منگل , 11 دسمبر 2018

حساب تو دینا ہوگا

(قدسیہ ممتاز)
سچ تو یہ ہے کہ عمران خان وزیراعظم تو بن گئے ہیں، لیکن انہیں وزیر اعظم بننا نہیں آیا۔یہی حال ان کی باقی ماندہ ٹیم کا ہے۔عجیب روکھے سوکھے لوگ ہیں۔ نہ کوئی تام جھام نہ ناشتے نہ لنچ نہ منہ چڑھے خوشامدی صحافیوں کے انبوہ کثیر کے ہمراہ سرکاری دورے جو واپسی پہ عالم پناہ کی چاردانگ عالم میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ آنے پہ قصیدہ ہی لکھ ڈالیں۔جس کو دیکھو ہنسی ٹھٹھا کر رہا ہے۔ سو دن ہوگئے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نظر نہیں آتیں۔سو دن ہوگئے ابھی تک سورج دن میں ہی نکلتا ہے رات کو نکلتا تو کوئی بات بھی تھی۔ سو دن ہوگئے ابھی تک لاہور میں نہر اور کراچی میں سمندر بہہ رہا ہے۔ سو دن ہوگئے ابھی تک عمران خان وزیر اعظم ہیں۔سو دن نہ ہوئے سو چوہے ہوگئے جنہیں کھا کر بلا دودھ پی جاتا تھا اور بلیاں حج کو چلی جاتی تھیں۔ بات یہ ہے کہ حکومت کی ترجمانی فواد چوہدری صاحب کریں اور دل لگا کر کریں۔ ہم تو انصاف کی بات کریں گے کہ سو دن کی بات آپ نے ہی کی۔یار لوگوں نے اسے سو دن کی حکمرانی سمجھ لیا۔ان سو دنوں میں صرف سمت متعین ہوسکتی ہے اور خدا لگتی کہیں تو وہ ہوئی ہے۔ آج سے قبل کیا عام ووٹر کو علم تھا کہ بیل آوٹ پیکج کیا ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کن شرائط پہ قرض دیتا ہے۔ تجارتی توازن کس بلا کا نام ہے، گردشی قرضے کیا ہوتے ہیں اور ملک پہ ا س وقت سود در سود کتنا قرضہ چڑھا ہوا ہے۔اسے تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا ہے کس طرح آف شور کمپنیوں میں تبدیل ہوتا ہے یا منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر جاتا ہے اور پھر کالا دھن کیسے میڈیا اور رئیل اسٹیٹ میں تبدیل ہوکر دودھ جیسا سفید ہوجاتا ہے۔یہی وہ دودھ ہے جس کی نہریں حکمران اشرافیہ کے ایکڑوں پہ پھیلے فارم ہاوسوں میں بہا کرتی ہیں۔ عمران خان نے انتخابات سے قبل اپنے ایک سو بیس روزہ دھرنے کے ہر روز اپنے ووٹر کو ان اصطلاحات سے متعلق ایک ایک تفصیل گویا رٹوا دی۔ آج آپ تحریک انصاف کے کسی نوجوان سے بات کریں تو یہ اعداد و شمار اس کی انگلیوں پہ ہونگے۔ یہ وہ شعور ہے جو وہی شخص دے سکتا تھا جس کے اپنے دامن پہ کرپشن کا کوئی داغ نہ ہو اور جسے یہ خوف نہ ہو کہ کل یہی شعور اس کے گلے کا پھندہ بھی بن سکتا ہے۔اپنی حکومت کو پہلے سود ن کی مہلت کسی نے پہلے کب سنی تھی۔

ہر حکومت پانچ سال کے لئے آتی تھی اس سے قبل اپوزیشن کا سارا زور صرف پارلیمنٹ کے اندر عددی طاقت بڑھانے ،فارورڈ بلاک بنانے اور وقت سے پہلے حکومت گرانے کی منصوبہ بندی میں صرف ہوتا تھا۔ اس کے بعد فرینڈلی اپوزیشن کی روایت آئی تو ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر الیکشن کے انتظار کے سوا اور کبھی کبھار کوئی بیان داغ دینے کے سوا بڑی اپوزیشن جماعت کا کیا کام تھا؟اپوزیشن کیا ہوتی ہے عوام کے حقوق کیا ہوتے ہیں اور ان پہ کس طرح ڈاکہ زنی کی جاتی ہے یہ عمران خان کی قیادت میں اپوزیشن نے بتایا اور آنے والی اپوزیشن کے لئے معیار بنا دیا۔ چونکہ فی الوقت اپوزیشن اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگت رہی ہے اس لئے اس کے پاس جھوٹے مقدمات کے ذریعے مخالفوں کو کچلنے اور خاموش رکھنے کے الزام کا بہانہ گھڑا گھڑایا موجود ہے۔ یہ دیکھنا پڑے گا کہ سو دن کے وائٹ پیپر میں حکومت کے خلاف اپوزیشن کے پاس کہنے کے لئے کیا ہوگا۔ کیا یہ کہ نواز شریف کی حکومت آتے ہی آئی ایم ایف کے سامنے کشکول اٹھائے چلی گئی تھی اور اس کی تمام شرائط بلا چوں چراں مان لی گئی تھیں؟ان میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافہ شامل تھا جس کا ریوینیو چورانوے ارب روپے بنتا تھا۔وہ کہا ں گیا اس کا حساب نہ کسی نے دیا نہ کسی نے مانگا۔اسٹیٹ بینک کو اوپن مارکیٹ سے سو ملین ڈالرفوری طور پہ خریدنے کی ہدایت کی گئی جو آئی ایم ایف کی پہلی شرط تھی۔ کیا یہ کہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں معاشی صورتحال کے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کرکے قوم کو گمراہ کیا اور ملک پہ چڑھا قرضہ پندرہ ارب ڈالر کم دکھایا جبکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کچھ اور بتارہے تھے۔سیاسی مقاصد کے لئے روپے کی قیمت کم سطح پہ رکھی گئی تاکہ بدنامی نہ ہو ۔

2016ء میں آئی ایم ایف کے 102 ملین ڈالر کے تین سالہ بیل آئوٹ کے بعد نواز شریف نے مجاہدانہ اعلان کیا کہ آئندہ پاکستان کو آئی ایم ایف جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔پاکستا ن سے ان کی مراد ان کی حکومت ہوگی جو ظاہر ہے آئندہ نہیں آنی تھی۔اس بیل آوٹ کے بعد صرف جولائی 2017ء میں ملک کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ تین بار دو بلین ڈالر تک پہنچ گیا کیونکہ کوئی معاشی اصلاحات سرے سے ہوئی ہی نہیں تھیں اور تجارتی خسارے کے باعث فارن ایکسچینج ریزرو استعمال کئے جارہے تھے جبکہ آئی ایم ایف نے روپے کی قدر بیس فیصد تک مصنوعی طور پہ بڑھائے جانے کی شکایت کی تھی یعنی سیاسی مفادات کے لئے روپے کی قدر مصنوعی طورپہ بڑھا کر ملک کی معیشت دائو پہ لگا دی گئی تھی اور ایک بار پھر خاموشی سے آئی ایم ایف کے در پہ کشکول رکھ کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی تھی۔یہ سب وہ آپ کو وائٹ پیپر میں نہیں بتائیں گے کیونکہ حساب تو سو دن کا بنتا ہے پانچ سال کا کون حساب دیتا ہے۔اگر یہ بیل آوٹ کسی کام کے ہوتے اور واقعتا معاشی اصلاحات کی گئی ہوتیں تو آ ج ملکوں ملکوں بھیک مانگنے کا طعنہ دینے والوں کی لمبی زبانیں لپلپا کر سو دن کا حساب نہ مانگ رہی ہوتیں۔

آج حال یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے اگلے بیل آئوٹ کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نتھی کردیا ہے تو یہ سیدھا سیدھا منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔ کوئی جاکر ذرا حبیب بینک نیویارک برانچ کیس تو کھولے جسے کسی کے اکائونٹ میں غیر قانونی ٹرانزیکشن کے باعث بھاری جرمانے کے بعد بند ہونا پڑا تھا۔ دیگر اکائونٹ ہولڈر ذرا حساب تو مانگیں کہ یہ 630 ملین ڈالر کا ہرجانہ کس کی جیب سے ادا کیا گیا تھا۔یہ منی لانڈرنگ موجودہ حکومت نے تو کی نہیں تھی۔ آج آئی ایم ایف سے مذاکرات اگر ناکام ہوئے ہیں تو اس کی وجہ موجودہ حکومت کا اس کی شرائط سے انکار ہے جو ساٹھ سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف کے مطالبوں میں چین سے لئے گئے قرضوں کی تفصیلات، چین کو ادائیگی سے قبل آئی ا یم ایف کو ادائیگی تاکہ چین کو اس کے بیل آئوٹ سے قرضہ واپس نہ کیا جاسکے، بجلی کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر گرانا شامل ہیں جو تاحال منظور نہیں کئے گئے اور مذاکرات جنوری تک ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ یہ سب ہورہا ہے لیکن سو دن کا ٹھٹھا ختم نہیں ہورہا۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...