پیر , 12 اپریل 2021

امام کعبہ اور حرم پاک کے مقدس منبر سے بدصورت جھوٹ

(ڈاکٹر فرحان کامرانی)
حال ہی میں امام کعبہ جناب عبدالرحمن السدیس صاحب نے بڑا دلچسپ خطاب جمعہ فرمایا، انہوں نے مکہ کے مقدس منبر پر چڑھ کر ارشاد فرمایا کہ ہر صدی میں اللہ رب العزت ایک مجدد بھیجتا ہے، اس صدی کا مجدد کوئی اور نہیں بلکہ ولی عہد سلطنت جناب محمد بن سلیمان صاحب ہیں جو عقائد اسلامی کو عہد حاضر میں نئی بہار عطا فرما رہے ہیں، ان کی بصیرت آموز نظر اور ان کے حکیمانہ افعال سے یہ مقدس دھرتی اصلاحات اور جدیدیت کے عظیم سفر پر گامزن ہے۔

امام کعبہ نے اپنے ولی نعمت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ملاتے بات اتنی آگے بڑھائی کہ انہیں خلیفہ ثانی سے تشبیہ دے دی، پھر امام کعبہ نے فرمایا کہ اللہ ولی عہد سلطنت کی غیر ملکی سازشوں سے حفاظت فرمائے۔ محترم نے جمال خاشوجی کی موت کا بھی اشارۃً ذکر فرمایا اور بتایا کہ مسلمانوں کو اس نوع کے جھوٹے الزامات پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔

اگر ہم غلطی پر نہیں تو امام کعبہ صاحب نابینا ہیں، نہیں ہم ان کے سر کی آنکھوں کی با ت نہیں کر رہے، اس آنکھ کی بات کر رہے ہیں جو بصیرت سے روشن ہوتی ہے۔ یقیناً بادشاہوں کے ہاتھوں میں آ کر اسلام یہی کچھ ہو جاتا ہے اور اسی لئے حضرت حسینؓ خلافت کی حفاظت کے لئے اپنا سر کٹانے پر تیار ہو گئے تھے۔ یقیناً بادشاہتوں میں اسی طرح منبر و محراب بادشاہوں کے قصائد پڑھنے کی جگہیں بن جاتی ہیں۔ مگر امام کعبہ ایک لمحے کو ذرا رک کر اس منبر کی تقدیس کا ہی خیال کر لیتے۔ ایک لمحے کو سوچ لیتے کہ وہ کس شخص کو مجدد صدی قرار دے رہے ہیں؟ وہ کس شخص کا موازنہ صحابہ رسولؐ سے کر رہے ہیں؟ یہ کون سی اصلاحات اور جدید تعبیر اسلام ہے جس میں سینما کھولے جا رہے ہیں؟ پردے اتارے جا رہے ہیں؟ اور ملک و قوم کو ٹرمپ کے یہودی داماد جار ڈکشنر کے قدموں میں رکھا جا رہا ہے؟یہ کون سی اصلاحات اور جدید تعبیر اسلام ہے امام صاحب کہ جس میں ہمارے قبلہ اول بیت المقدس اور فلسطین پر یہود کا حق تسلیم کر لیا گیا ہے؟

پھر بڑی معصومیت سے امام صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ جمال خاشوجی کے قتل میں محمد بن سلیمان کا مبینہ ہاتھ ہونا افواہ ہے اور اسلام کے خلاف سازش ہے۔ امام کعبہ صاحب آپ کے وطن سے یہ ڈیڑھ درجن خصوصی اہلکار جو استنبول گئے تھے اور جنہوں نے جمال کو قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے تھیلوں میں بھرے اور سعودی کونسل جنرل کے گھر میں لا کر تیزاب میں گلا دیے۔ یہ سب کس کے حکم کے تابع تھے؟ ممکنہ طور پر اگر آپ کے مجدد صدی نے جمال کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا تو پھر یہ ان کے والد محترم شاہ سلمان کا فرمان ہو گا۔

اس لئے کہ آپ کے وطن میں اب کسی شاہزادے میں کوئی جان نہیں، سب جانتے ہیں کہ حکم صرف محمد بن سلیمان کا چلتا ہے اور اگر کوئی ہے جو ولی عہد کو کسی کام سے روک سکتا ہے تو وہ خود بادشاہ سلامت ہیں۔ ان حالات میں آپ کے مجدد صدی ہی پر ساری دنیا کا شک جاتا ہے کہ جمال کا خون ان کے ہی ہاتھوں پر ہے بلکہ ہم نے غلط لکھ دیا، شک نہیں سب کو یقین ہے کہ جمال کا قتل محمد بن سلیمان نے ہی کیا ہے۔

مگر امام کعبہ صاحب اس میں کون سی نئی بات ہے؟ ملک کے اندر وہ نہ جانے کتنے ناقدین کو غائب کروا چکے، مروا چکے۔ بہت سے امام اور علماء بھی مجدد صدی صاحب کی زد میں آ چکے۔ خیر اس عظیم منبر کے لئے یہ پہلا موقع نہیں کہ یہاں سے ظالموں اورفاسقوں کے حق میں خطبات جاری ہوئے ہوں، جب حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو شہید کر کے یزید کی افواج نے مکہ فتح کیا تھا تب بھی ایسے خطیب اس منبر پر بیٹھے تھے کہ جنہوں نے حضرت حسینؓ اور حضرت عبداللہؓ بن زبیرکو باغی قرار دیا تھا اور یزید کے قصیدے بیان کیے تھے مگر تاریخ کا ہر طالب علم اس بات سے واقف ہے کہ تاریخ کا فتویٰ کس کے حق میں آیا اور کون تاریخ میں حق قرار دیا گیا اور کون باطل ٹھہرا۔ امام کعبہ کی یہ تقریر حقائق پر نہ پردہ ڈال سکتی ہے نہ جھوٹ کو سچ، سچ کو جھوٹ بنا سکتی ہے۔ یہ تقریر تو امام کعبہ صاحب کی Job discription ہے اور کچھ نہیں اور اسلامی تاریخ میں سرکاری ملاؤں کو کس نگاہ سے دیکھا گیا ہے وہ سب ہی جانتے ہیں۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …