منگل , 11 دسمبر 2018

عراق، امریکی احکامات اور ایران

(تحریر: عرفان علی)
سال 2003ء کی غیر قانونی امریکی جنگ کے بعد سے بین الاقوامی امور کے ماہرین عراق کے زمینی حقائق کے حوالے سے اس نکتے کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں کہ اس ملک میں امریکہ کے مقابلے میں اگر کوئی دوسرا ملک اثر و رسوخ رکھتا ہے تو وہ ایران ہے۔ عراق سمیت اس خطے کی سیاسی و عسکری اسٹیبلشمنٹ، مثبت نہیں تو منفی زاویوں سے ہی سہی، مان چکی ہیں کہ عراق کے اندرونی معاملات میں بیرونی سطح پر دو ممالک کو راضی رکھنا پڑتا ہے یعنی امریکہ اور ایران۔ چونکہ امریکہ کی حیثیت غیر قانونی ہی سہی لیکن ایک قابض قوت کی تھی، اس لئے وہ زبردستی کا چوہدری بن بیٹھا تھا۔ ایران چونکہ ایسا پڑوسی ملک تھا، جس نے استبدادیت کے شکار عراقی عوام کی اپنے بس کے مطابق مدد کی تھی، اس لئے جنگ زدہ مملکت کے غیرت مند عراقی بیٹوں نے ناجائز قابض قوت امریکہ کے خلاف ایران ہی کو فطری اتحادی قرار دیا۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل لاء کے مطابق عراق پر امریکہ نے جو یلغار کی، وہ غیر قانونی تھی، اس لئے اس کے خلاف اگر عراقیوں نے مسلح مزاحمت بھی کی تو جائز تھی۔ اپنی تاریخ سے آگاہ باشعور عراقیوں کو معلوم تھا کہ صدام کی استبدادیت کا سرپرست کون ہے، کس نے انکے مادر وطن کو عربوں اور مسلمانوں کے دشمنوں کی جنگ کی آگ میں جھونکا اور کون عراق میں اکثریتی آبادی کی نمائندہ یعنی عوامی حمایت یافتہ حکومت کے ممکنہ قیام سے خوفزدہ تھا۔ حتیٰ کہ آج بھی معاملہ فہم سیاسی کارکن و خواص پر یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ بعثی دہشت گردی کی طرح تکفیری دہشت گردی کا اصل ماسٹر مائنڈ اور انکے سہولت کار کون ہیں!

نئے وزیر اعظم عادل عبدالمھدی نے بائیس رکنی کابینہ کے نام عراق کی پارلیمنٹ میں پیش کئے تھے، جن میں سے 14 ناموں کی منظوری دے دی گئی، لیکن تاحال 8 ناموں پر مطلوبہ حمایت درکار ہے۔ اس پر مذاکرات جاری ہیں۔ وزارت داخلہ و دفاع پر تاحال سمجھوتہ نہیں ہو پایا اور گذشتہ پیر کو پارلیمنٹ میں جو نام پیش کئے جانے تھے، ناموں پر عدم اتفاق کی وجہ سے مجوزہ سیشن ایک ہفتے کے لئے موخر کر دیا گیا ہے، غالباً اگلے پیر یا منگل کے روز پارلیمنٹ میں دوبارہ آٹھ ممکنہ وزراء کے نام منظوری کے لئے پیش کئے جائیں۔ غیر عراقی ذرایع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے سیاسی بلاک اصلاح اور ہادی العامری کے سیاسی بلاک البناء کے مابین چھ وزراء کے ناموں پر اتفاق ہوچکا ہے یعنی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، ثقافت، انصاف، منصوبہ بندی اور ہجرت والمھجرین، ان چھ وزارتوں کے لئے ناموں پر اتفاق پایا جاتا ہے۔

وزیر دفاع کے لئے سابق میجر جنرل فیصل فنر اور وزیر داخلہ کے لئے فالح الفیاض کے نام پیش کئے گئے ہیں اور انکی تقرری کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔جنرل فیصل پر الزام ہے کہ یہ سابق صدامی بعثی سیٹ اپ کا اہم فرد تھا اور صدام دور میں عراقی عوام کو کچلنے میں اس نے کردار ادا کیا تھا۔ چونکہ عراق کے قانون میں بعثی باقیات کو اہم ریاستی و حکومتی عہدے دینے پر پابندی ہے، اس لئے اسکو وزیر دفاع نہ بنایا جائے۔ البتہ بعثی سیٹ اپ سے تعلق کا الزام سبا خیرالدین پر بھی ہے، جن کا نام تعلیم کی وزارت کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ فالح الفیاض سابق وزیراعظم حیدر العبادی کے حکومتی سیٹ اپ کے ایک اہم کردار تھے، البتہ عبادی صاحب نے انکو عراق کی قومی سلامتی کاؤنسل اور حشد الشعبی کی سربراہی سے 30 اگست 2018ء کو برطرف کر دیا تھا۔

دونوں حیثیتوں میں انکا عراق کی قومی سلامتی کے امور سے متعلق اداروں کی اہم شخصیات سے براہ راست تعلق تھا، جس کی وجہ سے عدالت نے وزیراعظم عبادی کے فیصلے کو معطل کرکے فالح الفیاض کی بحالی کا حکم دیا تھا۔ ان کی تقرری پر وہی اعتراض دہرایا گیا ہے، جو عبادی صاحب نے لگایا تھا کہ غیر جانبدار نہیں رہے، یہ اعتراض عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ عراق کی نئی سیاسی اسٹیبلشمنٹ اپنے ارتقائی عمل سے گذر رہی ہے اور ابھی تو اسے ناپختہ و نابالغ ہی سمجھنا چاہیئے، عراقیوں کے لئے یہ نظام بھی نیا ہے تو اسکے معاملات بھی نئے ہیں۔ قومی مفاہمت تو دوسرے ممالک میں عشروں سے قائم پختہ و بالغ سیاسی و عسکری اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی اندرونی مسائل کا لازمی علاج بن چکا ہے۔ اس لئے درمیانی راہ نکالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

امریکی حکومت اور اسکے اتحادی خاص طور سعودی عرب اور جعلی ریاست اسرائیل کی اعلانیہ پالیسی ہے کہ اس پورے خطے میں کوئی بھی ملک ایران سے قریبی، اچھے، برادرانہ و دوستانہ تعلقات نہ رکھنے پائے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودہ امریکی حکومت تو اسرائیل کی ناجائز حمایت میں اس قدر اندھی ہوچکی ہے کہ سفارتخانہ ہی مقبوضہ یروشلم (بیت المقدس) منتقل کرچکی ہے۔ ٹرمپ کا داماد جاریڈ کشنر اسرائیل نواز یہودی ہے اور سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو ولی عہد سلطنت بنوانے میں بھی اسکا بہت اہم کردار ہے، کیونکہ وہ فلسطین کے غاصب اسرائیل کے دفاع کے لئے سعودی مدد و حمایت کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ عالمی سامراجی قوتوں کی نظر میں مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کے متولی یا خادم الحرمین شریفین کی حمایت اس وقت بھی اہمیت کی حامل تھی، جب وہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے یا اسکے دوران سلطنت عثمانیہ کے سقوط اور مشرق وسطیٰ کے نئے نقشے پر کام کر رہے تھے۔

اسی مہینے کے آغاز میں امریکی صدر کے مشیر برائے امور قومی سلامتی سفارتکار جون بولٹن نے زایونسٹ آرگنائزیشن آف امریکہ (امریکی صہیونی تنظیم) سے خطاب میں بھی ایران کے خلاف تقریر کی تو اس میں غزہ (فلسطین)، یمن اور شام سمیت عراق میں ایران کے کردار پر شدید تنقید و مخالفت کی۔ حالانکہ ان چاروں ممالک میں ایران کا کردار ان ممالک کے عوام کی مدد پر مبنی ہے۔ خود عراق کے صدر برھم صالح نے دورہ ایران میں اعتراف کیا کہ داعش تکفیری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کے بغیر کامیابی ممکن نہیں تھی۔ اسی طرح اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ عراق کی سرحدوں کی سلامتی و داخلی امن اور خاص طور دہشت گردوں کے خلاف حشد الشعبی کے جوانوں کے کردار کو بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ورنہ تلعفر تو سال 2005ء میں بھی امریکی افواج نے فتح کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ہر وہ علاقہ جہاں امریکی افواج نے عراق کے دشمنوں کی شکست کا اعلان کیا تھا، وہاں تو اس کے بعد بھی بارہا دہشت گردوں نے حملے کئے ہیں۔

موجودہ صدر ٹرمپ کی امریکی حکومت بغیر کسی لگی لپٹی کے براہ راست عراق کے حکام اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو احکامات جاری کر رہی ہے۔ سابق وزیراعظم حیدر العبادی کو پچھلے سال مارچ میں اور پھر موسم گرما میں صدر ٹرمپ نے حکم دیا کہ عراق کے تیل کے ذریعے امریکی حکومت کو ان اخراجات کا بل ادا کیا جائے، جو سال 2003ء کی جنگ کے بعد سے امریکہ نے کئے ہیں۔ امریکہ نے عراق کو حکم جاری کیا ہے کہ ایران سے بجلی و گیس کی خریداری بند کر دی جائے، ورنہ عراق پر بھی امریکہ کی عائد کردہ ایران مخالف پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔ 7 نومبر 2018ء کو ہم نے اشارہ کیا تھا کہ امریکہ کی کوشش ہوگی کہ کرکوک کا تیل نکالنے کے لئے کردستان کی علاقائی (یا نیم خود مختار) حکومت سے مرکزی حکومت کا معاہدہ کروائے۔

اس کے دس دن بعد عراقی وزارت برائے تیل کے ترجمان نے اعلان کیا کہ نئے وزیراعظم کی مرکزی حکومت نے کردستان کی ریجنل حکومت سے ابتدائی معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت کرکوک ذخائر سے پچاس ہزار تا ایک لاکھ بیرل یومیہ تیل براستہ جیھان بندرگاہ (ترکی) برآمد کیا جاسکے گا۔ اسی کے ساتھ عراق حکومت اگلے سال تیل کی کل برآمدات برائے ایشیاء کو ساٹھ فیصد سے 67 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں وہ چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا سے مشترکہ منصوبوں کے لئے معاہدوں پر کام کر رہی ہے۔ امریکی حکومت نے عراق کو ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا تھا کہ اس دوران ایران سے بجلی و گیس خریداری کا متبادل ڈھونڈ لیں۔ ایران سے عراق کو تقریباً دو کروڑ اٹھائیس لاکھ کیوبک میٹر یومیہ گیس فراہم کی جاتی ہے، جس سے عراق کے اسٹیشن چل رہے ہیں جبکہ 1300 میگاواٹ بجلی بھی ایران سے لی جا رہی ہے۔

جیسا کہ باخبر لوگ جانتے ہیں کہ عراق اور خلیج فارس کے دیگر عرب ممالک میں گرمی پاکستان کی نسبت زیادہ شدید اور ناقابل برداشت ہوتی ہے، اس لئے موسم گرما میں بجلی کے استعمال میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے۔ عراق ایران سے بجلی و گیس خریدنے کے باوجود توانائی کے بحران سے نجات نہیں پاسکا ہے اور بہت سے علاقوں میں یومیہ بیس بیس گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ بصرہ میں جو احتجاج ہوا تھا، اس کا ایک سبب بجلی کا بحران تھا، کیونکہ ایران سے بجلی کی فراہمی معطل ہوئی تھی تو لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ طویل ہوچکا تھا۔ اب امریکہ کی ایران کے خلاف پابندیوں اور ڈکٹیشن کی وجہ سے عراق کی وزارت بجلی ایک پانچ سالہ منصوبہ تیار کر رہی ہے، جو اگلے دو ہفتوں میں امریکی حکومت کو پیش کر دیا جائے گا اور اگر امریکی حکومت نے منظوری دے دی تو عراق کو مزید ایک سال تا دو سال ایران مخالف اقتصادی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے سکتا ہے۔

ایران سے بجلی درآمد نہ کرنے کے لئے عراقی وزارت بجلی نے جو منصوبہ بنایا ہے، اس کی کامیاب تکمیل کے لئے بھی ڈیڑھ سال درکار ہے، یعنی اگلے ڈیڑھ سال تک تو عراق کے پاس ایران کی بجلی کا کوئی متبادل ہے ہی نہیں۔ لیکن ایران کی گیس کا عراق کے پاس کوئی اچھا متبادل ہے ہی نہیں اور ایرنی بجلی نہ خریدنے کے لئے بھی اسے ایرانی گیس ہی کی ضرورت ہوگی، کیونکہ اسکے اپنے ایندھن اور ایرانی گیس کے ذریعے ہی وہ 16 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا متبادل منصوبہ بنا رہا ہے اور ایران کی فراہم کردہ گیس کے بغیر بجلی بنانا عراق کے لئے ممکن نہیں۔ امریکی سامراج کی اس نوعیت کی ڈکٹیشن نے ملت عراق کے نمائندگان کو امریکہ سے متنفر کر دیا ہے۔ ایک رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ حشد الشعبی کے خلاف بھی سازش کر رہا ہے۔

حکومت سازی کے لئے جو ابتدائی کوششیں ہوئی تھیں، تب امریکی سفارتکار اور خصوصی صدارتی نمائندے بریٹ مک گرک نے عراق کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے سنی عرب اور کرد سیاستدانوں سے ملاقاتیں کیں تھیں۔ ان سیاستدانوں نے ان ملاقاتوں کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدارتی نمائندے نے انکو دھمکیاں دیں اور انکی بے عزتی کی تھی۔ (کیونکہ امریکی صدارتی نمائندہ ملت عراق کو اپنے سامراجی مفادات میں ایندھن کے طور استعمال کرنا چاہتا تھا اور سنی عرب و کرد سیاستدانوں کو عراق کے آئینی جمہوری و سیاسی عمل میں ڈیڈلاک پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا اور خاص طور پر انکو ایران کے مخالف افراد کو حکومت میں لانے کے لئے لابنگ کر رہا تھا)۔

لیکن مغربی و اتحادی عرب ذرائع ابلاغ ان دنوں قدس فورس کے سربراہ حاج قاسم سلیمانی کے دورہ عراق کے حوالے سے منفی خبریں نشر کر رہے تھے۔ یوں تو ہر ملت کو خود انحصاری کی پالیسی ہی اپنانی چاہیئے، لیکن اس منزل تک پہنچنے کے لئے دیگر ممالک پر انحصار ناگزیر ہو تو پھر ایسے ممالک کا انتخاب کرنا چاہیئے، جس کا کوئی قول و فعل آپکی عزت نفس، خود مختاری، ملی یکجہتی و اتحاد و جغرافیائی سالمیت کے خلاف نہ ہو۔ فلسطین، لبنان و یمن کی مثالیں ملت عراق کے سامنے ہیں کہ جہاں حماس یا اس جیسے مقاومتی گروہوں کو کبھی بھی ایران نے اپنے مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ غیر ملکی قابض قوتوں کے حملوں کے خلاف مقاومت میں بے لوث مدد کی۔ خود عراق میں داعش کے خلاف عراق کا دفاع ایران کا وہ کارنامہ ہے جو ملت عراق کیسے بھول سکتی ہے؟!

امریکی اتحاد کا عراق پر دباؤ برقرار ہے، جس سے نکلنے کے لئے ملت عراق کو جدوجہد کرنا ہوگی۔ عراقی حکومت کے لئے پاکستان جیسے ملکوں کی مثال ہے کہ امریکی سعودی دباؤ پر ایران سے گیس نہ خرید کر پاکستانن حکومت نے اپنی معیشت کا کس طرح بیڑہ غرق کیا ہے اور بجلی کی قلت نے عوام تو عوام برآمدات کنندہ صنعتوں سے وابستہ مالکان و ملازمین کو کس طرح خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کے قومی خزانے کو کتنا نقصان ہوا ہے۔ پاکستان اور عراق دونوں کے لئے سستی بجلی، سستی گیس کا آسان ترین اور قریب ترین ذریعہ ایران ہی ہے، امریکی اتحاد کی ڈکٹیشن پاکستانی یا عراقی ملت کے مفاد میں ہرگز نہیں بلکہ انکا اپنا مفاد ہے، جو ملت عراق کے مفادات سے براہ راست متصادم ہے۔ اب امریکی حکومت عراق کو بلیک میل کر رہی ہے کہ اسکے جنگی اخراجات کا بل عراقی تیل بیچ کر دیا جائے، کیا ملت عراق نے امریکی حکومت سے کہا تھا کہ انکو خاک و خون میں غلطان کر دے؟ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں امریکہ عراق تعلقات کے موجودہ مرحلے کو کس طرح بیان کیا جائے گا؟! کیا یہ دو آزاد و خود مختار ممالک کے وہ تعلقات ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی رو سے برابری کی بنیاد پر استوار ہیں؟ یا پھر امریکہ خود کو برتر، آقا سمجھ کر، عراق کو کم تر اور غلام سمجھ کر یہ احکامات جاری کر رہا ہے۔؟

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...