ہفتہ , 15 دسمبر 2018

فلاحی سرگرمیاں فلسطینی اتھارٹی کے شکنجے میں!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی نے فلاحی شعبے کو اپنی جکڑ بندیوں میں پکڑ رکھا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں کئی ایسی تنظیمیں فلاحی کاموں، سماجی بہبود اور شہریوں کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں، مگر اب ان اداروں کو فلسطینی اتھارٹی نے اپنی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک خبرنےعوام الناس کو صدمے سے دوچار کردیا۔ خبر یہ تھی کہ فلسطینی اتھارٹی نے محکمہ زکوۃٰ کے زیرانتظام دودھ صاف کرنے والا کارخانہ بند کر دیا۔ فلسطینی اتھارٹی کا یہ اقدام باعث تشویش اور حیران کن ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں، 2007ء سے فلسطینی اتھارٹی نے غرب اردن کے تمام فلاحی ادارے اپنی تحویل میں لے رکھے ہیں۔ ان فلاحی اداروں پر یا فلسطینی اتھارٹی کا تسلط ہےیا تحریک فتح کے قبضے میں ہیں۔

غزہ میں فلسطینی حکومت میں پیدا ہونے والے کشیدگی کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے غرب اردن میں تمام فلاحی ادارے بند کردیے، ان کی املاک ضبط کرلی گئیں۔ غزہ کی پٹی میں حکومت کے ہاتھ سے چلے جانے کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے غرب اردن میں فلاحی اداروں پر کلھاڑا چلایا گیا۔

فوجی مداخلت
گذشتہ 10 سال تک فلسطینی اتھارٹی نے بہ تدریج فلسطینی فلاحی اداروں کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ فلسطینی اتھارٹی اور اس کے ماتحت سیکیورٹی اداروں نے یکے بعد دیگر فلسطینی فلاحی اداروں کو قبضے میں لینے کی پالیسی اپنائی۔غرب اردن میں فلاحی کارکنوں کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں کے بعد فلسطینی کارکن اپنی ذمہ داریوں سے استعفیٰ دینے پرمجبور ہیں۔

رواں سال رمضان المبارک اور بعد ازاں عید الاضحیٰ پر فلسطینی اتھارٹی نے زکوٰۃ کمیٹیوں کو احکامات صادر کیے گئے اور ان سے کہا گیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی اقدام نہیں کریں گے۔

زکوٰۃ کمیٹی کے سابق رکن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سپریم سیکیورٹی کمیٹی نے اسے حماس سے تعلق کے الزام میں ملازمت سے فارغ کردیا حالانکہ میں کمیٹی میں سب سے زیادہ چندہ جمع کرنے والا تھا۔

اس نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کی طرف سے فلاحی اداروں میں کھلم کھلا مداخلت جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ فلسطینی سیکیورٹی ادارے ییتمیوں اور فقراء کی حقوق پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
زکوٰۃ کمیٹی کے درجنوں ارکان نے گذشتہ برس کے بعد سے اب تک سیکیورٹی اداروں کی طرف مداخلت کے باعث مستعفی ہوگئے۔

یتیم خوف زدہ
فلسطین کی ایک بیوہ خاتون نے بتایا کہ اس کا تعلق عسکرقصبے سے ہے اور اس کے چار یتیم بچے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ چار سال سے فلسطینی اتھارٹی اس کے بچوں کے حقوق دبا رکھے ہیں۔ چار سال سے اس کے بچوں کا معاوضہ نہیں مل سکا ہے۔

غرب اردن میں فلاحی اداروں پرفلسطینی اتھارٹی کے قبضے سے فلسطینی یتیم، بیوہ خواتین اور دیگر نادار شہری پریشان ہیں۔ نابلس سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی خاندان نے بتایا کہ ان کے پانچ یتیم بچوں کو تین سال سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان فلسطینیوں کا تعلق غرب اردن کے شہر بلاطہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے خوراک کے پیکٹ دیے جاتے ہیں جن کی قیمت 90 شیکل سے زیادہ نہیں ہوتی۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...