پیر , 12 اپریل 2021

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی خون آشامیاں

(عبدالرفع رسول)
مقبوضہ کشمیر میں امسال قابض بھارتی فوج کے ظلم وستم اوراسکی کھلی سفاکیت کے نتیجے میں اعدادوشمارکے مطابق نومبر2018ئتک زائد از347 کشمیری نوجوان شہیدہوئے ہیں اس طرح سال2017ء کے برعکس2018ء میں کشمیریوں کی شہادتوںمیں اضافہ ہوا۔اس دوران مختلف معرکوں کے دوران کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں 81 بھارتی فوجی بھی واصل جہنم ہوئے جبکہ اس دوران 56باراہل کشمیرنے بھارتی بربریت کے خلاف فقیدالمثال ہڑتالیں کیں ان ہڑتالوں کامقصدبین الاقوامی رائے عامہ کی توجہ کشمیریوں کی مظلومیت کی طرف کراناتھا۔جو کشمیری نوجوان رواں سال جنوری سے نومبرتک شہیدہوئے اسکی کچھ تفصیل یوں ہے۔

9جنوری کو لارنو کوکر ناگ ضلع اسلام آباد میں خالد ڈار ساکن بنہ گھاٹ کیموہ نامی ایک کشمیری کوگولی مارکرشہیدکردیا،جبکہ16جنوری کو محمد ایوب نامی ایک کشمیری کوبھارتی قابض فوج نے ابدی نیند سلایا۔ 24جنوری قابض فوج کے سفاکانہ آپریشن کے دوران 17سالہ کشمیری بچہ شاکراحمدمیرساکن قلم پورہ کوشہیدکردیا گیا۔25جنوری کوضلع شوپیاں میں بھارتی فوجی درندوں نے گولی مارکر10سالہ بچے مشرف فیاض ولد فیاض احمد نجار کو شہید کردیا،جبکہ دیگربچے زخمی کردیئے گئے جوزخموں کی تاب نہ لاکرشہیدہوئے اس طرح اس سانحے میں شہداء کی تعداد5تک پہنچ گئی۔27جنوری کو شوپیاں کے گنوپورہ گائوں میں قابض بھارتی فوج کی راست فائرنگ کے نتیجے میں 20سالہ نوجوان سمیت جاویداحمدبٹ اورسہیل احمدلون شہیدجبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ 31جنوری کو ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ایک نوجوان شہری رئیس احمد گنائی ساکن نارہ پورہ شوپیاں کی شہادت واقع ہوئی۔

13فروری کو حریت لیڈر اور تحریک وحدت اسلامی کے جنرل سیکریٹری محمد یوسف ندیم قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے جاںبحق ہوئے۔ 19فروری کو بڈگام میں بھارتی ائر فورس اسٹیشن میں تعینات اہلکاروں نے سویہ بگ کا عام شہری اور دماغی طور سے ناخیزسید حبیب اللہ شاہ کو گولی مار کر شہید کیا۔ 4مارچ کو پہنو شوپیاں میں فوج کی راست فائرنگ سے 3کشمیری گوہر احمد لون، عاشق حسین ساکن رکھ پورہ کاپرن ،زبیر احمد بٹ والد عبدالاحد ساکن گوپالپورہ کولگام، معراج الدین میر ولد محمد یاسین ساکن اوکے کولگام اور محمد اقبال بٹ ولد منظور احمد ساکن خاسی پورہ شوپیاں،شہیدہوئے،جبکہ5مارچ کو شوپیاں کے اسی علاقے میں مزید ایک فوجی کیمپ کے قریب ایک اور کشمیری کی نعش برآمد ہوئی۔11اپریل کو کولگام کے کھڈونی علاقے میں 3کشمیری شہیدہوئے ۔15 اپریل کو قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والانوجوان شہیدہواجبکہ سرجیل احمد شیخ،بلال احمد تانترے، فیصل احمد آلائی اعجاز احمد زخموں کی تاب نہ لاکر شہیدہوگئے۔26اپریل کو اسلام آبادمیں قابض فوج کی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق ہوا۔30 اپریل کو دربہ گام پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان کوشہیدکیاگیا ۔ 2مئی کو شوپیاں کے ترکہ وانگام میں ایک شہری عمر احمد کمہار پنجورہ شوپیاں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہوا۔5مئی کو ہی سرینگر میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں نے ایک شہری عادل احمد ساکن صفا کدل پرگاڑی چڑھاکرشہیدکردیا ۔6مئی کو شوپیاں کے بڈیگام میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے10کشمیری شہید ہوئے ۔

8مئی کو قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوا17سالہ سفیل احمد ساکن امام صاحب بھی زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ 27 مئی کی شام کو کاکہ پورہ پانپور میں فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری بلال احمد گنائی ساکن لاجورہ شہید ہوا۔ یکم جون کو جامع مسجد سرینگر کے باہر احتجاجی مظاہرے کے دوران سفاک بھارتی فوج کی ایک گاڑی نے کئی نوجوان شہریوں کو کچل کر شدید زخمی کیا،جن میں سے قیصر امین ساکن فتح کدل نامی نوجوان شہید ہوا۔ 15جون کو پلوامہ کے نائو پورہ علاقے میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروںنے وقاص احمد راتھر نامی17 برس کے کشمیری نوجوان کو احتجاج کے دوران گولی مار کر شہید کیا۔ 16جون کو عید کے روز اسلام آباد کے جنگلات منڈ ی علاقے میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروںنے شیراز احمد ساکن براکہ پورہ اسلام آبادپرفائرنگ کردی اوراسے شہیدکردیا۔22جون کوکھرم بجبہاڑہ میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری شہید ہوا ۔ 24جون کو چاڈور ہ کولگام میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے یاور احمد ڈار ولد عبدالرحمن ڈار ساکن گاسی پور ہ شہید ہوا،جبکہ اس روز سری گفوارہ میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے شاہد نذیر حجام ساکن سرہامہ شہیدہوگیا۔29جون کو پلوامہ میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے کمسن بچہ فیضان احمد ساکن لدھو پانپور بھی شہید ہوا۔ 7جولائی کو کولگام کے ہائورہ مشی پورہ میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے عندلیب جان ،زاہد احمد لون ولد عبد المجید لون اور شاکر احمدشہید ہوئے۔10جولائی کونادی ہل علاقے میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ میں زخمی ہونے والا طالب علم عبید منظور لون 15روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعدزندگی کی جنگ ہار بیٹھا۔

10جولائی ہی کو شو پیاں کے کنڈلن علاقے میںقابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 18سالہ نو عمر لڑکا تمثیل احمد خان و لد خو رشید احمد خان ساکنہ وہیل شہید ہوا۔ 11جولائی کوکپوارہ کے ترہگام علاقے میں فوج کی فائرنگ سے ایک 20سالہ نوجوان خالدعبد الغفار ملک شہیدہوا۔ 4اگست کو شوپیاں میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری بلال احمد خان شہیدہوا۔ 17اگست کو ایس پی آفس اونتی پورہ میں 56سالہ ایک بزرگ عبدالاحد پنچو ساکن جو بہارہ اونتی پورہ پرقابض بھارتی فوج نے فائرنگ کردی اوراسے شہیدکردیا۔ 3ستمبر کو پلوامہ میں کریک ڈائون کے دوران قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 23سالہ نوجوان فیاض احمد وانی ساکن چیوہ کلا ں شہید ہوا۔

15ستمبرکو چوگام قاضی گنڈ میں ایک نوجوان رئوف احمد گنائی ولد محمد سلیم گنائی ساکن الفاروق کالونی آنچی ڈورہ اسلام آباد قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہیدہوا۔ 8ستمبر کو بمبئی سوپور میں بھارتی قابض فوج نے حریت کانفرنس کے ایک سرگرم کارکن حکیم الرحمان سلطانی کو گولی مار کر شہید کردیا ۔ 27ستمبر کو سرینگر کے نور باغ علاقے میں محاصرے کے دوران قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری محمد سلیم ملک شہیدہوا۔11اکتوبر کو مسلم لیگ کے ضلع صدر شوپیاں مولوی طارق احمد گنائی کوبھارتی فوج نے گولی مارکرشہیدکردیا۔17 اکتوبر کو فتح کدل سرینگر میںایک کشمیری رئیس احمد کوقابض بھارتی فوجی اہلکاروں نے گولیوں کا نشانہ بناکرشہیدکردیا۔ 19اکتوبر شام کو پلوامہ کی ایک خاتون فردوسہ زوجہ خورشید احمد شیخ قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کے دوران شہیدہوئیں ۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …