ہفتہ , 15 دسمبر 2018

بریگزٹ – برطانیہ بحران کا شکار

(آصف جیلانی)
برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کی بے تابی کے عذاب کی وجہ سے برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے اس وقت چومکھی بحران میں گرفتار ہیں۔۲۰۱۶ کے ریفرنڈم کو جس میں برطانوی عوام کی اکثریت نے یورپ سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا ڈھائی سال ہوگئےہیں. حکومت یورپ سے طلاق کے بارے میں سمجھوتہ طے کرنے میں ناکام ہےاور اب جب کہ علیحدگی کی تاریخ ۲۹ مارچ ۲۰۱۹ سر پر آن پہنچی ہے ٹریسا مے نے سخت عجلت میں یورپ سے طلاق اور آئندہ رشتوں کے بارے میں جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے خلاف ان کی ٹوری پارٹی میں شدید بغاوت بھڑک اٹھی ہے ۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ یورپ کے چنگل سے آزادی کا وہ منصوبہ نہیں ہے جس کے لئے عوام نے ریفرینڈم میں ووٹ دیا تھا۔ ٹریسا مے کی کابینہ کے پانچ وزیروں نے اس منصوبہ کو مسترد کرتے ہوئے استعفی دے دیا ہے اور اب باغی ٹوری اراکین پارلیمنٹ ٹریسا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ادھر حزب مخالف لیبر پارٹی اور دوسرے مخالف جماعتوں نے جن میں اسکاٹش نیشنل پارٹی پیش پیش ہے ، اس منصوبہ کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ آخری کوشش کے سلسلہ میں ٹریسا مے اپنے منصوبہ پر یورپی یونین سے حتمی مذاکرات کے لئے ۲۵ نومبر کو برسلز جارہی ہیں لیکن وہاں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس کی پارلیمنٹ میں منظوری مشکل نظر آتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ کو بغیر کسی سمجھوتے کے یورپ کو الوداع کہنا پڑے گا جس کے تباہ کن نتائج کا سامنا یقینی ہے۔

موجودہ بحران کو دیکھ کر مجھے وہ زمانہ یاد آگیا جب ۱۹۷۴ میں ٹوری پارٹی کے وزیر اعظم ایڈورڈ ہیتھ نے برطانیہ کی ابتر اقتصادی صورت حال کے پیش نظر یورپی مشترکہ منڈی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد دوسرے سال ہی لیبر وزیر اعظم ہیرلڈ ولسن نے مشترکہ منڈی میں شمولیت کے مسئلہ پر ریفرینڈم کرایا تھا ۔اُ سوقت سار استدلال یہ تھا کہ دوسری عالم گیر جنگ کے بعد یورپ میں جنگوں کے خاتمہ کے لئے یورپ کا جو سیاسی، فوجی اور اقتصادی اتحاد قائم کیا گیا ہے اس کو مضبوط بنایا جائے اور یورپ میں شمولیت سے برطانیہ اپنا بین الاقوامی اثرو نفوس دوبارہ حاصل کر سکے گا جو وہ اپنی سمندر پار نوآبادیوں کے خاتمہ کے بعد ہاتھ سے گنوا بیٹھا ہے ۔ اس ریفرینڈم میں برطانوی عوام کی اکثریت نے اس قدر جوش و خروش سے یورپی منڈی میں شمولیت کے حق میں فیصلہ کیا تھا جیسے یورپ پر وہ چھا جائیں گے۔ یوں پچھلے چوالیس سال سےبرطانیہ یورپ میں خوشحالی سے سرشار تھا اور متحدہ یورپ سے سیاسی قوت اور اثر و رسوخ حاصل کررہا تھا۔

لیکن اس دوران UKIPکے نایجل فراج کی قیادت میں نسل پرست قوتوں نے یورپ کے تارکین وطن اور یورپ کے راستے آنے والے پناہ گزینوں کی آمد پر ایسا شور مچایا کہ اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بوکھلا گئے اور انہیں ٹوری پارٹی کے بکھرنےاور اپنے اقتدار کے خاتمہ کا خطرہ پیدا ہوا ۔ کیمرون کی اس گھبراہٹ سے نسل پرستوں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے ٹوری پارٹی کے دائیں بازو کے عناصر سے گٹھ جوڑ کر کے یورپ سے علیحدگی کے لئے مہم چلائی۔ آخر کار کیمرون نے گھٹنے ٹیک دیے اور یورپ سے علیحدگی کے سوال پر ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ریفرینڈم بے حد جذباتی ماحول میں ہواجس کےدوران سنجیدگی سے یورپ سے علیحدگی کے اقتصادی اور سیاسی مضمرات پر قطعی بحث نہیں کی گئی ۔ سارا زور اس پر تھا کہ برطانیہ برسلز میں یورپی یونین کے مرکز کے قواعد اور احکامات کی وجہ سے اپنی خود مختاری کھو بیٹھا ہے اور یورپ سے بلا روک ٹوک یورپیوں کی آمدو رفت کی بنا پر اپنی سرحدوں پر کنٹرول سے محروم ہوگیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس پر بھی شور مچایا گیا کہ یورپی عدالت کے دائرہ اختیار کی وجہ سے برطانیہ اپنی عدلیہ کی آزادی کھو بیٹھا ہے ۔

اس جذباتی ماحول میں یورپ سے علیحدگی کے حامیوں نے یہ دعوی کیا کہ یورپی یونین کی رکنیت کی بنا پر برطانوی تاریخ کا گہرا تسلسل ٹوٹ گیا ہے۔ اس دعوی کے پس پشت در اصل برطانیہ کے ماضی کی سامراجی ذہنیت کا سراب تھا اور یہ احساس تھا کہ یورپ میں شمولیت کی وجہ سے اس کی پرانی نوآبادیوں والے علاقوں سے اس کا اثرونفوس معدوم ہو چکا ہے ۔برطانیہ کے عوام کو دوسری عالم گیر جنگ میں چرچل کی قیادت میں برطانیہ کی فوجی بالادستی پر بے حد فخر رہا ہے اور اب بھی یہ عظمت رفتہ کی روشنی سے اپنے قلب گرماتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ اب یورپ کے ۲۸ ملکوں میں سے ایک ملک ہے جسے دنیا کے سپر ملکوں میں شمار نہیں کیا جاتا۔ عوام ماضی کے سراب میں یہ بھول جاتے ہیں کہ برطانیہ فوجی طور پر اس قابل نہیں کہ وہ دوسر ی عالمی جنگ کی پیمانہ کی جنگ لڑنے کے بارے میں ایک لمحہ کے لئے سوچے ۔ دوسری جنگ میں چرچل کو عالمی سامراجی قوت حاصل تھی ۔

برطانیہ میں لوگ ، ۱۹۵۶ کی سویز کی جنگ بھی یاد کرتے ہیں ،جب انتھونی ایڈن نے سویز پر قبضہ کے لئے مصر پر حملہ کیا تھا۔ لیکن لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت برطانیہ یورپ کی مالدار معیشت سے سرشار تھا اور اس کی فوجی قوت کا کوئی ہم پلہ نہیں تھا۔ آج برطانیہ محض ایک یورپی طاقت ہے فرانس اور جرمنی کی طرح۔ اس صورت حال کے لئے دوش برطانیہ کے عوام یورپی یونین کی رکنیت کو دیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ یورپی یونین سے علیحدگی کے لئے تمام مضمرات سے آنکھیں بند کر کے بے قرار ہیں اور وہ اسے برطانیہ کی خود مختاری کی بازیابی تصور کرتے ہیں۔

اب برطانیہ کے عوام پر یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ اگر یورپی یونین سے بغیر کسی سمجھوتے کے علیحدگی اختیار کی گئی تو اس کے نتیجہ میں برطانیہ کا اتحاد پارہ پارہ ہونے کا خطرہ ہے۔ سب سے مشکل مسئلہ شمالی آئیر لینڈ کا ہے جہاں آئی آر کی طویل مسلح جدوجہد اور خانہ جنگی کے بعد رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیاں فرائی ڈے ایگریمنٹ طے پایا تھا اور دونوں فرقوں کے درمیان اقتدار کی شراکت کے علاوہ جمہوریہ آئیرلینڈ کے درمیان سرحد کھلی رکھی گئی ہے۔ برطانیہ کی علیحدگی کے بعد جمہوریہ آئیر لینڈ یورپ میں شامل رہے گا۔ جس کے بعد سرحد پرآزادانہ آمد ور رفت بند ہو جائے گی۔ فوری طور پر اس مسئلہ کے حل کے لئے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے شمالی آئیر لینڈ کسٹم یونین میں شامل رہے گا ۔ یورپ سے علیحدگی کے کٹر حامیوں کا اصرار ہے کہ یہ انتظام محدود عرصہ کے لئے ہونا چاہئے لیکن یورپی یونین غیر معینہ عرصہ پر مصر ہے ۔ شمالی آئیر لینڈ کے پرو ٹسٹنٹ فرقہ کو خطرہ ہے کہ اس انتظام سے شمالی آئیر لینڈ پر برطانیہ کی خود مختاری کو زک پہنچے گی ۔ پھر اسکاٹ لینڈ میں عوام کی اکثریت یورپ میں برقرار رہنے کی حامی ہے ، وہاں عوام کا کہنا ہے کہ آئیرلینڈ کے ساتھ جو ترجیح برتی جارہی ہے وہ اسکاٹ لینڈ سے نا انصافی ہے اور اس ناانصافی کی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ دوبارہ آزادی کے ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہو گا۔ یہ صورت حال برطانیہ کے اتحاد لے لئے نہایت خطرناک ہے۔

اگر وزیر اعظم ٹریسا مے اپنی پارٹی کی بغاوت پر قابو پا لیتی ہیں تب بھی یورپ سے طلاق کے سمجھوتے کی پارلیمنٹ سے منظوری نا ممکن نظر آتی ہے اور اگر بلا سمجھوتے کے برطانیہ یورپ سے علیحدہ ہوتا ہے تو ٹریسا مے کا نام تاریخ میں برطانیہ کے ناکام ترین وزرائے اعظم میں لکھا جائے گا۔بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...