ہفتہ , 15 دسمبر 2018

فلسطینی نوجوان کا پناہ گزینوں کو”ڈچ” زبان سکھانے کا مشن!

کہتے ہیں کہ جنگ کے دو چہرے ہوتے ہیں۔ ایک اس کا سیاہ چہرہ ہوتا ہے جو اس کی بربادی، تباہ کاریوں اور خون خرابے کی علامت ہے جب کہ دوسرا وطن سے ھجرت کی صورت میں کامیابیوں کے ذریعے دنیا کے خزانے سمیٹنا اور دنیا کو اپنےعلم وہنر سے فیضاب کرنا ہوتا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق احمد عمار ابو راشد جنگ کے اسی دوسرے رخ کی زندہ مثال ہے۔ اس کے خاندان کو پہلے تو ان کے آبائی وطن فلسطین سے غاصب صہیونیوں نے بے دخل کیا اور وہ شام میں پناہ گزین بن کر جا بسے، کچھ عرصہ قبل ان کا خاندان شام میں بھی خانہ جنگی شروع ہوئی تو احمد ابو عمار اور اس کی اہلیہ وہاں سے بھی ھجرت کر گئے۔ فلسطین میں احمد عمار اور اس کے خاندان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا تو وہ ملک چھوڑ گئے، شام میں ہمت آزمائی کی مگر وہاں کے خراب حالات کے باعث شام سے بھی نقل مکانی کر گئے۔ مگر اس کے باوجود عمار ابو راشد نے ہمت نہیں ہاری۔ابو راشد اس وقت ہالینڈ کے شہر روٹرڈم میں رہ رہے ہیں۔

سنہ 2016ء کو ابو راشد اپنے اہلیہ اور ماں کے ساتھ ہالینڈ پہنچے۔ فلسطین سے شام اور وہاں سے ہالینڈ پہنچنے پر ابو راشد کے خاندان نے کئی صبر آزما مشکلات بھی اٹھائیں۔ ابو راشد کی اہلیہ کے ہاں ہالینڈ پہنچنے کے بعد ایک بچے نے جنم لیا۔

ان کے لیے ہالینڈ میں آباد ہونے کے بعد ایک بڑی مشکل وہاں کی زبان تھی کیونکہ پورے خاندان میں ایسا کوئی فرد نہیں تھا جو ڈچ زبان جانتا ہو۔ چنانچہ ابو راشد نے شہر کے ایک لینگویج کالج میں دخلہ لیا اور ڈچ زبان سیکھنا شروع کردی۔ وہ نہ صرف تیزی کے ساتھ زبان سیکھتا گیا بلکہ اس نے ہالینڈ پہنچنے والے فلسطینی اور دوسرے عرب پناہ گزینوں کو ڈچ زبان سکھانے کا پروگرام بنایا۔

زبان سیکھنے کے دوران اس کے دماغ میں ایک نیا آئیڈیا آیا، وہ آئیڈیا پناہ گزینوں کو ڈچ زبان سکھانے کا تھا۔ اس نے یہ مشن آن لائن اسکول کی شکل میں شروع کیا اور ساتھ ہی ساتھ پناہ گزینوں کی رہ نمائی شروع کی کہ وہ پردیس میں محنت مزدوری کیسے کرسکتے ہیں اور روزگار کے حصول کے لیے انہیں کیا کچھ کرناہوگا۔

العودہ نیوز نیٹ ورک کو دیےگئے ایک انٹرویو میں ابو راشد نے کہا کہ ہالینڈ پہنچنے کے بعد پہلے تو میں‌نے آن لائن زبان سکھانے کے لیے پروگرام کی خاطر دستاویزات تیار کرنا تھیں۔ اس میں میرے ایک دوست نے میری مدد کی۔ ہمیں ڈچ وزارت تعلیم سے اس کی اجازت مل گئی۔ تاہم اس کے بعد ہمیں ایک ڈچ زبان کے ماہراستاد کی ضرورت تھی۔ اس کی تلاش میں ہمیں کافی مشکل پیش آئی مگر آخر کار ہمیں وزارت تعلیم سے وابستہ ایک استاد مل گئے۔ ہمیں آن لائن تدریس کے لیے لائسنس بھی مل گیا۔

ابو راشد نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر "Taal Talent Online” کے نام سے ویب سائیٹ تیار کرائی۔ احمد ابو راشد چونکہ خود بھی تعلیم یافتہ نوجوان اور جامعہ دمشق کا فاضل ہے، اس لیے اسے ڈچ زبان سیکھنے اوراپنے مشن کو آگے بڑھانے میں عملی طورپر زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔

اس نے کہا کہ منصوبے کے شروع میں پہلے تین ماہ کے دوران ہمیں 1200 طلبہ مل گئے۔ اب ہم اس ادارے کو مزید منظم کرنےکے لیے اس کا نصاب بھی تیار کررہے ہیں۔

احمد عمار ابو راشد کی پردیس میں غیرمعمولی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ کی طرف سےھجرت کرنے والے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد باصلاحیت ، ذی شعور اور پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ لوگ نہ صرف اپنے ملکوں بلکہ میزبان ممالک کے لیے بھی قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...