منگل , 11 دسمبر 2018

افغان طالبان سے مذاکرات، امریکی چال یا مجبوری

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)
نائن الیون کے بہانے افغانستان میں داخل ہونیوالی فوجوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کرنیوالے امریکی حاکم کا کہنا ہے کہ ملک کی سول اور فوجی قیادت افغان تنازع کے غیر عسکری حل پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے واشنگٹن کابل اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی پابندی کررہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی ویب سائٹ کے مطابق جنگی جنون میں مبتلا امریکی فوج براعظم ایشیا کے اہم ترین ملک پاکستان سمیت دنیا کے 135 ممالک میں 800 مقامات پر موجود ہے، جن میں سے کئی ممالک میں اس کے فوجی اڈے اور ٹھکانے بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ امریکا کا جنگی بجٹ پوری دنیا کے دفاعی اخراجات کا 43 فی صد ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ امریکا کے منہ کو خون لگ چکا ہو۔ حقیقت میں امریکی معیشت کا بڑی حد تک دار و مدار اسلحہ کی فروخت کی تجارت پر ہے۔ اگر دنیا میں امن قائم ہوگیا تو پھر امریکی ہتھیار بھلا کوئی خریدے گا؟ ایسی صورت میں امریکی تجارت کا تو بیڑہ غرق ہوجائے۔ اس لیے امریکا کی کوشش یہی رہتی ہے کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں فساد برپا ہوتا رہے اور جنگ کے شعلے بھڑکتے رہیں۔ امریکی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ امریکا امنِ عالم کا سب سے بڑا دشمن اور انسانیت کا سب سے بڑا قاتل ہے۔

دنیا میں کوئی بھی اب امریکا کی جنگ پالیسی میں اس کا ساتھ دینے کے لیے راضی نہیں ہے۔ امریکا کی بے جا مداخلت نے اس کی رہی سہی ساکھ کو بھی ختم کردیا ہے اور سمجھدار قوموں کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں برپا ہونے والے کسی بھی فتنہ و فساد کی جڑ امریکا ہی ہے۔ اس حقیقت سے دیگر ممالک کے علاوہ اس کے اتحادی ممالک بھی خوب واقف ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں انھوں نے امریکا سے کنارہ کشی اختیار کرکے فاصلے بڑھانا شروع کردیے ہیں۔ امریکا کے ایک معروف تعلیمی ادارے براؤن یونیورسٹی نے رپورٹ کیا تھا کہ اکتوبر 2001ء سے افغانستان میں جاری جنگ میں 6 ہزار 3 سو 34 امریکی بھی مارے گئے، جن میں بیشتر فوجی اور ٹھیکیدار تھے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد اتحادی فوجی بھی اس جنگ کی نظر ہوچکے ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ہیتھر نوریٹ کا کہنا ہے کہ سفیر زلمے خلیل زاد خطے میں سفر کررہے ہیں جو ہمارے امن معاہدے کے ساتھ منسلک ہونے کو’ ظاہر کرتا ہے، اُمید کی جاتی ہے کہ ہم افغانوں کو سہولت فراہم کریں گے تاکہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہوسکے، ہمارے حکام طویل عرصے سے یہ بات کہہ رہے ہیں ہمیں افغان تنازع کے غیر عسکری حل کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، ان میں محکمہ دفاع بھی شامل ہے، زلمے خلیل زاد اپنا کام بہت تن دہی انجام دے رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ جب سے انہیں مذکورہ کام دیا گیا ہے وہ اپنا زیادہ وقت طیارے پر سفر کے دوران ہی گزارتے ہیں۔

ماسکو میں ہونے والی افغان امن کانفرنس سے متعلق ایک سوال کے جواب پر ترجمان نے کہا کہ ہم روس کو دیکھ رہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ روسی حکومت کیا کررہی ہے، جہاں انہوں نے دنیا کے تنازعات کے حوالے سے ایک اجلاس طلب کیا، یہ ان کا حق ہے کہ وہ ایسا کریں۔ گزشتہ 2 ماہ کے دوران زلمے خلیل زاد کا اس خطے کا یہ تیسرا دورہ ہے، جس میں انہوں نے افغانستان، پاکستان اور قطر کے حکام سے بات چیت کی تاکہ عسکریت پسندوں پر افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے اور ملک میں قائم امن ہوسکے۔ مشیر زلمے خلیل زاد گزشتہ 17 سال سے جاری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے مشن پر ہیں، جس میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ اشارے ظاہر کر رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے پر آمادہ ہو چکی ہے۔ یہ امریکا کے اس طویل عرصے سے قائم مؤقف میں تبدیلی ہے کہ کسی بھی امن مذاکرات کی سربراہی کابل حکومت کو کرنی چاہیے۔ سینیئر امریکی حکام اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے 2 راؤنڈ ہو چکے ہیں۔ مگر ایسی کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی جو باضابطہ امن مذاکرات کی راہ ہموار کر سکے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کو 3 ماہ قبل افغانستان میں امریکا کے خصوصی نمائندے کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور ان کا مینڈیٹ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ افغانستان میں سابق سفیر کے طور پر انہیں لگتا ہے کہ وہ اس کام کے لیے اہل ہیں، اور اس کی بڑی وجہ ان کے نزدیک ان کی قومیت ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے گزشتہ ماہ دوحہ میں ہونے والی گفت و شنید کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ مگر طالبان کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ کا مرکزی نکتہ قبضے کا خاتمہ اور افغان تنازعے کا ایک پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش تھا۔ طالبان نے کابل حکومت سے بات نہ کرنے کے اپنے سخت گیر مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے طالبان رہنماؤں، بشمول گوانتانامو سے 2014 میں رہا ہونے والے 5 افراد پر عائد اقوامِ متحدہ کی سفری پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ میدانِ جنگ میں کامیابیوں کی وجہ سے طالبان کی پوزیشن مزید سخت ہوچکی ہے۔

اس دوران یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ قندھار کے ہیبت ناک پولیس چیف جنرل عبدالرازق اور دیگر دو اعلیٰ افسران کے قتل سے امریکا اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے اگلے راؤنڈ پر منڈلاتے سائے گہرے ہو سکتے ہیں۔ سیکیورٹی کانفرنس، جس میں امریکا کے اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی موجود تھے، پر حملہ خلیل زاد کی دوحہ میں سینیئر طالبان رہنماؤں سے ملاقات کے چند ہی دن بعد ہوا۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں امریکا اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ مگر اس بات کا کوئی اشارہ موجود نہیں کہ جنرل رازق کے قتل سے امریکی انتظامیہ کی طالبان سے مذاکرات کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ جہاں ماسکو میٹنگ نے طالبان نمائندوں، افغان رہنماؤں اور علاقائی ممالک کو ساتھ بٹھا کر کچھ مثبت نتائج فراہم کیے ہیں، وہیں افغان تنازعے کا کوئی بھی سیاسی حل امریکی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ امریکا کی جانب سے طالبان کے ساتھ براہِ راست گفتگو کا فیصلہ بلاشبہ آگے کی جانب قدم ہے مگر ابھی بھی ایسا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے جو کہ باضابطہ مذاکرات تک لے جا سکے۔

حال ہی میں امریکی کانگریس کے پینل نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو قومی سلامتی اور فوجی بحران کا سامنا ہے، روس اور چین سے جنگ ہوئی تو شکست ہوسکتی ہے۔ امریکی صدر کی دفاعی حکمت عملی پر غور کرنے والی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ چین اور روس امریکی دفاع قوت کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت بڑھا رہے ہیں، جبکہ امریکی فوج کی عالمی بالادستی خطرناک حد تک زوال کا شکار ہے، اس کی وجوہات دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کےفیصلے اور 2011 کے بجٹ کنٹرول اقدامات ہیں۔ امریکی فوج ایشیا اور یورپ میں اثرورسوخ کھو رہی ہے، فوجی طاقت کا توازن بگڑنے کی صورت میں تصادم کےخطرات بڑھ گئے ہیں، ان حالات میں کسی بڑی لڑائی کی صورت میں امریکی فوج کو بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑسکتاہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو رواں سال کا بجٹ 70 ارب ڈالر ہے یہ روس اور چین کے مشترکہ فوجی بجٹ سے بھی زیادہ ہونے کے باوجود این ڈی ایس کے طےشدہ مقاصد کے حصول کےلیے ناکافی ہے، امریکی فوج کے بجٹ میں سالانہ 3 سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے۔ امریکہ دنیا میں حریفوں طاقتوں کے مقابل کمزور ہو رہا ہے۔

پاکستان ماضی میں امریکہ کا اتحادی رہا اور چین اور روس کے قریب ہے۔ اس کے اثرات اور نتائج کیوجہ سے پاکستان مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان 9/11 کی طرح آج ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہوا ہے۔ افغانستان کی دلدل میں پھنسا ہوا امریکا بری طرح تھک ہار چکا ہے اور اس کے اعصاب جواب دے رہے ہیں اور حوصلے روز بہ روز پست سے پست تر ہورہے ہیں، اسے وہ اہداف حاصل نہیں ہوئے جو اس نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے مقرر کیے تھے۔ امریکی دانشور نوم چومسکی کے مطابق امریکا نے پاکستان کی اشرافیہ کو خریدا ہوا ہے۔ افسوس کہ غیروں کی جنگ ہم نے اپنے ملک میں در آمد کرلی جس کے نتیجے میں ہم برسوں سے پرائی آگ میں مسلسل جل رہے ہیں اور معلوم نہیں اس آتش نمرود کے شعلے کب ٹھنڈے ہوںگے۔؟

یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین فیصلہ تھا جس نے ہمیں ایسی دلدل میں دھکیل دیا جس سے نکلنے کے بظاہر کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ وطن عزیز جو اس سے قبل خودکش حملوں سے قطعی ناآشنا تھا، بد قسمتی سے ان حملوں کی آماجگاہ بن گیا۔ ہم ڈرون طیاروں اور ان کے حملوں سے بھی ناواقف تھے لیکن 18 جون 2004 کو جنوبی وزیرستان میں وانا کے مقام پر پہلا امریکی ڈرون حملہ ہوا جس کے بعد بار بار ڈرون حملوں کا ہونا ایک معمول بن گیا۔ اوباما کے امریکی صدر بننے کے بعد پاکستان میں اوسطاً ہر چار دن کے بعد ڈرون حملہ ہونے لگا جس میں بے گناہ معصوم شہری بھی نشانہ بنتے رہے۔ اس حقیقت کا اعتراف خود امریکا بھی کرچکا ہے۔ افغان امن عمل محتاط کردار پاکستان کے مستقبل کا تعین کریگا، البتہ اسوقت ہمارا رخ مشرق وسطیٰ کی جانب ہے، جہاں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...