منگل , 11 دسمبر 2018

جولان کا محاذ کھلنے کی اطلاع، اسرائیل میں بوکھلاہٹ

(عبد الباری عطوان)
ان دنوں اسرائیلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوا ہے کہ جولان کی پہاڑیوں کا محاذ کبھی بھی کھل سکتا ہے اور حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ جنوبی لبنان اور غزہ پٹی کے محاذ کے بعد اب جولان کی پہاڑیوں کا محاذ کھولنے والے ہیں ۔

حالیہ دنوں میں اسرائیلی میڈیا نے متعدد رپورٹیں شائع کی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے ایرانیوں کی ترغیب پر جولان کی پہاڑیوں کا محاذ کھولنے کا اسٹراٹیجک فیصلہ لے لیا ہے کیونکہ دو مہینے پہلے جنوبی شام سے حکومت مخالف تنظیموں کو باہر نکالنے اور اس علاقے کے پوری طرح شامی حکومت کے کنٹرول میں واپس آ جانے کے بعد حالات مناسب ہو چکے ہیں ۔

حزب اللہ نے کئی سال سے جولان کی پہاڑیوں کے محاذ کے اپنی ترجیحات قرار دے رکھا ہے اور اسی منصوبے پر اس نے دو عظیم شہیدوں سمیر قنطار اور ان کے معاون جہاد مغنیہ کی قربانی پیش کی جو اس محاذ پر کام کر رہے تھے اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے سے پہلے دونوں نے ایران کی قدس بريگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی حمایت سے اس محاذ پر کافی کامیابی سے پورے کر لئے تھے۔

حزب اللہ نے فی الحال شہید قنطار کی جگہ لینے والے کمانڈر کا نام پردے میں رکھا ہے لیکن اسرائیلیوں کو شدید تشویش ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ وہ بری طرح خوفزدہ ہیں اور اسرائیلی میڈیا کہہ رہا ہے کہ اسرائیلی فوج جولان کے علاقے میں سرگرمیاں انجام دے رہی ہے ۔ یہیں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف گادی آیزنکوٹ اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ جولان کی پہاڑیوں کے دورے پر کیوں گئے؟ انہوں نے تاکید کی کہ اسرائیلی فوج، شام میں اثر و رسوخ پیدا کرنے کی ایرانی فوج کی سبھی کوششوں کو ناکام بنا دے گی ۔

اسرائیلیوں کی اس تشویش میں ڈونلڈ ٹرمپ حکومت بھی شریک ہے اور وہ بھی اس علاقے میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کی حمایت کر رہی ہے ۔ یہ بات قابل توجہ تھی کہ اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکلی ہیلی نے اس سال اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے جنرل اسمبلی میں اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا جو ہر سال پاس ہوتا ہے اور جس میں جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کی مذمت کی جات ہے اور اس قبضے میں غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ اس تجویز کی حمایت میں 151 ممالک نے ووٹ دیا تھا اور 14 ممالک نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ نکی ہیلی نے اپنے اس پست قدم کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ایران کی فوجی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے امریکا نے تجویز کے خلاف ووٹنگ کی ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکا کی جینی انرجی کمپنی اور اس کی اسرائیلی ینچر کو جولان کی پہاڑی علاقے میں تیل اور گیس تلاش کرنے کی اجازت دیئے جانے کے نتیجے میں جولان کے محاذ پر لڑائی اور بھی جلدی شروع ہوگی ۔

یہ جنگ شام کے ادلب صوبے کی جنگ کے خاتمے کے فورا بعد شروع ہو سکتی ہے جس کی تیاری پوری ہو چکی ہے ۔ یہ نکتہ یہ بھی اہم ہے کہ امریکا کے سابق نائب صدر ڈک چینی جو 2003 میں عراق پر امریکا کے حملے کے بڑے حامیوں میں تھے، اس کمپنی کے مشیروں میں ہیں، اسی طرح مشہور میڈیا کمپنی کے سربراہ ریوپرٹ ماردوخ اور سی آئی اے کے سابق سربراہ جیمز ولیسی بھی شامل ہیں ۔

اگر جولان کا محاذ کھل گیا جس کا بہت زیادہ امکان ہے تو اس سے اسرائیل شدید مصیبت میں پڑ جائے گا کیونکہ جنوبی لبنان کا محاذ پہلے ہی اسرائیل کے لئے جنہم بن چکا ہے اور اسے وہاں سے 2000 میں اپنے فوجیوں کے انخلا پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔

اسرائیل اب تین جانب سے محاصرے میں آ چکا ہے ۔ اس کے شمال میں حزب اللہ ہے، جنوب میں حماس کی قیادت میں فلسطینی تنظیمیں ہیں اور مغرب میں شامی فوج اور حزب اللہ کا اتحاد ہے ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے جو پیشن گوئی کی تھی اور جو خبردار کیا تھا کہ آنے والی جنگ میں اسرائیلی ایندھن بن سکتے ہیں، اسی لئے انہیں سمندر کے راستے سے فرار کر جانا چاہئےاور پہلے سے تیراکی سیکھ لینی چاہئے، اس کا وقت قریب آ چکا ہے ۔ ویسے صحیح بات تو سید حسن نصر اللہ کی جانتے ہیں ۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...