منگل , 11 دسمبر 2018

سعودی شاہی فرمان، وزیر داخلہ قربان

(تحریر: آئی اے خان)
کیا واقعی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش کے مابین ہونے والا مکالمہ اتنا سنگین تھا کہ سعودی حکومت اس کا نوٹس لے، وزیراعظم پاکستان سے اظہار شکوہ کرے اور اس شکوے کی بنیاد پہ وزیراعظم عمران خان جو کہ انتخابات سے قبل اپنی ہر تقریر میں خود مختاری، حمیت، غیرت اور خود احترامی کی باتیں کرتے تھے، وہ محض سعودی حکومت کی خوشنودی کیلئے اپنے ہی وزیر داخلہ (مملکت) کی سخت الفاظ میں سرزنش بھی کریں اور اسے مجبور کریں کہ وہ سعودی سفارتخانے میں جاکر سعودی حکومت کے نمائندے سے معافی مانگے اور پھر معافی مانگے جانے کے بعد بھی ان سے وزارت واپس لینے پہ غور و فکر کیا جائے، محض اس لئے کہ سعودی عرب نے ان کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی قوانین کے تحت پاکستان میں موجود سعودی سفارتخانہ سعودی جائیداد ہے اور سفارتخانہ کے اندر سعودی قوانین کا ہی اطلاق ہوتا ہے، چنانچہ اگر شہریار آفریدی نے سفارتخانے میں سعودی سفیر سے معافی مانگی ہے تو سفارتی ضوابط کے تحت اسے سعودی عرب میں جاکر سعودی حکومت سے معافی کی طلبی شمار کیا جائے گا۔

اسلامک یونیورسٹی کے صدر احمد یوسف الدرویش، سعودی حکومت، وزیراعظم عمران خان کے رویئے اور شہریار آفریدی کی اپنے اصولی موقف پہ معذرت خواہی پہ رائے دینے سے قبل وہ مکالمہ ملاحظہ فرمائیں کہ جو وجہ تنازعہ بنا۔ اسلامک یونیورسٹی میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے اسلامی یونیورسٹی کے صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب میں پاکستانیوں سے اچھا سلوک نہیں ہوتا، مسلمان اس وقت بے حس اور یتیم ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کے وسائل پر کوئی اور مزے کر رہا ہے، جبکہ فیصلے کوئی اور کر رہا ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، ہم نے مسلمان کی عزت اور غیرت پر سودے بازی نہیں کرنی۔ سعودی عرب میں پاکستانیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، تنخواہیں نہیں دی جاتی۔ اس حوالے سے ہماری درخواست ہے کہ آپ آگے جا کر بتائیں کہ اس معاملے پر ہم خوش نہیں ہیں، یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئیے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ مثال کے طور پر میں ایک ڈرگ ڈیلر ہوں، ایک بزرگ کو عمرہ یا حج کے بہانے ٹکٹ اور ویزا لے کر دوں اور اس کے سامان میں پاوڈر بھی رکھ دوں، تو اس بچارے کا سر قلم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس بارے میں تحقیقات نہیں کی جاتیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ سعودی جیلوں میں ایک بیرک میں 15 بندوں کی جگہ ہے، لیکن وہاں 200 بندوں کو رکھا جاتا ہے۔ یہ میرے پاکستانیوں کی تذلیل ہے۔ گوروں کو تو کوئی دیکھتا ہی نہیں ہے۔ میرا پڑھا لکھا بچہ سعودی عرب جاتا ہے تو اس کی تنخواہ مشکل سے 4 یا 5 ہزار ریال ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی گوری چمڑی والے نالائق سعودی عرب جاتا ہے تو اس کی تنخواہ 30,40 ہزار ریال ہوتی ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم خود مسلمانوں کو کم تر ظاہر کر رہے ہیں۔ شہریار فریدی نے کہا کہ ہم نے کسی سے کچھ نہیں مانگنا، ہمارا ایمان اللہ تعالیٰ پر ہے، ہم سعوی عرب کو مزید عزت دیں گے، لیکن سعودی عرب سے کہیں کہ وہ بھی پاکستانیوں کو گلے سے لگائے۔ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ شہریار آفریدی نے اس گفتگو کے دوران ایسی کون سی غلط بیانی کی ہے کہ جو توہین آمیزی کے زمرے میں آتی ہو اور سعودی شاہی مزاج پہ اتنی گراں گزرے کہ نوبت سعودی سفیر سے معافی مانگنے تک جا پہنچے۔

شہریار آفریدی کی اس گفتگو کی وڈیو بھی سوشل میڈیا پہ وائرل ہوچکی ہے۔ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو درپیش مسائل کا ذکر منتخب جمہوری حکومت کا ایک ذمہ دار وزیر نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا۔؟ سعودی عرب کیلئے پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمات اتنی کم قیمت تو نہیں کہ ہمارا ایک منتخب وزیر اپنے ہی شہریوں کو درپیش مسائل کا ذکر تک نہ کر پائے۔ سعودی عرب کی مہربانی سے داخلی سطح پہ پاکستان کو جن حالات و مسائل سے دوچار ہونا پڑا، اس کی فہرست کافی طویل ہے اور پاکستانیوں نے اس کی شدید بھاری قیمت بھی چکائی ہے، اس فہرست اور قیمت پہ تفصیلی بات پھر کبھی، چونکہ شہریار آفریدی نے اپنی گفتگو میں دو اہم مسائل پہ بات کی ہے، پہلا سعودی عرب میں پاکستانیوں کے سر قلم کرنے کا جاری سلسلہ اور دوسرا سعودی عرب میں موجود افرادی قوت کو درپیش مسائل اور سعودی حکومت کی ان کے حل میں عدم دلچسپی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں مسئلے اتنی شدید نوعیت کے ہیں کہ حکومت کو اس پہ بات کرنی چاہیئے۔؟ تو اس کا جواب ہاں میں ہے۔ ان دونوں مسائل سے متعلق دو مختصر رپورٹس ذیل میں پیش ہیں۔

تقریباً دو ماہ قبل روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’’سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دو ہزار سے زائد پاکستانی محنت کش گذشتہ 18 ماہ سے بغیر تنخواہ کے کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ کیمپوں میں رہائش پذیر پاکستانی سہولیات سے محروم ہیں، ان کے اقامے کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ اپنے ملک جانے کی اجازت بھی نہیں مل رہی اور وسائل بھی نہیں ہیں، جبکہ پاکستانی سفارتخانہ بھی اس معاملے پہ چپ سادھے ہوئے ہے۔ ہولڈنگ کمپنی سے منسلک پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں رہتے ہوئے انکے اقامے بھی ختم ہوچکے ہیں، ریاض کے علاقے الیہ کے ایک کیمپ میں موجود پاکستانیوں کو سعودی کمپنی معاہدہ کے تحت دیار غیر میں تو لے آئی، مگر محنت کشوں کو گذشتہ اٹھارہ ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، رزق حلال کی تلاش میں پردیس کی مشکلیں کاٹنے والے دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ریاض کے مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ 18 ماہ سے جیل جیسے حالات میں شب و روز گزارنے والوں کے اقامے بھی ختم ہوچکے، کمپنی واجبات ادا کر رہی ہے، نہ ہی انہیں وطن واپس بھجوانے کا کوئی بندوبست ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مدد کی اپیل کی ہے۔

دوسری رپورٹ سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی جانب سے پیش کئے جانے والے وہ اعداد و شمار ہیں، جو انہوں نے رواں سال کے اوائل میں سینیٹ میں پیش کئے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں 2013ء سے اب تک مختلف جرائم میں 66 پاکستانیوں کو سزائے موت دی گئی۔ ’’پاکستان میں کسی عربی کو پھانسی تو درکنار حوالات میں ایک شب گزارنی بھی گناہ کبیرہ شمار ہوتی ہے۔‘‘ وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ 1337 پاکستانی ریاض اور 1580 جدہ کی جیلوں میں قید ہیں۔ یعنی ریاض اور جدہ میں قید پاکستانیوں کی تعداد اڑھائی ہزار سے متجاوز ہے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ اور قونصلیٹس جیلوں میں قید پاکستانیوں کو قونصلر کی سطح تک رسائی فراہم کرتے ہیں، تاہم ہمارے مشن کی قانونی خدمات، تراجم، مقدمات کی تیاری میں سہولت اور مختلف ایجنسیوں کے ساتھ معاملات طے کرنے تک محدود ہیں، اس سے زیادہ ہم کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا یہ اعداد و شمار اس امر کے متقاضی نہیں کہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی اس بے چارگی کو سعودی شاہی حکومت کے سامنے بیان کرے۔

اس ضمن میں شہریار آفریدی نے بات کی تو اس کی تحسین و ستائش ہونی چاہیئے تھی اور وزیراعظم کو چاہیئے تھا کہ انہیں سراہتے، تاہم معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوا۔ شہریار آفریدی کی بات پہ سعودی رویہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش یقینی طور پہ ایک پڑھے لکھے ہوں گے، پاکستان میں ایک بڑے تعلیمی ادارے کے سربراہ کے طور پر انہیں کافی عزت و توقیر حاصل ہے۔ پاکستان نے انہیں جو احترام دیا ہے، وہ احترام اس امر کا متقاضی تھا کہ وہ سعودی شاہی خاندان کے سامنے وزیر داخلہ کی شکایت کرنے کے بجائے دونوں مسئلے مثبت انداز میں پیش کرتے، تاکہ وہاں موجود پاکستانیوں کو کچھ ریلیف ملتا یا جیلوں میں موجود پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں مدد ملتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر جرائم میں ملوث پاکستانیوں کے سر کاٹنے کے بجائے حکومت پاکستان کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کے بعد ان افراد کی زندگی و موت کے فیصلے کئے جاتے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ سعودی شاہی مزاج کے سامنے پاکستان کو اپنے مسائل کے اظہار کی بھی اجازت نہیں اور سعودی شاہی اقدامات کے سامنے چوں چرا بھی توہین کے زمرے میں شامل ہے۔

اس بات کی تصدیق سعودی حکومت نے یوں کی ہے کہ بجائے مسائل کے حل کی یقین دھانی کے الٹا وزیراعظم کے سامنے اظہار ناراضگی کیا۔ سب سے بڑھ کر حیران کن اور قابل تشویش ردعمل وزیراعظم کا ہے کہ جنہوں نے پاکستانیوں کو خود احترامی اور خود مختاری کے خواب تو بہت دکھائے، مگر جب تعبیر کا وقت آیا تو اپنے ہی وزیر داخلہ کو اصولی موقف چھوڑ کر سعودی سفیر سے معافی مانگنے کا درس دیا۔ کیا پاکستان سعودی عرب کی باج گزار ریاست ہے۔؟ عہد جمہوریت ہو یا دور آمریت، ہماری خود مختاری، قانون، خود احترامی ہمیشہ سعودی قصر شاہی میں رہن کیوں رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی دور حکومت میں پروفیسر فتح ملک جو کہ بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر تھے۔ محض اس بناء پہ اپنے عہدے سے برطرف کئے گئے کہ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران سعودی شاہی نظام کی خامیوں پہ بات کی تھی۔ اس برطرفی کے خلاف اسلامک یونیورسٹی کے طالب علموں نے احتجاج کیا تو حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی، ایوان صدر کی جانب سے مسلسل کوششوں کے باوجود بھی پاکستان سعودی عرب کو اس بات پہ قائل نہیں کر پایا کہ پروفیسر فتح ملک کو مزید چار ماہ برداشت کر لیا جائے۔

یہی نہیں بلکہ عدالتی احکامات کے باوجود ہم تلور کا شکار نہیں روک پائے۔ ہم تو مختلف حکومتی ادوار میں محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے ان افسران کی برطرفیاں اور تبادلے بھی نہیں روک پائے، جنہوں نے حد سے متجاوز تلور کے شکار کی نشاندہی کرنے کی گستاخی کی۔ ہم شکاریوں کی صحرائی خیمہ بستیوں سے آنیوالی کمسن چیخوں پہ بھی اظہار افسوس یا ندامت تک ظاہر نہیں کر پائے، یہاں تک ہم نے ملکی ترقی اور عوامی ضرورت کے کئی منصوبے بھی محض اس بناء پہ عملدرآمد سے قبل ہی ترک کر دیئے کہ سعودی فرمانروا خوش نہیں۔ آج تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر داخلہ کے معافی مانگنے کے باوجود بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شہریار آفریدی سے وزارت واپس لے لی جائے۔ تبدیلی کے نعرے سے برسر اقتدار آنے والی حکومت ہی یہ بتا سکتی ہے کہ اس ضمن میں تبدیلی کہاں آئی ہے۔؟ خبر نہیں کب تک سعودی سرزمین پہ تحقیق و تفتیش کے بغیر پاکستانی سر قلم ہوتے رہیں گے، پاک سرزمین پہ عوام و خواص کی زبان پہ تالے پڑے رہیں گے، خبر نہیں کہ ہمارے بچے، بچیاں، ہمارے توانائی اور معیشت کے منصوبے، ہمارے تلور، مہمان پردیسی پرندے، ہماری اقلیتیں، بعض مسالک عرب شاہی خوشنودی پہ کب تک صدقے واری ہوتے رہیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...