منگل , 11 دسمبر 2018

ورلڈ کپ میں منصبِ قیادت پر سرفراز احمد کو ہی بٹھانے کا گرین سگنل

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی سی بی پاکستان کرکٹ کا پورا ڈھانچہ تبدیل کرنے کے عزم پر قائم ہیں، انھوں نے ورلڈکپ کیلیے منصب قیادت پر سرفراز کو ہی بٹھانے کاگرین سگنل دیدیا۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسان مانی نے کہا کہ تبدیلیاں ہوں گی، پی سی بی ہی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کا پورا ڈھانچہ ہی تبدیل ہو گا، تمام فیصلے بہتری کیلیے وقت پر اور سوچ سمجھ کر کروں گا،ہمیں پورے سسٹم میں شفافیت لانا ہے، انفرااسٹرکچر اور ڈومیسٹک کرکٹ کو ٹھیک کرنا ہوگا،میں سب کی رائے لے کر فیصلے کروں گا،انھوں نے کہا کہ کرکٹ کمیٹی کا کام سفارشات مرتب کرنا ہے، پی سی بی کی طرف سے جو مسئلہ بھی سامنے رکھا جائیگا ارکان اس پر بات کرتے ہوئے اپنی رائے دیں گے۔

احسان مانی نے کہا کہ سرفراز احمد کا بطور کپتان تقرر شہریارخان نے کیا جو اچھا فیصلہ تھا، ان کی قیادت کے حوالے سے تنازع میڈیا نے پیدا کیا، ورلڈ کپ تک کپتان بنائے جانے کے سوال پر احسان مانی نے انشاء اللہ کہا، انھوں نے کہا کہ کپتان کا فیصلہ کرکٹ کمیٹی نہیں چیئرمین کی صوابدید ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ ملتان سلطانز کے معاملات حد سے آگے بڑھنے پر مشکل فیصلہ کرنا پڑا، اس ضمن میں آئندہ ڈیل کرتے ہوئے ہرپہلو کو مدنظر رکھیں گے، کسی ایک فرنچائز کے ملکیت تبدیل ہونے سے پی ایس ایل کیلیے کوئی مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ انھوں نے نیک نیتی سے ٹیم خریدی تھی،اپنے مسائل کی وجہ سے ساتھ نہیں چل سکے تو کوئی مسئلہ نہیں، ہم سے 5 خریدار رجوع کرچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں پی ایس ایل کیلیے الگ چیئرمین کے حق میں ہوں تاہم اس کیلیے طریقہ کار طے کرنا ہوگا، ابھی فرنچائزز سے بات نہیں ہوئی، قانونی معاملات کو بھی دیکھنا ہے، میری رائے ہے کہ پی سی بی ایک بڑا سیٹ اپ جبکہ پی ایس ایل کیلیے الگ طرح کے انتظامی سسٹم کی ضرورت ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کا کام پالیسی سازی ہونا چاہیے، ان فیصلوں پر عملدرآمد کرنا چیف ایگزیکٹیو کی ذمہ داری ہے، دنیا کے کسی کرکٹ بورڈ میں صرف چیئرمین ہی اختیارات کا منبع نہیں ہوتا، اگر وہ دونوں کام خود کرے گا تو معاملات میں شفافیت نہیں رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ بھارت سے سیریز کیلیے بات چیت چل رہی ہے لیکن جب تک وہاں الیکشن نہیں ہوتے سیاسی وجوہات کی بنا پرہم کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کر سکتے۔ میں بھارت سے برابری کے تعلقات چاہتا ہوں تاہم کسی کی بھی منت سماجت نہیں کرینگے کہ ہمارے ساتھ آکر کھیلو۔

چیئرمین بورڈ نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے 80 فیصد کام ہوچکا، جس طرح کرکٹ پاکستان میں چل رہی ہے وہ دورس نتائج نہیں دے سکتی، ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی ملازمتوں کا خیال رکھیں گے۔ ایسوسی ایشنز، ڈپارٹمنٹس اور آفیشلز سب کیلیے موزوں اپنا پاکستانی ماڈل تیار کرنا ہوگا۔

احسان مانی نے کہا کہ پی سی بی پی پر ملازمین کا بوجھ اس وجہ سے ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے معاملات اور 8 اسٹیڈیمز بھی ہی چلا رہا ہے،ہم نے ایسوسی ایشنز کو خود مختار نہیں بنایا تو یہ مسائل حل نہیں ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا سسٹم ایسا ہے کہ چیئرمین کی سیٹ سیاسی ہوچکی،ہم ایسا نظام بنائینگے کہ حکومت کی کوئی مداخلت نہ ہو، کرکٹرز پروفیشنل ہیں مینجمنٹ بھی پروفیشنل ہوگی تب ہی ایک اچھا سسٹم بنے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ویمنز ٹی ٹوئٹنی ورلڈکپ کا تاج آسٹریلیا کے سرپر سج گیا

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میچ میں آسٹریلیا نے انگلیںڈ کو شکست ...