منگل , 11 دسمبر 2018

سیف سٹی پراجیکٹ۔۔ کتنا سیف؟

(سید ذیشان علی کاظمی) 
اسلام آباد میں ’’سیف سٹی پراجیکٹ‘‘ نامی منصوبے کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے دورِ حکومت میں 2008ء میں کیا گیا تھا جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بھی جاری رہا تھا۔ اس منصوبے کے تحت سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کیساتھ ساتھ سڑک پر نصب 3اسکینرز کو بھی چین سے درآمد کیا گیا تھا جنہیں اسلام آباد کے داخلی راستے پر لگایا گیا۔ اس منصوبے کے تحت پورے شہر میں ایک ہزار 8سو 40 کیمرے نصب کئے گئے تھے اور منصوبے کا افتتاح 2016ء میں کیا گیا تھا اس کے بعد سے ہی بہت سے کیمروں میں خرابی سامنے آئی اورکہا گیا کہ 6سو سے زیادہ کیمرے ٹھیک سے کام نہیں کرتے۔ اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ زیادہ تر کیمروں کے غیرفعال ہونے کی وجہ ان کی تاروں کو کاٹ دیا جانا تھا جبکہ ترنول اور کشمیر ہائی وے سمیت متعدد ہائی ویز اور بہارہ کہو میں تعمیراتی کام کے دوران 2سو36 کیمروں کی تاریں خراب ہوگئی تھیں۔ ان میں سے متعدد کیمروں کو کنٹرول روم میں کوئی آپریٹر کنٹرول نہیں کرتا جبکہ بہت سے کیمرے رخ بدلنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور وہ ایک ہی سمت کا منظر دکھاتے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں جرائم، فرقہ واریت اور دہشتگردی کی کارروائیوں کی بیخ کنی کرنا تھا، اس حوالے سے اسلام آباد پولیس نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو ان کیمروں کی مرمت کیلئے ٹینڈر جاری کرنے کی درخواست بھی ارسال کی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت سامنے نہ آسکی۔

12کروڑ60لاکھ ڈالرکی خطیر لاگت سے قائم ہونے والے سیف سٹی منصوبے کی حالت یہ ہے کہ 1800سے زیادہ نصب کیمروں میں سے اکثر خراب ہو چکے ہیں جبکہ دیگر کیمروں کی صورتحال یہ ہے کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ اور چہروں کی شناخت سے قاصر ہیں، عین ممکن ہے ان خراب کیمروں میں سے بہت سوں کو جرائم پیشہ عناصر خراب کر دیتے ہوں، اسی طرح تعمیراتی کاموں کے دوران کئی ایک کی تاریں کٹ جانے سے بھی خرابی سامنے آسکتی ہے، تاریں کٹنے کی خبر تو آتی ہے لیکن انہیں دوبارہ جوڑنے کی خبر کبھی نہیں آتی آخر کیوں، اس کی ذمہ دار تو تعمیراتی کمپنی ہوتی ہے کیا اس کیخلاف کبھی کارروائی عمل میں لائی گئی اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

المیہ اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں جیسے تیسے کر کے منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچ تو جاتے ہیں لیکن تکمیل کے بعد ان کی دیکھ بھال کا کوئی میکنزم نہیں بنایا جا سکا ہے، بہت سے قارئین یہ بات جانتے ہوں گے کہ پمز ہسپتال جاپان نے بنایا تھا اور اس وقت یہ ملک کا سب سے معیاری ہسپتال تصور کیا جاتا تھا، آج جنہیں پمز جانے کا اتفاق ہوتا ہے وہ اس کے معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر منصوبوںکی ناکامی کے عوامل پر غورکریں تو حکومتی لاپرواہی کے علاوہ کوئی وجہ سامنے نہیںآتی ہے۔پوری دنیا میں آئی ٹی کے جتنے بھی شعبے ہیں، ان کی نگرانی کیلئے ہمہ وقت عملہ موجود رہتا ہے شاید یہ واحد شعبہ ہے جسے ایک لمحہ کیلئے بھی عملہ کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ پھر اگر آئی ٹی کا تعلق سیکورٹی کے معاملات سے ہو تو کسی صورت بھی عملہ کے بغیر اسے نہیں چھوڑا جا سکتا لیکن ہمارے ہاں عجیب طرفہ تماشا ہے کہ اربوں روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ تکمیل کو پہنچتا ہے اور کچھ ہی دنوں میں اس کی ناکامی کی باتیں کی جانے لگتی ہیںکیونکہ 2016ء میں اس منصوبے کا افتتاح ہوا ہے، ناکامی کی وجوہات یہ سامنے آتی ہیں کہ متعدد کنٹرول روم میں سرے سے کوئی آپریٹر ہی تعینات نہیں ہے، ایسے حساس منصوبے کی دیکھ بھال اور خرابی کو فوری طور پر درست کرنے کیلئے عملہ ہر وقت موجود رہنا چاہئے ۔

لیکن صورتحال یہ ہے کہ ایک انہونی کا واقعہ پیش آجاتا ہے اور ضرورت پڑتی ہے کہ سی سی ٹی وی سے مدد لیکر اس واقعہ کی تحقیقات کی جائے تو عقدہ کھلتا ہے کہ کیمرے خراب ہیں، ہمارے سکیورٹی اداروں کو تو اس حد تک حساس ہونا چاہئے کہ جرائم پیشہ افراد نے اگر جان بوجھ کر بھی کیمرے خراب کر دیئے تو انہیں فوری طورپر ٹھیک کر لیا جائے، ایسا نہیں ہے کہ ان کیمروں کی دیکھ بھال پر سرے سے کوئی ٹیم مقرر نہیں تھی، وزیر مملکت لگانے والوں پر اس کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ اب جوابدہ بہرصورت وہی ہیں، وزیرمملکت کو چاہئے کہ جو لوگ سیف سٹی پراجیکٹ کی حفاظت پر مامور تھے ان سے فوری طور پر رپورٹ طلب کریں کہ کیا انہوں نے کیمروں کی خرابی کی رپورٹ متعلقہ حکام کو دی یا نہیں اگر دی تو اس کی درستگی کیلئے کیا رکاوٹیں درپیش تھیں۔ اگر متعلقہ ذمہ داران نے کیمروں کی خرابی کی رپورٹ نہیں دی تو انہیں کٹہرے میں لاکرکڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ ہمارے خیال میں ایس پی طاہر داوڑ کا اسلام آباد جیسے محفوظ اور حساس علاقے سے اغوا ہو جانا اور پھر افغانستان میں ان کا بہیمانہ قتل ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، اس واقعہ کے بعد شہریوں کے ذہن میں ان سوالات کا جنم لینا ایک فطری امر ہے کہ اگر شرپسندوں سے پولیس کے اعلیٰ افسر محفوظ نہیں ہیں تو عام شہر ی کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی بڑا واقعہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے تب ہی ہمیں ہوش آتا ہے کہ فلاں جگہ یہ خرابی کمی یا کوتاہی تھی جس کی وجہ سے نقصان اٹھایا۔ سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے سے بہتر ہے کہ سانپ کے گزرنے کے راستے مسدود کردئیے جائیں۔ لہٰذا ان خراب کیمروں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے اور ذمہ داروں کو سخت جوابدہی کے عمل سے گزرنا چاہئے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...