ہفتہ , 15 دسمبر 2018

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی)
نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں امریکہ، روس، چین، پاکستان ، بھارت اور قطر سمیت کل بارہ ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ نوگیارہ کے بعد پہلا موقع تھا کہ طالبان کے نمائندوں نے کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین حملہ آور طاقتوں کے لئے قبرستان ثابت ہوئی ہے۔ پہلے برطانیہ، پھر روس اور اب امریکی افواج کو افغانستان میں ہزیمت کا سامنا ہے۔ اس وقت افغانستان کے تقریبا ستر فیصد رقبے پر عملی طور پر طالبان کا قبضہ ہے۔ امریکہ جو کہ پوری طاقت سے حملہ آور ہوا تھا اب افغانستان سے باعزت انخلا کا متمنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب طالبان سے براہ راست مزاکرات کیے جارہے ہیں۔

تمام ممالک ان مذاکرات کے حامی ہیں ماسوائے دو کے جن میں سے ایک بھارت ہے اوردوسرا فغانستان ہے۔ ان مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل کرنے کے بجائے چونکہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کئے جارہے ہیں اسلئے کٹھ پتلی افغان حکومت کے لئے یہ عمل قابل قبول نہیں ۔ مزید یہ کہ بھارت کے افغانستان میں مالی اور پاکستان مخالف مفادات وابستہ ہیں اسلئے بھارت بھی نہیں چاہے گا کہ امریکہ افغانستان سے نکلے اورافغانستان کی باگ دوڑ طالبان کے ہاتھ میں آئے۔ لہذا ان دونوں طاقتوں کی نظر میں ماسکو امن مذاکرات بری طرح کھٹک رہے تھے۔

یاد رہے کہ ماضی میں جب بھی افغانستا ن سے متعلق امن مذاکرات کی بات ہوئی کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور رونما ہوا جس سے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ ماسکو امن مذاکرات کے بعد بھی یہی خیال کیا جارہا تھا کہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہوگا کہ مذاکرات کی میزکو الٹنا پڑجائے گا۔ اس بارامن دشمن قوتوں نے گہرا وار کرنے کی ٹھانی تاکہ پاکستان جو کہ مذاکرات کا سب سے بڑا حامی ہے سیخ پا ہوکر مذاکرات کا بائیکاٹ کر دے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سافٹ ٹارگٹ ایس پی طاہر داوڑ کو چنا گیا۔ایس پی طاہر داوڑ کا تعلق شمالی وزیرستان کے گاؤں خدی سے تھا۔ وہ پچھلے تیئس سال سے محکمہ پولیس میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ بطور اے ایس آئی پولیس میں بھرتی ہوئے اور ترقی کرتے کرتے ایس پی کے عہدے پر پہنچے۔ دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کاروائیوں کی بدولت انہیں قائداعظم پولیس میڈل سے نوازا گیا۔ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کی بدولت طاہر داوڑ پر دو خودکش حملے ہوئے لیکن وہ بال بال بچ گئے۔ جان کو خطرات کے پیش نظر وہ پچھلے سات سالوں سے خیبر پختونخواہ سے باہر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ علاوہ ازیں ان کا ایک بھائی اور بھابی بھی شہید ہوچکے ہیں۔

ایک تیر سے دو شکار کرنے کے مصداق ایس پی طاہر داوڑ کو اس لئے شہید کیا گیا تاکہ دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کاروائیوں کا بدلہ چکایا جا سکے تودوسرا یہ کہ طاہر داوڑ چونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا آفیسر تھا اسلئے ایسے بندے کی شہادت سے پاکستان کو گہری چوٹ لگتی۔ لہذا ایس پی طاہر داوڑ کو چھبیس اکتوبر کو اسلام آباد کے جی ٹین سیکٹر سے ایک شادی والے گھر سے اغوا کیا گیا۔ پہلے پنجاب پہنچایا گیا ،وہاں سے میانوالی کے راستے بنوں اور پھر افغانستان منتقل کردیا گیا۔ تیرہ نومبر کو پہلی بار اس اطلاع کے ساتھ انکی میت کی تصویر سامنے آئی کہ انکو افغانستا ن کے علاقے جلال آباد میں شہید کردیا گیاہے۔

اصل کہانی ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے بعد واشگاف ہوتی ہے جب شہید کی لاش کو افغانستان میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کرنے سے انکار کردیا گیا۔ مزید براں طورخم بارڈر پر لاش حوالگی کے لئے چند شرائط رکھی گئیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ یہ لاش حکومت پاکستان کے حوالے نہیں کی جائے گی بلکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنماؤں کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ افغان حکام کی ان شرائط سے واضح ہوتا ہے کہ ایس پی داوڑ کی شہادت کے پیچھے ایک پورا گیم پلان کیا گیا تھا۔ اس تمام تر کاروائی کے پیچھے افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی راء کا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عبدالغفور نے اپنے ٹویٹر بیان میں کہا کہ ایس پی طاہر کو افغانستان منتقل کرنے اور شہید کرنے میں جو ذرائع استعما ل کیے گئے وہ دہشت گرد تنظیموں کے وسائل سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید برآں شہادت کے بعدافغان حکام کے رویے سے بھی شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں کیونکہ حکومتیں صرف حکومتوں سے گفت وشنید کرتی ہیں کسی فرد یا قبیلے سے نہیں۔

شہید کی لاش کو پاکستانی سفارت خانے یا پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کی بجائے داوڑقبیلے کے سربراہ یا پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈرکے حوالے کرنے کے پیچھے افغانستان کے کیا مفادات تھے؟ظاہر ہے ایسا کرکے نہ صرف پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا بلکہ پشتون تحفظ موومنٹ جو کہ پاک فوج کے خلاف کھلم کھلا الزامات لگاررہی ہے ، کو اس معاملے میں ملوث کرکے بین الاقوامی سطح پر اس تاثر کو ابھارا گیا ہے کہ یہ کاروائی پاک فوج نے کی ہے۔ خدا کی پناہ ۔ اتنی بھیانک سازش اور وہ بھی پاک فوج کے خلاف۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ بھارت تو خیر ہمارا ازلی دشمن ہے وہ تو وار کرے گا ہی مگر ایسی سازشوں میں اب افغانستان اور ہمارے اپنے ملک کے لوگ بھی کھلم کھلا شرکت کرنا شروع ہوگئے ہیں جوکہ کسی اچھے مستقبل کی نوید نہ ہے۔

بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی راء اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے باہمی اشتراک سے ایس پی طاہر کوشہید کرنے کی اس کاروائی کے پیچھے اصل مقصد ماسکو امن کانفرنس کی پیشرفت کو روکنا ہے۔ اس شہادت سے یہ تاثر ابھارا گیا کہ اس تمام تر کاروائی میں پاک فوج کا ہاتھ ہے۔ جھوٹ اور منافقت پر مبنی یہ پراپیگنڈا اس لئے پھیلایا جارہا ہے تاکہ پاک فوج اور حکومت پاکستان جو کہ اس وقت ایک پیج پر ہیں افغان امن عمل کا حصہ بننے سے انکارکردیں اوراپنا اثرورسوخ استعمال کرکے طالبان کو بھی بائیکاٹ پر راضی کرلیں۔ جس کا تمام تر فائدہ صرف اور صرف افغان حکومت اور بھارت کو ہوگا۔ دونوں قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ امریکہ افغانستان سے کوچ کرے کیونکہ ایسا کرنے سے انکے خواب چکنا چور ہوجائیں گے۔ لہذااگر امریکہ افغانستان سے باعزت نکلتا چاہتا ہے تو اسے افغان حکومت اور بھارت دونوں کے ہاتھ باندھنے ہونگے بصورت دیگر امریکہ کا مستقبل بھی سابقہ سویت یونین جیسا ہوگا۔بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...