منگل , 13 اپریل 2021

اس سے پہلے کہ لوگ آپ سے بھی اکتا جائیں

(محمود شام)
نگاہ جدھر بھی دوڑائیں۔ کھانا پینا ہی نظر آتا ہے۔ بین الاقوامی سلسلے ہوں۔ قومی ریستوران۔ دیسی کھانے ۔ کڑاہی۔ ہانڈی۔ کوئلہ۔ ساری تخلیقی صلاحیتیں۔ تعریفی جملے۔ سب چٹ پٹے کھانوں کے لئے استعمال کیے جارہے ہیں۔ چینلوں پر کھانے کی تراکیب اور نسخے بہت غور سے دیکھے اور سنے جاتے ہیں۔ میں تو سوچتا ہوں کہ پاکستان شاید کھانے پینے کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ اسی فن میں ہم نقطۂ عروج پر ہیں۔ کتابوں کی دکانیںبند ہورہی ہیں۔ غیر ملکی کھانوں کے شوروم بڑے بڑے کھل رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سارے مہنگے مہنگے ہوٹل ریستوران بھی بھرے رہتے ہیں۔ اور عوامی ڈھابوں۔ ریڑھیوں۔ پر بھی اسی طرح رش رہتا ہے۔ گھر سے کھانے بھی پیک ہوکرفروخت کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ خوش خبری یہ ہے کہ سی پیک کی وجہ سے چینی بھائی بہنیں تو آہی رہے ہیں ان کے ساتھ اب دوسرے ملکوں کے کاریگر۔ ٹیکنیشن بھی آرہے ہیں۔ان کے لئے کھانوں کا بندوبست بھی کمائی کا سر چشمہ بن رہا ہے۔ شاید غیر منقسم ہندوستان میں ہم کھل کر نہیں کھا سکتے تھے۔ اپنی جائز اور ناجائز کمائی فراخدلی سے کھانے پینے پر صَرف نہیں کرسکتے تھے۔ اس لئے ہم نے الگ ملک حاصل کیا۔ اسی لئے دارُالکتاب کی جگہ دارُالکباب قائم کیے جارہے ہیں۔ ریستورانوں میں جاکر دیکھ لیں تو لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ ملک غریب ہے۔ ہزاروں ارب کے قرضے چڑھے ہوئے ہیں۔

ویسے بھی ہم فخر سے کہا کرتے تھے موصوف کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض ہستیاں ایسی آئیں کہ ان سے متعلق کہا گیا وہ پیتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔

آج کل کھاتے پیتے گھرانوں کی خبریں ہی بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ شیر پنجروں میں جارہے ہیں۔تیروں پر ملکی سرحدیں پار کرنے پر پابندی لگ رہی ہے۔وقت کے حاکم کہہ رہے ہیں کہ احتساب سب کا ہوگا۔ کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ کوئی این آر او نہیں ہوگا۔ طاقت ور پاکستانی کٹہروں میں کھڑے ہیں۔ کل جن کے زباں سے نکلا ہوا حرف قانون ہوتا تھا۔ آج قانون کے شکنجے میں ہیں۔ یہ وقت آنا تھا آگیا ہے۔ لیکن کیا اس سے کرپشن کی روایت ختم ہورہی ہے۔ کیا سرکاری افسروں۔ اہلکاروں میں واقعی خوف خدا پیدا ہورہا ہے۔ کیا رشوت لینا دینا بند ہوگیاہے۔ کیا نظام میں واقعی کوئی تبدیلی آرہی ہے۔کیا بلاول ہائوسوں ۔ رائے ونڈ اسٹیٹوں۔ بنی گالائوں میں رہنے والوں میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ ایسے گھروں میں رہنا از خود کرپشن ہے۔

بڑی عدالتوں سے تو انصاف ملنے کی دھوم مچی ہوئی ہے لیکن ذیلی عدالتوں میں تو دربان سے لے کر پیش کار تک اسی طرح منہ کھولے ہوئے ہیں ۔ وکیل خود موکل سے کہتے ہیں کہ ان کے منہ بند کرنے کے لئے کچھ ناجائز عنایت کردیں۔ کھلے عام رشوت مانگی جاتی ہے۔ بالکل جائز معاملات بھی بغیر لئے دیے طے نہیں ہوتے۔ مکمل دستخط کے الگ نرخ ہیں۔ چھوٹے دستخط Initials کے الگ۔ اور محکمے کی مہر لگانے کے پیسے الگ۔چند بڑے سرکاری افسر پیشیاں بھگت رہے ہیں لیکن سارے سرکاری محکموں۔ وفاقی اور صوبائی سیکرٹریوں میں فائلوں کو پہیے کرنسی نوٹوں سے ہی لگتے ہیں۔

پاکستان کے نچلے۔ متوسط اور اعلیٰ طبقوں کے خواتین و حضرات ٹی وی چینلوں کے سامنے بیٹھے سابق صدر۔ سابق وزیر اعظم۔ سابق وزراء کو پولیس کے جلو میں عدالتوں۔ ایف آئی اے۔ نیب کے دفاتر میں پیش ہوتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ اب پاکستان کرپشن سے پاک ہورہا ہے۔ وہ با اثر لوگ احتساب کے شکنجے میں کسے جارہے ہیں۔ جن کے بارے میں تصور نہیں کیا جاسکتاتھا کہ ان پر کوئی ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ مگر جب اگلی صبح وہ کسی بلدیاتی دفتر۔ سرکاری محکمے۔ یا عدالت میں جاتے ہیں تو وہاں تو وہی معمول اور ترتیب نظر آتی ہے۔ قائد اعظم کی تصویر اب بھی امرت دھارے کاکام دے رہی ہے۔پولیس اسٹیشنوں کا گزارہ اب بھی بھتے پر ہے۔ پولیس اسٹیشن اپنے بجٹ میں تو چل ہی نہیں سکتا۔ آس پاس کے مخیر حضرات اپنے جرائم پر پردہ ڈلوانے کے لئے ان اسٹیشنوں کا خرچ برداشت کرتے ہیں۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والے متوسط طبقے کے چھوٹے چھوٹے مکانوں کے نقشے اپنی مطلوبہ رقم حاصل کیے بغیر اب بھی منظور نہیں کرتے۔ عمر بھر کی کمائی اور برسوں کی ملازمت کے بعد عمر کے آخری حصّے میں اپنی اولاد کے لئے مکان تعمیر کرنے کی سوچنے والے پاکستانی ان دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک رہے ہیں۔

نئے سرکاری منصوبوں کے لئے حکومت مشکل سے جو رقوم منظور کرتی ہے متعلقہ منصوبوں والوں کو یہ فنڈز بھی محکمہ خزانہ سے خریدنے پڑتے ہیں اس کے بغیر یہ جاری نہیں ہوتے۔ سڑکیں بنانے ولے ٹھیکیدار۔ اپنا 50سے 60 فیصد بلکہ زیادہ تو متعلقہ وزیروں۔ وزیر اعلیٰ کو دے دیتے ہیں اس کا معاوضہ وہ علاقے کے لوگوں سے وصول کرتے ہیں۔ ہائوسنگ اسکیموں کے ارکان سے یہ وصول کی جاتی ہے۔

خلق خدا کو کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ ابھی تو یہ خبریں انہیں مایوس ہونے سے روک دیتی ہیں کہ حکمران طبقہ جیل کی ہوا کھارہا ہے۔ کسی کو سات سال قید۔کسی کو دس سال۔ پھر بڑے بڑے زباں دراز خاموش ہوتے جارہے ہیں۔ ایک صوبے کے حکمرانوں کے نگراں۔ بلکہ اصل حاکم بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ لیکن ان اقدامات سے خبروں سے عوام کا پیٹ تو نہیں بھر رہا ہے۔ ان کی غربت تو دور نہیں ہورہی ہے۔ اربوں روپے لوٹنے والوں سے کوئی وصولی تو ہو نہیں رہی۔ خزانہ خالی ہے بھرا تو نہیں جارہا ہےسرکاری محکموں میں با اثر لوگوں کو اب بھی پروٹوکول مل رہا ہے ان کی خاطر تواضع اب بھی اسی طرح ہورہی ہے۔

مثالی صورت حال تو یہ ہوگی کہ تمام سرکاری محکموں میں 9سے 5صرف کام ہو اور عوام کے معاملات معمول میں طے ہوتے جائیں۔ انہیں بار بار چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہیں گھر بیٹھے اطلاع ملے کہ ان کا کام ہوگیا ہے ۔ عمر بھر سرکار کی خدمت کرکے ریٹائر ہونے والوں کو گھر بیٹھے پنشن مل جائے۔ ریٹائرمنٹ کے مراحل از خود طے ہوجائیں۔ معمر ملازمین کو در در جاکر منت سماجت نہ کرنی پڑے۔ ٹریفک پولیس کونوں میں کھڑی بھائو تائو نہ کررہی ہو۔ فوڈ انسپکٹر ۔ ویٹ انسپکٹر۔ شاپ انسپکٹر۔ میٹ انسپکٹر۔ روزانہ اپنے اپنے بازاروں دکانوں پر ڈیوٹی دے رہے ہوں۔ شہروں سے ٹرانسپورٹ مافیا۔ واٹر مافیا۔ لینڈ مافیا کے غلبے ختم ہوجائیں۔ یہ نہ ہو کہ نئی حکمراں پارٹی کے کارندے ان مافیائوں کی سرپرستی کرنے لگیں۔

لوگ اب کچھ کچھ اکتائے نظر آرہے ہیں۔ کیونکہ بڑے کرپٹ پاکستانیوں کی گرفتاریاں۔ سزائیں ان کے دن نہیں بدل رہی ہیں۔ ان کی زندگی تو اسی طرح اجیرن ہے۔ گھر سے دفتر۔ کارخانے۔ دکان پر جانے میں وہی مشکلات ہیں۔ لٹنے کا ڈر وہی ہے۔ علاقہ پولیس اور علاقہ بدمعاش میں مفاہمت اسی طرح ہے۔ اکثر خاندانوں میں سے کچھ ارکان کینیڈا۔ دبئی۔ برطانیہ امریکہ میں بھی۔ وہ وہاں قانون کی حکمرانی دیکھ کر آتے ہیں۔ یہاں قانون شکنوں کی حکمرانی دیکھتے ہیں تو ان کی تمنّا ہوتی ہے کہ قانون یہاں بھی سب کے لئے یکساں ہو۔ ہر معاملے کے لئے سفارش نہ تلاش کرنی پڑے۔ رشوت نہ دینی پڑے ۔

حکمراں پارٹی ایسا کچھ سوچ رہی ہے یا کوئی ایسے فیصلے کررہی ہے جس سے اس کرپٹ سسٹم میں کوئی تبدیلی آتی دکھائی دے۔ جناب عمران خان ایسا کچھ کریں۔ اس سے پہلے کہ لوگ اکتا جائیں۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …