ہفتہ , 15 دسمبر 2018

پاکستان میں تجاوزات کی اجازت صرف امیروں کو ہے

(عاصم سجاد اختر)
جب کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں ایک بڑے کلیئر اپ آپریشن کی تصاویر ہماری ٹی وی اسکرینز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آئیں تو کافی روایتی قسم کے ردِ عمل سامنے آئے۔سب سے زیادہ شدید ردِ عمل تو ‘قانون کی بالادستی کی فتح کا دعویٰ اور عوامی مقامات کو تجاوزات سے محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار تھا۔

اور یہ لاپرواہ رویہ عموماً ‘مہذب طبقوں کی جانب سے آتا ہے اور اس سے گہری طبقاتی تفریق کی عکاسی ہوتی ہے جو اس اصول کا مذاق بنا دیتی ہے کہ قانون کے سامنے سب شہری برابر ہیں۔

معاشرے کے نچلے طبقوں سے تعلق رکھنے والے ‘متجاوز‘ افراد جن میں چھوٹے دکاندار مگر اس سے بھی زیادہ نمایاں طور پر کروڑوں غریب گھرانے شامل ہیں، عوامی مقامات پر قبضہ صرف ریاستی اہلکاروں کی مدد سے ہی کر پاتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو ریاستی عہدیداران (اور چھوٹے لینڈ ڈیلر) ان ‘متجاوز’ افراد سے عوامی زمین پر قبضے کے بدلے میں باقاعدگی سے پیسہ وصول کرتے ہیں جو کہ واضح طور پر بات کریں تو غیر قانونی ہے۔

اگر کبھی بھی بیوروکریسی کے اعلیٰ حکام یا پھر اعلیٰ عدلیہ یہ حکم دیں کہ زمین واپس حاصل کی جائے، تو تمام پسِ پردہ ادائیگیوں کو بھلا کر قانون کا ڈرامائی انداز میں نفاذ کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی پالیسی ساز یا پھر سیاستدان اس وقت راہ میں کھڑا نہیں ہوتا باوجود اس کے کہ دوسری جانب وہ معاشرے کے تمام حصوں، بالخصوص غریبوں کی ضروریات کے بارے میں ہر وقت باتیں کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

واقعتاً اس طرح کے آپریشنز کے دوران کوئی بھی اس حوالے سے فکرمند نظر نہیں آتا کہ دربدر ہو چکے دکاندار اور کچی آبادیوں میں رہنے والے لوگ کہاں جائیں گے۔ کیونکہ بہرحال ان کی زندگی اور رہنے کی ضروریات اپنی جگہ ہوتی ہیں اور ان کا شہر کے اندر دوبارہ کسی جگہ مقیم ہوجانا ناگزیر ہوتا ہے۔ شہر کو بھی بدلے میں ایسے کئی کاموں کے لیے مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے جو شہری ماحول کا کوئی دوسرا طبقہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

لیکن حقیقت میں اس طرح کے ایڈ ہاک آپریشن ہمارے منصوبہ بندی و ترقیاتی نظام میں غریبوں کے خلاف طویل عرصے اور مستقل مزاجی سے موجود تعصب کو مزید مضبوط کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہمارے نظام، بالخصوص ہمارے شہروں میں موجود بنیادی بحران مزید گھمبیر ہوجاتے ہیں۔ محروم لوگوں کی آبادی بہرحال بڑھ رہی ہے جبکہ ہماری پالیسیاں اور ہمارے اقدامات بتدریج اس آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے کترا رہی ہیں۔

یہ بدصورت حقیقت مکمل طور پر صرف تب سمجھی جا سکتی ہے جب ہم امیروں اور طاقتوروں کی تجاوزات کے بارے میں قانون کی سب سے شرمناک خلاف ورزیوں کا اعتراف کریں۔ مثال کے طور پر موجودہ وزیرِ اعظم کے بنی گالہ میں گھر کو دیکھیں: سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کو اٹھایا ہے مگر اس نے وزیرِ اعظم سے صرف پراپرٹی ریگولرائز کرنے کی ادائیگی کرنے کا کہہ کر ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ اسی طرح کے دوسرے کیسز میں کوئی بھی حکام تجاوزات، یا زمین کے غیر قانونی حصول، خاص طور پر وہ جو بڑے پراپرٹی ڈیلرز نے ہتھیائی ہو کے خلاف نوٹس تک لینا گوارہ نہیں کرتے۔

مختصراً غریبوں کو سرکاری زمین کے چھوٹے پلاٹس پر رہنے کی سزا دی جاتی ہے جبکہ امیروں کی غیر قانونی حرکات سے ہمیشہ صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے مواقع آئے ہیں جب حکومتوں نے کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے یا پھر چھوٹے دکانداروں اور خوانچہ فروشوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کرنے کے وعدے کیے ہیں۔ مگر ان وعدوں پر کبھی بھی مکمل طور پر عمل نہیں کیا جاتا اور اس دوران ہمارے منصوبہ بندی کے نظام میں موجود غریب مخالف تعصب زیادہ سخت ہوتا جاتا ہے جبکہ امیر اپنی مرضی کے مطابق تجاوزات قائم کرنا جاری رکھتے ہیں۔

ہمارے نظام میں گندھا ہوا یہ اشرافیہ دوست رویہ نہ صرف ہمارے بڑھتے ہوئے طبقاتی فرق میں مزید اضافے کی وجہ بنتا ہے بلکہ قدرتی ماحول کی تباہی کا سبب بھی بنتا ہے۔ زمین، جنگلات، پانی اور معدنیات، سب کو غیر مستحکم و ناپائیدار انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ غریب ترین لوگوں کی جانب سے روز مرہ کی زندگی گزارنے کی کشمکش بھی اس مسئلے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے مگر اس بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران کی ذمہ داری بنیادی طور پر امیروں اور طاقتوروں، اور ان کے ساتھ ساتھ ہمارے منصوبہ بندوں کی ہے جو ہماری مستقبل کی نسلوں کی قسمت سے عموماً لاتعلق ہیں۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ غریب ان تمام عوامی وسائل کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہیں جنہیں وہ استعمال کرتے ہیں۔ کچی آبادیوں کے رہائشی نچلی سطح کے حکومتی اہلکاروں کی جیبیں بھرنے کے بجائے ایک کم قیمت گھر کے لیے حکومت (یا نجی شعبے) کو بخوشی رقم کی ادائیگی کریں گے۔

اسی کلیے کا اطلاق ان چھوٹے دکانداروں پر بھی ہوتا ہے جو ذاتی اور پوشیدہ لین دین کے بجائے تحفظ کو ترجیح دیں گے۔ چنانچہ ذمہ داری ایک بار پھر ان کے کندھوں پر ہے جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ آبادی کے تمام حصوں کے روزگار اور رہائش کی ضروریات کے لیے باقاعدہ انتظامات کریں۔

ویسے تو ایمپریس مارکیٹ کا آپریشن کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے کیا تھا مگر موجودہ حکومت کی خاموشی الفاظ سے زیادہ بلند آواز میں کچھ کہہ رہی ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک ٹاسک فورس قائم کی تاکہ 50 لاکھ گھر تعمیر کیے جا سکیں۔ مگر اس مرحلے پر ہونے والی پیش رفتوں کو دیکھنے والا ایک عام آدمی بھی سنجیدہ منصوبہ بندی کی کمی کا اندازہ لگا سکتا ہے اور یہ ماننے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ اگر زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور سیاسی عزم و ارادہ پیدا نہیں کیا جاتا، تو یہ منصوبہ بھی سٹے بازوں اور کرایہ طلب ریاستی اہلکاروں کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔

کہانی کا نتیجہ: اگر آپ امیر ہیں تو تجاوزات قائم کرتے رہیں اور اگر غریب ہیں تو ایسے مزید آپریشنز کے لیے تیار رہیں۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...