ہفتہ , 15 دسمبر 2018

یوٹرن

(مظہر برلاس)
پورے ملک میں یوٹرن کی گردان جاری ہے یا پھر ہر طرف یوٹرن کا منتر ہو رہا ہے۔ یوٹرن کا تذکرہ 16نومبر کی دوپہر سے بڑی شدت سے ہو رہا ہے۔ ہنوز جاری ہے اور پتا نہیں ذکر کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔16نومبر کی دوپہر وزیر اعظم عمران خان اپنے آفس میں چند کالم نگاروں سے ملے۔ اس ملاقات میں دومشیروں نعیم الحق اور افتخار درانی کے علاوہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور سینیٹر فیصل جاویدخان بھی شریک تھے۔کالم نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یوٹرن کی افادیت بیان کی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کالم نویسوں کو بتایاکہ ’’جب ہم کرکٹ کھیلتے تھے تو مخالف ٹیم کے لئے ایک حکمت عملی ترتیب دیتے اور اگر مخالف کوئی اور دائو استعمال کرتا تھاتو پھر ہم یکدم اپنی حکمت ِ عملی بدل لیتے تھے۔ اسی کا نام یوٹرن ہے، جن لوگوں نے یوٹرن نہ لیا وہ ناکام ہوئے مثلاً نپولین جب روس کے سخت موسم میں پھنس گیا، اس کی فوج کے لئے برفیلے تھپیڑوں کا مقابلہ کرنامشکل ہو گیا تو اسے بہت کہا گیا کہ واپسی اختیار کرلی جائے، موسم کی شدت میں کمی آنے پر پھرسے حملہ کیا جاسکتا ہے مگر نپولین ضد پراڑا رہا، اس نے واپسی سے انکارکیا۔ اس نے یوٹرن نہ لیا۔ اس کا اسے نقصان ہوا۔ اسی طرح ہٹلر کے ساتھ ہوا۔ ہٹلر بھی سخت موسم کا شکارہوا۔ جب اسے طوفانی موسم نے گھیر لیا۔ اسے اس کے جرنیلوں نے بہت سمجھایا کہ اس موسمی شدت کے باعث ہماری فوج مرجائے گی۔ ہم اس طوفانی موسم کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ فی الحال واپسی کرلیتے ہیں مگر ہٹلر نے اپنے جرنیلوں کی ایک نہ سنی اوریوٹرن لینے سے انکار کردیا۔ اسی انکار نے اس کے مقدر میں ناکامی لکھ دی۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کےلئے دنیا کے عظیم لیڈروں نےاپنی حکمت عملی بدلی۔ حکمت عملی کے بدلنے ہی کو تو یوٹرن کہاجاتا ہے۔ کھیل کا میدان ہو یاجنگی میدان، جیتنےوالےاپنی حکمت عملیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔‘‘

ہم دیہاتی لوگ ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کشتی کے دوران بھی پہلوان حکمت عملی بدلتے ہیں۔ کبڈی کے دوران بھی نئے دائو آزماتے ہیں، کبھی دائو بدلتے ہیں۔ دریا میں کشتی چلانے والا ملاح بھی پانی کے بہائو کو دیکھ کر رخ بدلتا ہے۔ زمیندار کبھی بارش ہونے کی دعائیں کرتا ہے اگر بارش نہ ہو تو پھر حکمت عملی بدل کر پانی کے متبادل ذرائع ڈھونڈتاہے۔ جب فصل پک جاتی ہے تو بارش نہ ہونے کی دعائیں کرتا ہے اور اگر آسمان پر بادل نظر آ جائیں تو پھر فصل کو جلدی گھر پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ کھیت سے گھر تک بھی وہ بندوبست کرتا ہے۔ ہم سب لوگ موسم کی مناسبت سے یوٹرن لیتے ہیں۔ سرد موسم میں میدانی علاقوں میں اور لباس استعمال کرتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں اور خاص طور پر برف آلود علاقوں میں ہمارا لباس مختلف ہوتا ہے۔ اسی طرح گرم موسم میں ہمیں لباس کے معاملے میں کوئی اور حکمت ِ عملی اختیار کرنا پڑتی ہے اگر لباس میں حکمت اختیار نہ کی جائے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم ہاکی کھیلتے وقت مخالف ٹیم کامزاج دیکھ کر حکمت عملی بدلتے تھے۔ اگر آپ گاڑی چلا رہے ہوں اور راستے میں دھند آجائے تو آپ کو فوگ اور اسموگ کے باعث حکمت عملی بدلنا پڑتی ہے۔آپ کو گاڑی آہستہ چلانا پڑتی ہے اگر آپ گاڑی تیز چلائیں تو پھر آپ حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح سڑک کے درمیان کوئی پل ٹوٹ جائے تو آپ ٹوٹا ہوا پل دیکھ کر متبادل راستہ تلاش کرتے ہیں۔ یوٹرن لینا مجبوری بن جاتا ہے۔یوٹرن لینا ہی دراصل سیاست ہے۔ سیاست میں انسان حکمت عملی بدلتا ہے۔ کچھ لوگوں نے پچھلے دنوں قائداعظم کے حوالے دیئے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک زمانے میں قائداعظم انڈین نیشنل کانگریس کاحصہ تھے پھر وہ حکمت عملی بدلتے ہوئے مسلم لیگ کا حصہ بنے۔ انہوں نے حکمت عملی ہی سے 14نکات پیش کئے۔

کچھ لوگوں نے ریاست ِمدینہ کے حوالے سے باتیں کیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ریاست مدینہ کو قائم کرنے کے لئے ہر لمحے حکمت سے کام لیاگیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت ایک حکمت کے تحت رات کو نبی پاکﷺ کے بستر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سلایا گیا۔ پھر ایک حکمت کے تحت ہی صلح نامہ حدیبیہ کیاگیا ۔ غزوہ احد میں گھاٹی پرکھڑے ہونا ایک حکمت کے تحت تھا مگر جونہی مسلمانوں نےگھاٹی چھوڑی تو اس کا نقصان ہوا۔ جنگ خندق کے مرحلے پر خندق ایک حکمت عملی کے تحت کھودی گئی۔ جب خیبر فتح نہیں ہو رہا تھا تو حکمت عملی بدلتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مدینہ سے بلایاگیا۔ اس حکمت کے باعث خیبر فتح ہوا۔ آپ کو یاد ہوگاکہ نواسہ ٔ رسولﷺ حضرت امام حسین ؓ مدینہ سے حج کے لئے مکہ کو روانہ ہوئے تھے ، جب انہیں پتا چلا کہ یزید یہ چاہتا ہے کہ دوران حج بھگدڑ کے ذریعے امامؓ کو کچل کر قتل کردیا جائے تو حضرت امام حسینؓ نے حکمت عملی تبدیل کی۔ حج کے ارادےکو عمرے میں تبدیل کیا اور پھرکہا ’’میں اپنے دشمن کو بے نقاب کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ فتح مکہ کے موقع پر بھی مسلمان تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ جب اہل مکہ نے مزاحمت نہ کی تو پھر نبی پاکﷺ نے مکہ کو جائےامن قرار دے دیا۔

پاکستان میں جمہوریت کے خدمت گاروں کی خدمت میں عرض ہے کہ بھٹو، جنرل اسکندر مرزا اور جنرل ایوب کے دور میں داخل ہوئے پھر حکمت عملی بدل کر عوامی سیاست شروع کردی۔ نوازشریف، جنرل جیلانی کے راستے جنرل ضیاء الحق کی چھتری تلے آئے اور پھرحکمت عملی بدل کر عوامی بن گئے۔ واپڈا کا ایک معمولی اہلکار یوٹرن لے کر یعنی حکمت عملی بدل کر وفاقی وزیر بن جاتا ہے۔ اسی لئے عمران خان کہتا ہے کہ یوٹرن عظیم لوگوں کی پہچان ہے۔ بقول محسن ؔنقوی….

میری طرح کسی سے محبت اُسے بھی تھی
(بشکریہ جنگ نیوز)

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...