ہفتہ , 15 دسمبر 2018

اسرائیل میں سیاسی زلزلہ

(تحریر: ابوالقاسم قاسم زادہ)

اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو معرض وجود میں آئے 70 برس بیت چکے ہیں۔ اس ستر سالہ تاریخ میں اکثر اسرائیلی حکومتیں اپنی قانونی مدت پوری نہیں کر پائیں اور مختلف مسائل کی وجہ سے قبل از وقت الیکشن کا انعقاد ہوا ہے۔ قانونی مدت پوری کرنے والی حکومتوں کی تعداد شاید دس سے بھی کم ہو گی۔ اس وقت ایک بار پھر اسرائیل میں سیاسی زلزلہ رونما ہو چکا ہے اور اکثر سیاسی ماہرین اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ موجودہ اسرائیلی کابینہ بھی اپنی قانونی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور اسرائیل میں قبل از وقت پارلیمانی الیکشن منعقد ہوں گے۔ اسرائیل کا موجودہ سیاسی بحران اس وقت معرض وجود میں آیا جب اسرائیل اور اسلامی مزاحمت کی فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان دو روزہ شدید جھڑپیں انجام پائیں۔ ان دو دنوں میں حماس نے اسرائیل پر 400 کے قریب راکٹ فائر کئے جس کے نتیجے میں 3 اسرائیلی ہلاک اور 85 زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مصر کی طرف سے جنگ بندی کی پیشکش قبول کر لی جس پر اعتراض کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے استعفی دے دیا اور یوں اسرائیلی حکومت متزلزل ہو گئی۔

اسرائیلی حکومت کو درپیش سیاسی بحران اس وقت مزید شدید ہو گیا جب وزیر تعلیم نفتالی بینٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کو کہا کہ انہیں وزیر دفاع بنا دیا جائے ورنہ وہ بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیں گے۔ بنجمن نیتن یاہو نے جمعہ کے روز نفتالی بینٹ سے بات چیت کی ہے لیکن یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے۔ لہذا نفتالی بینٹ کی سربراہی میں یہودی گھر پارٹی بھی اسرائیلی وزیراعظم کو چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ اگرچہ بنجمن نیتن یاہو اب بھی اپنی حکومت بچانے اور قبل از وقت الیکشن منعقد ہونے سے روکنے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہیں لیکن ان کی کوششیں زیادہ مفید نظر نہیں آتیں۔ اسرائیل میں مجموعی طور پر 34 سیاسی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کینسٹ) میں سیٹوں کی کل تعداد 120 ہے۔ ان میں سے 20 سیٹیں عرب باشندوں سے مخصوص ہیں۔

اسرائیل میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس سے ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے موجودہ سیاسی بحران کے دو بڑے اثرات ظاہر ہوئے ہیں: ایک یہ کہ غزہ کی پٹی کے قریب مقیم اسرائیلی شہری خود کو شدید غیرمحفوظ تصور کرنے لگے ہیں اور اسرائیلی حکومت کو مناسب سکیورٹی فراہم نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اسرائیلی فوجی کے حوصلے بھی شدید پست ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے حماس سے جنگ بندی قبول کر لینا اور اس کے بعد وزیر دفاع لیبرمین کا مستعفی ہو جانا موجودہ حکومت کی واضح شکست کو ظاہر کرتا ہے۔ اویگڈور لیبرمین جو خود کو دوسرا جنرل شارون تصور کرتے ہیں، نے وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے حماس سے جنگ بندی قبول کرنے کی شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے اور وہ غزہ کے خلاف بھرپور جنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم نیتن یاہو ملک کے اندرونی حالات خاص طور پر فوج کی ابتر صورتحال اور عوامی مظاہروں کے پیش نظر نئی جنگ شروع کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لہذا وہ فلسطین سے جنگ بندی قبول کر چکے ہیں۔

اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ (کینسٹ) میں دائیں بازو والی جماعتوں کی اکثریت ہے۔ مستعفی اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین شدت پسند دائیں بازو والی جماعتوں کا نمائندہ تصور کئے جاتے تھے۔ یہ جماعتیں خطے میں اسرائیلی اثرورسوخ قائم کرنے کیلئے فوجی طاقت کے کھلے استعمال پر زور دیتی ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب منتقل کئے جانے کے بعد اکثر سیاسی ماہرین مشرق وسطی سے متعلق امریکی خارجہ سیاست کو اسرائیل محور قرار دے رہی تھیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی خود کو ٹرمپ کا قریبی اتحادی ظاہر کر کے خطے میں امریکہ کے تھانیدار کے طور پر ظاہر کر رہے تھے۔ ان حالات میں اسرائیلی میڈیا نے بھی فلسطین میں اسلامی مزاحمت کے خاتمے پر مبنی وسیع پراپیگنڈہ شروع کر رکھا تھا۔ لیکن حالیہ دو روزہ جنگ میں حماس کے مقابلے میں اسرائیل کی ذلت آمیز شکست نے پوری گیم تبدیل کر کے رکھ دی ہے اور وہی بنجمن نیتن یاہو جنہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا تھا اب جنگ بندی قبول کرنے کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں اور ان کی حکومت بھی شدید تزلزل کا شکار ہو چکی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...