ہفتہ , 15 دسمبر 2018

نئے ناموں سے داعش کا تحفظ، جدید امریکی اسٹریٹجی

(تحریر: محمد علی)
اگرچہ عراق اور شام میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش پر کاری ضربیں لگی ہیں لیکن ابھی تک یہ گروہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ایک عرصے سے داعش یہ تاثر دے رہا ہے کہ عراق اور شام میں اس کی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے لیکن یہ ایک جنگی چال ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تکفیری دہشت گرد گروہ عراق اور شام میں نئے علاقوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ بات دارالفتوی مصر سے وابستہ ایک تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے گذشتہ کچھ عرصے میں نئے علاقوں پر کنٹرول قائم کرنے کی غرض سے ٹیکٹیکل پسماندگی اختیار کی ہے۔ یہ گروہ اپنے عناصر کو نئے علاقوں میں منتقل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسی طرح داعش نے نئے دہشت گرد عناصر اکٹھے کرنے کیلئے اپنے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لائی ہے۔

تکفیری دہشت گرد گروہوں پر تحقیق کرنے والے مصر کے تحقیقاتی ادارے نے اپنی اس رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ عراق اور شام سے فرار کرنے والے داعش کے دہشت گرد عناصر بعض دیگر ممالک میں جمع ہو کر نئے نام سے جدید دہشت گرد گروہ تشکیل دے رہے ہیں۔ وہ ایسے نئے دہشت گرد گروہ تشکیل دینے کے درپے ہیں جو داعش کے پرچم تلے دہشت گردانہ اقدامات انجام دے سکیں۔ اس وقت ابوبکر البغدادی کی سربراہی میں عراق اور شام میں سرگرم تکفیری دہشت گرد عناصر نے مرکز سے دوری کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور وہ مختلف ممالک میں داعش جیسے دیگر گروہ تشکیل دینے جا رہے ہیں۔ یہ تکفیری دہشت گرد عناصر "الرایات البیضاء”، "انصار البخاری”، "انصار الفرقان” وغیرہ جیسے ناموں سے نئے گروہ تشکیل دے چکے ہیں اور ان گروہوں کو داعش کی جگہ استعمال کئے جانے کا خطرہ موجود ہے۔ خطے کے حالات سے باخبر ماہرین گذشتہ ایک سال سے ان گروہوں کی نشاندہی کرنے میں مصروف ہیں۔ الرایات بیضاء (سفید جھنڈے) نامی گروہ نے عراق میں داعش کی شکست کے بعد کرد علاقے اربیل میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔

اسی طرح انصار البخاری نامی گروہ جو عرب اور غیرعرب دہشت گرد عناصر پر مشتمل ہے 2014ء میں تشکیل پایا تھا۔ اس گروہ نے اب تک اپنی موجودیت کا اعلان نہیں کیا تھا اور داعش کے پرچم تلے ہی سرگرمیاں انجام دیتا آیا تھا۔ لیکن حال ہی میں اس گروہ نے الگ سے دہشت گردانہ سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ گروہ مختلف افریقی ممالک جیسے لیبیا اور صومالیہ میں سرگرم ہے۔ دارالافتای مصر کے تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش موجودہ حالات میں کم تجربہ کار افراد کو ذمہ داریاں بانٹ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اہم فیصلے کرنے کا اختیار چھوٹی سطح کے لوکل دہشت گرد کمانڈرز کو سونپ دیا گیا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت داعش کا تنظیمی ڈھانچہ بری طرح ٹوٹ چکا ہے اور ذیلی شاخیں ٹوٹ کر خودمختار گروہوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔ عراق اور شام میں جنگ کے دوران بڑی تعداد میں داعش کے اعلی سطحی کمانڈرز ہلاک ہو چکے ہیں لہذا اب چھوٹی سطح کے لوکل کمانڈرز کو کھل کر میدان میں آنے کا موقع مل گیا ہے۔ یہ کمانڈرز دوسرے اور تیسرے درجے کے کمانڈرز تھے جن کے بارے میں سیکورٹی ایجنسیز کے پاس بھی زیادہ معلومات موجود نہیں تھیں۔

عراق اور شام میں داعش کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود اسے بعض ممالک خاص طور پر امریکہ کی اب بھی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ اس وقت داعش کی حمایت کر رہا ہے اور اسے مالی سپورٹ فراہم کرنے کے علاوہ اس کے تنظیمی ڈھانچے کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نئے ناموں اور نئے چہروں کی صورت میں دنیا کے مختلف حصوں میں دوبارہ سے سامنے آ رہا ہے۔ یہ درحقیقت امریکہ کی نئی اسٹریٹجی ہے کیونکہ اسے دنیا کے مختلف حصوں میں فوجی مداخلت کا بہانہ چاہئے اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں اسے بہترین بہانہ فراہم کر سکتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داعش اپنی سرگرمیوں کیلئے انٹرنیٹ کا استعمال بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے داعش کے کمانڈرز کو ان کا مشن سونپا جاتا ہے۔ داعش کی خلافت اس وقت ایک سائبر خلافت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ داعش نے عراق اور شام سے اپنے بھاگے ہوئے عناصر کو نئے گروہوں کی صورت میں دوبارہ منظم کرنا شروع کر دیا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے میں خطے میں ان نئے گروہوں کی سرگرمیاں بھی سامنے آ چکی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...