منگل , 11 دسمبر 2018

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی)
پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے جب دونوں ممالک نے مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔پہلی دفعہ دونوں ممالک کوباضابطہ مذاکرات کی ضرورت تب پیش آئی جب 1971ء کی جنگ کے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نئی ریاست معرض وجود میں آئی۔ ان مذاکرات کی رو سے شملہ معاہدہ طے پایا جسکی شرائط نے پاک بھارت تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ دوسری دفعہ دونوں ممالک کے سربراہان کو مل بیٹھنے کی ضرورت تب پیش آئی جب بھارت نے مئی 1998ء میں پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو ایٹمی ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی 28مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر چھ ایٹمی دھماکے کئے۔ ان ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں اس خطے میں ایٹمی خطرات بڑھ گئے جسکی بدولت بین الاقوامی سطح پر دونوں ملکوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ مل بیٹھ کر اپنے معاملات کا حل نکالیں۔

بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نامور بھارتی شخصیات مثلاََ دیو آنند، جاوید اختر، شتروگن سنہا، کلدیپ نیئر اور کپل دیو وغیرہ کے ہمراہ دوستی بس کے ذریعے لاہور پہنچے ۔ جواباََ اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف بھی پاک بھارت بارڈر پر انکا استقبال کرنے گئے۔ لاہور میں ہونے والے ان مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جسے لاہور اعلامیہ کہا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے سربراہان کے مل بیٹھنے کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا اور اسے امن کی طرف پیش رفت گردانا گیا۔ لیکن اس اعلامیے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ امن کی فاختائیں اڑانے والوں کو کارگل کے مقام پر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہونا پڑا۔ دونوں ممالک کے درمیان چھڑنے والی اس جنگ نے اس خطے کے حالات یکسر بدل کر رکھ دیے۔ لاہور اعلامیہ آخری موقع تھا جب دونوں ممالک کے سربراہان نے ایک میز پر بیٹھ کر اپنے مسائل کو حل کرنے کی لاحاصل سعی کی۔

کارگل جنگ کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی اور اقتدار ایک بار پھر فوج کے ہاتھ میں آگیا۔ اگرچہ ڈکٹیٹر مشرف نے بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کی کئی کوششیں گی مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ بعدازاں پیپلز پارٹی اور پھر ن لیگ کی حکومتوں کا قیام عمل میں آیا لیکن دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی بہتری میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ اپنے سابقہ دور حکومت میں اگرچہ میاں محمد نواز شریف بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے گئے لیکن اسکے باوجود حالات بدستور کشیدہ رہے اور لائن آف کنٹرول پر گولہ باری جاری رہی۔

پاک بھارت تعلقات کی تاریخ میں اہم موڑ تب آیا جب پاکستان میں عمران خان جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں جیت حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جیت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں عمران خان نے بھارت کو پیش کش کی کہ اگر بھارت ایک قدم ہماری طرف چل کر آئے گا تو پاکستان دو قدم اسکی طرف چل کر جائے گا۔ بعد ازاں عمران خان کی دعوت پر بھارتی نامور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی حلف برداری میں شریک ہوئے جہاں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ ان سے بغل گیر ہوئے اور انکو خوشخبری دی کہ پاکستان جلد ہی کرتارپور بارڈر بھارتی سکھوں کے لئے کھول دے گا تاکہ سکھ برادری بغیر ویزے کے گوردوارہ دربار صاحب کی یاترا کرسکیں۔ نوجوت سنگھ سدھو کی خوشی دیدنی تھی جب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے یار (عمران خان ) نے بن مانگے ہی مجھے سب کچھ دے دیا ہے۔ امن کا یہ پیامبر پاکستان سے بھی امن کا پیغام لے کر اپنے وطن لوٹا اور بھارت میں پاکستان کے محبت نامے کی خوب چرچا کی۔

پاکستان کی طرف سے کرتار پوربارڈر کھولنے کی تجویز کو بھارت نے 22نومبر کو سرکاری طور پر قبول کیا۔ نتیجے میں پاکستان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ 28نومبر کو وزیراعظم عمران خان کرتار پور بارڈر کھولنے کا افتتاح کریں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ہم منصب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی جسکے جواب میں سشما سوراج نے معذرت ظاہر کی کہ انتخابی مصروفیات کی بدولت وہ شرکت نہیں کرسکتیںالبتہ انکے دو اہم وزیرمسز ہر سیمرٹ کوربادل اور مسٹر ہردیپ سنگھ پوری اس تقریب میں شرکت کریں گے۔ سشما سوراج نے مزید کہا کہ انکی عدم شرکت کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔ علاوہ ازیں پاکستان کی طرف سے بھارتی پنجاب کے وزیراعلی کیپٹن (ر) امریندر سنگھ اور سابق بھارتی کرکٹر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن نوجوت سنگھ سدھو کو بھی اس تقریب میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ بھارت میں کرتار پور بارڈر کھولنے کی تقریب میں شرکت کے سلسلہ میں بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور انہیں بھارت آنے کی دعوت دی ہے جسے پرویز الہی نے قبول کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ بھی کرتار پور بارڈر کھولنے کی تقریب میں شرکت کے لئے پاکستان ضرور آئیں۔

نئی دہلی میں میں بابا گورونانک کی سالگرہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ کسی نے سوچا تھا کہ دیوار برلن گرے گی؟1947ء میں جو ہونا تھا ہوگیا اب کرتار پور راہدرای دونوںملکوں کے درمیان پل کا کام کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کھلنے سے پاک بھارت تعلقات مضبوط ہونگے کیونکہ باہمی رابطوں میں زیادہ طاقت ہوتی ہے۔بھارت میںانتخابات کے قریب نریندر مودی کے منہ سے پاک بھارت امن کے الفاظ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے کیونکہ بھارت میں انتخابات مسلم اور پاکستان مخالف نعروں کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں بھی حالات اب ماضی کی نسبت قدرے تبدیل ہیں کیونکہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور مذاکرات کے ذ ریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ جس طرح مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان دیوار برلن گرا دی گئی تھی اسی طرح یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نفرتوں کی دیوار کو گرا دیا جائے اور کشمیر و دیگر مسائل افہام تفہیم سے حل کرلیے جائیں تاکہ یہ خطہ بھی ترقی کی منازل طے کرسکے۔بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...