جمعہ , 29 مئی 2020

’’یوم نکسہ‘‘صہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

israel-620_2007673b

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ رپورٹ) اسرائیلی حکام کے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے پر قبضے کے 49 برس مکمل ہونے پر فلسطین بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں بیسیوں شہری زخمی ہوئے اور سینکڑوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں قائم اسرائیلی بلدیہ نے شہر میں قلندیہ ہوائی اڈے کے علاقے میں ایک نئی یہودی کالونی کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔ عطروت نامی اس نئی یہودی کالونی میں 15 ہزار نئے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔یاد رہے دنیا بھر کے فلسطینی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو ’’یوم نکسہ‘‘ یعنی قیامت صغری کے نام سے جانتے ہیں۔ اس روز اندرون اور بیرون ملک صہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے،جلسے جلوس اور سیمینار منعقد کئے جا رہے ہیں جن میں اسرائیلی قبضے کی مذمت اور القدس کو اسرائیلی تسلط سے نجات کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کے طور پرمناتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن میں یوم نکسہ کی مناسبت سے احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے۔ اسرائیلی فوجیوں اور پولیس نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے مزعومہ’’یروشلم ڈے‘‘مارچ قدیم بیت المقدس کے مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے سے ہوتا ہوا مسجد اقصی کے احاطے کے ساتھ واقع دیوار مغرب کے علاقے میں آجائے گا۔ اس مارچ کی حفاظت کے لئے 2 ہزار پولیس اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کیا گیا۔ دریں اثناء اسرائیلی فوج نے فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کلب برائے اسیران کے ڈائریکٹر کو بیت المقدس سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ کلب برائے اسیران کے مندوب الحاج نے بتایا کہ ناصر قوس کی گرفتاری کے حوالے سے اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک وضاحتی بیان بھی سامنے آیا جس میں کہا گیا ہے کہ القوس کو اسرائیل کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطین کی نجی ملکیتی اور سرکاری اراضی ہتھیانے کے لیے پارلیمنٹ میں نئی قانون سازی کی کوششیں شروع کی گئی ہیں۔ اسرائیلی حکومت پوری ڈھٹائی اور تواتر کے ساتھ مقبوضہ فلسطینی شہروں میں یورپی یونین کی جانب سے فراہم کردہ فلسطینیوں کے عارضی مکانات کی مسماری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے دسیوں عارضی شیلٹرز مسمار کیئے ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور وادی اردن میں فلسطینیوں کے عارضی شیلٹرز کی مسماری کی ظالمانہ کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مکیش امبانی ایشیا کے امیر ترین شخص نہیں رہے، علی بابا گروپ کے جیک ما نے جگہ لے لی

کراچی: دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا اثر ایشیا کے امیر ترین …