منگل , 11 دسمبر 2018

تبدیلی کے پہلے 100دن

تحریک انصاف کی حکومت کے اولین 100دنوں کی کارکردگی کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیاناتی ملاکھڑوں میں استعمال کی جانے والی زبان پر محض افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ سیاست میں عدم برداشت اور پگڑیاں اچھالنے کی بدعت بہت پرانی ہے لیکن اس بدعت کے تازہ ایڈیشن نے تو عام آدمی کے چودہ طبق روشن کردئیے ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ عوامی نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے دوسرے اور تیسرے درجہ کے عمایدین اور کارکنان ایک دوسرے کے خلاف زبان دانیوں کے جن مظاہروں میں مصروف ہیں اس سے نظام حکومت‘ جمہوریت‘ سماجی و معاشی مساوات اور بلا امتیاز احتساب کی کیا خدمت ہوسکے گی؟ ہمارے سیاسی زعماء کو سنجیدگی کے ساتھ صورتحال پر غور کرتے ہوئے اصلاح احوال کے لئے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ اسی طرح کی زبان دانیوں اور عدم برداشت سے غیر جمہوری قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے اولین 100 دنوں کی کارکردگی ہر خاص و عام کے سامنے ہے۔ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے مہنگائی کے بے لگام طوفان نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران اس وقت کی حکومت کو معاشی ناہمواری کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہر شام کسی نہ کسی ٹی وی چینل پر آڑے ہاتھوں لیتے تھے مگر اب ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حیران کن کمی کے باوجود مقامی مارکیٹ میں قیمتیں بلند ترین سطح پر کیوں ہیں۔

کیوں حکومت اپنے خالص منافع میں کمی کرکے شہریوں کو ریلیف نہیں دیتی‘ اس طرح یہ امر بھی دو چند ہے کہ ان 100 دنوں کے دوران عوامی مفاد کی کوئی موثر قانون سازی نہیں ہوسکی۔ پنجاب میں ایک نیا صوبہ بنانے کا جو وعدہ پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں کیا تھا اس کی طرف اس عرصہ میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی الٹا پی ٹی آئی کی ایک اتحادی ق لیگ سے تعلق رکھنے وفاقی وزیر سرائیکی وسیب کے لوگوں کی دل آزاری اور وسیب میں لسانی تعصب کے بڑھاوے کے لئے آئے دن الٹے سیدھے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ ایک ایسی جماعت جو اپنی جدوجہد کے دوران عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور سماجی و معاشی مساوات کو سیاسی بیانیہ قرار دیتی چلی آئی ہے وہ اقتدار کے پہلے تین ماہ اور دس دنوں کے دوران ایسا کچھ نہیں کرپائی جس سے یہ امید پیدا ہو کہ کسی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں لوگوں تک اس کے ثمرات پہنچنا شروع ہوجائیں گے۔اندریں حالات یہ کہا جاسکتا ہے کہ سب اچھا بہر طور نہیں مہنگائی اور غربت میں اضافے سے لوگ پریشان ہیں۔

البتہ ان ابتدائی تین ماہ اور دس دنوں کے دوران 50 لاکھ گھر بنانے کے منصوبے کا اعلان ہوا اگلے روز اس کے لئے ساڑھے 5ارب روپے کی رقم بھی مختص ہوئی۔ لاہور سمیت بڑے شہروں میں فٹ پاتھ اور پارکوں میں سونے والے بے گھر افراد کے لئے عارضی پناہ گاہوں کا قیام مثبت اقدام ہے۔ میڈیا کو دئیے جانے والے سرکاری اشتہارات کے لئے اشتہاری ایجنسیوں کے کردار کو ختم کرکے اشتہارات براہ راست جاری کرنے کی پالیسی مثبت فیصلہ ہے مگر اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ اشتہارات میرٹ پر جاری ہوں ماضی کی طرح کمیشن پر ہر گز نہیں۔ کرتار پور راہداری کے قیام سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری در آئے گی اس سوچ اور جذبہ کا مظاہرہ دوسرے پڑوسیوں کے حوالے سے بھی کیا جانا چاہئے۔ بہر طور یہ امر مسلمہ ہے کہ محض ابتدائی سو دن کی بنیاد پر کسی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا حتمی فیصلہ صادر کرنا درست نہیں ہوگا البتہ پی ٹی آئی کو اصلاح احوال کے لئے ٹھوس اقدامات کے ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ سماجی و معاشی مساوات کا دور دورہ ہو تاکہ تبدیلی دکھائی دے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے ذمہ داران کو اس امر کا بھی نوٹس لینا ہوگا کہ پنجاب میں پچھلے دو ماہ سے مختلف محکموں کے پنشنروں کو پنشن نہیں مل پائی۔ مہنگائی اور دوسرے مسائل کی وجہ سے جو مایوسی پیدا ہوئی اس کا تدارک بھی بہر طور حکومت کو کرنا ہے اس کے لئے موثراقدامات کی ضرورت ہے۔و فاقی سیکرٹریوں کی اگلے گریڈز میں ترقی کے حوالے سے مروجہ طریقہ کار پراٹھتے سوالات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ نان فائلر کے لئے مکان وغیرہ خریدنے کی پابندی سے اس طبقے کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جو قسطوں میں پلاٹ‘ مکانات خریدنے کو زندگی کا خواب سمجھتا ہے۔ حکومت کو اس معاملے کو سیاسی انا کی روشنی میں نہیں عوامی مفاد میں دیکھنا چاہئے۔ یہاں ہم ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانے کی از بس ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں بلوچستان کے بنیادی مسائل کو ایڈریس نہیں کیاگیا۔

اس طرح سابقہ قبائلی علاقہ جات کی تعمیر و ترقی کے لئے طویل المدتی پالیسیاں وضع نہیں ہو پائیں۔ گزرے 100 دنوں کے دوران حکومت نے جو اہم ترین بات تواتر کے ساتھ کی وہ مستقبل میں کسی کی جنگ نہ لڑنے کا تواتر کے ساتھ اعلان ہے۔ یہ خوش آئند فیصلہ ہے۔ دوسروں کی جنگوں میں شرکت اور کوئلوں کی دلالی میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ مکرر عرض ہے مروجہ سیاست کی روایتی الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے اگر پی ٹی آئی اپنے اہداف کے حصول پر توجہ مرکوز رکھے تو اقتدار کے اگلے تین مہینوں میں پہلے تین ماہ کے مقابلہ میں قدرے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ یہاں ہم حزب اختلاف کی خدمت میں بھی مؤدبانہ درخواست کریں گے کہ وہ اس حکومت کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے وقت دے محض سیاسی مخالفت میں لتے لینے کی بجائے یہ مد نظر رکھا جانا چاہئے کہ پالیسیوں کے نتائج چھو منتر سے برآمد نہیں ہوتے۔

یہ بھی دیکھیں

حساب تو دینا ہوگا

(قدسیہ ممتاز) سچ تو یہ ہے کہ عمران خان وزیراعظم تو بن گئے ہیں، لیکن ...