جمعہ , 23 اپریل 2021

"یوشع بن نون” کا ذبحہ خانہ، حقیقت یا افسانہ!

قابض صہیونی فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس میں توسیع پسندی کے مکروہ حربوں کا استعمال جاری ہے۔ فلسطینی اراضی اور اہم مقامات پر قبضے کے لیے یہودی شرپسند طرح طرح کے حربے اور بہانے تراشتے ہیں۔ کہیں تاریخ کو مسخ کیاجاتا ہے اور کہیں دیگر ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں یہودی آباد کاروں‌ نے ایک جگہ پرقبضہ کرکے اسے "یوشع بن نون” کا ذبحہ خانہ قرار دے رکھا ہے۔ اس کا مقصد اس تاریخی جگہ پر قبضہ کرنا اور تاریخی مقامات کو یہودیانے کی سازشوں کو آگے بڑھانا ہے۔

حال ہی میں اسرائیل کے سابق وزیر برائے ہائوسنگ "اوری ارئیل” نے "یوشع بن نون” کے ذبحہ خانے کے طور پر مشہور اس جگہ کو یہودیوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل وہ 2015ء میں اس جگہ کو یہویوں کو تلمودی تعلیمات کے لیے کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔

گذشتہ ماہ اسرائیلی حکام نے دو کلو میٹرطویل ایک سڑک کھود کر اس مقام تک یہودیوں کی رسائی اور بھی آسان بنا دی ہے۔ اس سڑک کی تعمیر کے لیے شمالی قصبے عصیرہ کی قیمتی اراضی پرغاصبانہ قبضہ کیا گیا اور فلسطینیوں کو ان کی قیمتی سیکڑوں دونم اراضی سے محروم کر دیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کار ہر ہفتے کے روز منظم انداز میں اس تاریخی مقام میں جمع ہوتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

فلسطینی آثار قدیمہ کے ماہر ضرغام الفارس نے "مرکز اطلاعات فلسطین” کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہودی جس جگہ کو "یوشع بن نون” کا ذبحہ خانہ قرار دیتے ہیں وہاں پرانے کھنڈرات موجود ہیں مگر یہ دعویٰ کہ وہاں یوشع بن نون کا ذبحہ خانہ تھا تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ یہ تمام یہودی اور صہیونی تحریک کے غاصبانہ ہتھکنڈوں کا تسلسل ہے۔ یہودی فلسطین میں اپنی توسیع پسندی کے لیے نام نہاد اور جعلی تاریخی روایات کے مطابق اپنے تاریخی مذہبی مقامات ثابت کرتے ہیں۔

حقیقت اور افسانہ میں فرق
گذشتہ صدی کے اواخر میں ایک یہودی سائنسدان آدم زرتال نے یوشع بن نون کے ذبحہ خانے اس جگہ کی کھدائی شروع کی۔ یہاں پر کھدائی اور توڑ پھوڑ کے دوران فرعونی دور کی دو مہریں ملیں۔ ان پر 13 قبل مسیح کی عبرانی تاریخ درج تھی۔ وہاں سے یہودیوں نے اسے "یوشع بن نون” کا ذبحہ خانہ قرار دیا۔ضرغام فارس کا کہنا ہے کہ اس جگہ پرکنعانی اور پت پرست دور کی عمارتوں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ یہاں پر کنعانی دور میں پتوں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس جگہ کو کسی بھی طور پر "یوشع بن نون کا ذبحہ خانہ” قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ محض مفروضہ ہے۔ یہ دعویٰ تمام تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ یوشع بن نون بھی ایک افسانوی کردار ہیں جن کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں ملتی۔

فارس کا کہنا ہے کہ کھدائیوں کے نتائج کے بارے میں بہت سے علماء، فلسطینی ماہرین اور یہودی سائنسدانوں نے الگ الگ رائے دی ہے۔ ایک اسرائیلی اور یہودی پروفیسر "اسرائیل فنکلچائن” کا کہنا ہے کہ یوشع صرف ایک افسانوی کردار بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔ادھر ارض کنعان کے مذہب میں جگہ مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

فلسطینی دانشور الفارس کا کہنا ہے کہ زرتال نے 30 سال تک اس جگہ کی کھدائیوں کے نتائج مرتب کئے مگر وہ اس جگہ کو یوشع بن نون کا ذبحہ خانہ ثابت نہیں کرسکا۔ اس کے افکار یہودیوں کے مذہبی اور سامرائی مذہبی افکار کے منافی رہے ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …