدل دیں؟ وہ تو بے چارے پہلے ہی گائے کی قربانی کرنے سے ڈرتے ہیں۔ بھارتی حکومت تاریخی ورثے مٹانے کے بجائے ان سماجی برائیوں کی طرف توجہ دے جو بھارتی سماج کا جزو لازم بن چکی ہیں۔ جیسے چلتی گاڑیوں میں طالبات کا ریپ، جیسے بے گھر افراد کو گھر کی ضرورت۔ کیا بھارتی انتہا پسند اپنی کلاسیکی ادبی روایت میں سے غالب، میر تقی میر، بہادر شاہ ظفر، میر انیس، میرزا دبیر، داغ دہلوی، میر حسن، میر ضاحک اور مرزا فریع الدین سودا جیسے نابغہء روزگار کے نام نکال سکیں گے؟ کبھی بھی نہیں۔ جب ایسا کرنا ممکن نہیں تو پھر شہروں اور یونیورسٹیوں کے نام بدلنے کی مہم کیوں شروع کر دی گئی ہے؟ یہ نفرت انگیز روایت بھارتی سماج کے اندر احساس کمتری کو مزید بڑھاوا دے گی۔ کانگریسی رہنمائوں اور اہل علم و ہنر کو شیو سینا اور انتہا پسند بھارتی حکومت کے ان اقدامات کے خلاف توانا آواز بلند کرنا چاہیئے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...