جمعرات , 15 اپریل 2021

بھارت میں تعصب کے زہر کا پھیلاؤ

(ڈاکٹر دوست محمد) 
گزشتہ دنوں بھارت کی فیچر فلموں کے مایہ ناز اداکار نصیرالدین شاہ کو میڈیا کے ذریعے یہ کہتے ہوئے سنا کہ” بھارت میں یہ زہر(مذہبی ونسلی تنگ نظری وتعصب کا زہر) پھیل چکا ہے اور اب یہ جن کی صورت میں نکل آیا ہے یہ دوبارہ بوتل میں بند نہیں ہو سکتا”۔نصیرالدین شاہ نے فلم مرزاغالب میں جو کردارادا کیا ہے اور مرزا غالب بن کر جو اداکاری کی ہے وہ بے مثال ہے ۔ اسی فلم میں ان کے کردار کے سبب ان کے ساتھ دل میں ایک مانوسیت سی پیدا ہوگئی تھی اور پچھلے دنوں جب اُن کو میڈیا پر بہت مغموم واداس انداز میںیہ کہتے ہوئے سُنا کہ مجھے اب ہندوستان میں اپنی اولاد کے مستقبل کے حوالے سے فکر لاحق ہوگئی ہے، توان سے ہمدردی ہونے کے باوجودافسوس بھی ہوا۔اور نہ صرف ان پر افسوس ہوا بلکہ ہندوستان اورپاکستان کے ہر اُس شخص پر افسوس ہواجو آج بھی موقع بہ موقع،وقتاً فوقتاً یہ رٹ لگائے رکھنے سے باز نہیں آتے کہ متحدہ ہندوستان ہمارے لئے اور ہماری نسلوں کے لئے بہت بہتر رہتا۔ ہندوستان میں راشٹریہ سیوک سنگھ اور بجرنگ دل کے سیندور لگائے انتہا پسند جن سے مسلمان تو کسی صورت محفوظ نہیں ، بے چارے دلت وشودر اور مسیحی برادری کے افراد بھی آئے روز اُن کی تنگ نظریوں اور تعصبات کی بھینٹ چڑھتے رہتے ہیں۔ اُن کے ظلم وبربریت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے کسی بھی کونے میں کہیں گائے ذبح ہوجائے تو وہاں کے مسلمانوں کی شامت آجاتی ہے کیونکہ گائے کو ہندوستان کے لوگ بھگوان کا درجہ دیتے پوجتے ہیں۔

اب بھلا سائنس وٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ بھی کوئی بات ہے کہ گائے کو اس حد تک احترام دو کہ انسانیت اُس کے سامنے ماند پڑ جائے اور اس پر طرفہ تماشا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ہندوستان ایشیا میں یورپ کو گائے کا گوشت فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور ہندوستان کے پڑھے لکھے نوجوان بلا تردد بیف کا گوشت و کباب اور دیگر مصنوعات کھاتے اور استعمال کرتے ہیں۔ نصیر الدین شاہ بہت بے چارگی کے انداز میں اس بات کا اظہار کر ر ہے ہیں کہ بھارت میں ”ایک گائے کی موت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ایک پولیس افسر کی موت کی بہ نسبت”۔

لیکن بھارت میں ہم جیسے لوگوں کے آبا و اجداد کے لئے یہ کوئی نئی ا ور انوکھی بات نہیں تھی۔ اس لئے آج ہمارے لئے بھی یہ کوئی خاص بات نہیں۔ سر سیدا حمد خان جیسی آزاد فکر اور بقائے باہمی کے قائل و عامل انسان نے کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد بعض اپنوں کے طنز و تنقید برداشت کئے لیکن انگریز کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کے قیام پر زور دیا’ آگے جا کر ہندوئوں کے متعصبانہ نظریات و عمل کے پیش نظر مسلمانان ہند کے لئے جداگانہ تشخص کا سبق دیا جس کی بنیاد پر علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور محمد علی جناح’ مولانا شبیر احمد عثمانی’ سید جماعت علی شاہ’ مولانا ظفر احمد انصاری اور دیگر مذہبی و سیاسی قائدین نے اس کو عملی جامہ پہنا کر ہمیں نصیر الدین شاہ کی طرح فکر مند ہونے سے بچا لیا۔بھارت کی فلم انڈسٹری میں ہندوستانی مسلمانوں کا پچاس فیصد حصہ ہونے اور اس کے باوجود کہ ان مسلمان اداکاروں’ فلم سازوں’ سکرپٹ رائٹروں اور دیگر متعلقہ افراد نے اپنے جداگانہ تشخص کی قربانی دے کر بھی اپنی اولاد کے بارے میں فکر مند ہونے سے بچا نہ سکا۔نصیر الدین شاہ’ شاہ رخ خان اور عامر خان اور لیجنڈ دلیپ کمار کی بے چارگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے آپ کو لبرل’ انسانیت نواز اور کسی بھی طرح مذہب کے اظہار سے دور رہنے اور اپنی اولاد کے ناموں تک کو ”معتدل” رکھنے (یعنی ایسے نام جو نہ مسلمان کے ہوں نہ ہندوانہ ہوں) کے باوجود صرف نام کے مسلمان ہونے اور مسلمان کی ا ولاد ہونے کے سبب ”خطرناک” ہیں۔

نصیر الدین شاہ کو یہ کہتے ہوئے سن کر بہت ہی افسوس ہوا کہ ”مجھے فکر ہے اپنی اولاد کے بارے میں’ کیونکہ میں نے ان کو مذہبی تعلیم دی ہی نہیں۔ کیونکہ مذہب کا کسی اچھائی برائی کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اور اپنی بیوی رتنا (Ratna) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے صرف ایک آیت اردو تلفظ کی اصلاح کے لئے سکھائی تھی۔ جس طرح رامائن وغیرہ سے ہندی کا تلفظ درست ہوجاتا ہے۔ اپنی لبرل تربیت یافتہ اولاد کے بارے میں وہ اس لئے فکر مند ہیں کہ اگر ہندوئوں کا کوئی گروہ انہیں گھیر کرپوچھے کہ تم مسلمان ہو یا ہندو؟ تو وہ کیا جواب دیں گے کیونکہ وہ تو نہ مسلمان ہیں نہ ہندو۔ انہیں تو ایک مسلمان اداکار کی اولاد ہوتے ہوئے بھی اسلام کی مبادیات کے بارے میں کچھ بھی نہیں سکھایا گیا ہے۔

بھارت کے ان مسلمان اداکاروں اور کانگریسی مسلمان سیاستدانوں نے اپنا مسلم تشخص مٹا کر بھی ہندوستان کے تنگ نظر و متعصب ہندوئوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کوئی کامیابی ستر برس گزرنے کے بعد بھی حاصل نہیں کی۔ ایسے میں پاکستان کیا ایک عظیم نعمت خداوندی سے کم ہے۔ یقینا نہیں۔ تاریخ نے ہمارے بزرگوں کی دور اندیشی کے صائب اور صحیح ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرلی ہے۔ اس لئے پاکستان کی حفاظت اور ترقی کے لئے ہر پاکستانی پر تن من دھن کی بازی لگانا واجب ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …