بدھ , 23 جون 2021

امریکہ نے بالآخر ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ ترک کر دیا

(سینیٹر رحمان ملک)
میں نے اپنے کئی مضامین میں یہ لکھا تھا کہ امریکہ افغانستان اور شام میں امن کا مقصد فوجی قوت کے بل بوتے پر حاصل نہیں کر پائے گا۔ اب یہ بات ثابت ہوگئی صدر ٹرمپ نے شام اور افغانستان سے نکلنے کا بہانہ تلاش کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی رائے عامہ کے دباؤ اور افغانستان وشام میں یکطرفہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے امریکی مطالبہ ’’ڈو مور‘‘ کے جواب میں نو مور کی پالیسی کامیاب رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مُلر تحقیقات کے نتیجے میں صدر ٹرمپ پر مسلسل دباؤ بڑھتا چلا آیا ہے اور یہ دباؤ آنے والے مہینوں میں مزید بڑھے گا ۔ میری خواہش تھی کہ صدر ٹرمپ اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد افغانستان اور شام سے فوجیں نکالنے کا فیصلہ کرتے اس فیصلے سے امریکہ پر افغان جنگ کا دباؤ کم ہو جاتا ۔ میرے خیال میں تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ہم افغانستان سے امریکی انخلا سے پہلے کئی قسم کی ہلچل دیکھیں گے۔ بات چیت کا سلسلہ 2010ء میں شروع ہوا تھا جب امریکہ نے افغانستان میں فوجیوں کو نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب امریکہ اپنی مجبوریوں کے تحت شام اور افغانستان سے فوجیوں کو نکال رہا ہے۔

میں نے افغانستان میں امریکہ کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ میں 1992ء میں جب پشاور ریجن میں ایف آئی اے کا ڈائریکٹر تھا تو میں نے امریکیوں سے افغان مجاہدین کو انتقال اقتدار کا مرحلہ دیکھا تھا اس وقت بربانی الدین ربان کو صدر اور حکمت یار کو وزیراعظم بنایا گیا تھا ۔ پاکستان نے اس قومی حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ربانی اور حکمت یار کے باہمی تعلقات اچھے نہیں تھے مجھے دونوں سے ذاتی طور پر ملاقاتوں کا موقع ملا۔ اس وقت برہان الدین ربانی نے گلبدین حکمت یار پر امریکہ کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ جب میں حکمت یار سے ملا تو اس نے برہان الدین ربانی کو امریکی ایجنٹ قرار دیا تھا۔ دونوں ہی لیڈر سویت یونین کے خلاف امریکہ کے اہم کردار تھے۔ گل بدین حکمت یار کے اسامہ بن لادن کی طرف جھکاؤ کے نتیجے میں ایک تیسرا گروپ طالبان کے نام سے افغانستان میں ابھرا۔ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے شمالی اتحاد کے نام سے ایک نیا اتحاد وجود میں آیا۔ طالبان کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے بتدریج افغانستان میں اپنا کنڑول قائم کرلیا۔ ملا عمر طالبان کے لیڈر کے طورپر ابھرا۔ ملاعمر نے قندھار میں ایک مٹی کے گھر میں بیٹھ کر افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔ سویت فوجیوں کے انخلا کے بعد امریکہ نے افغانستان کو خیرباد کہہ دیا جس کے نتائج افغانستان اور پاکستان دونوں آج بھگت رہے ہیں۔

شمالی اتحاد کے راہنما احمدشاہ مسعود نے امریکہ کی حمایت حاصل کرلی اور ایران کی مدد سے اس نے طالبان پر حملے شروع کر دئیے ۔ روسی جائنٹ وکٹرپاؤٹ نے احمد شاہ مسعود کو اسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیا۔ یہ روسی اسلحہ سپلائر ایک خفیہ آپریشن میں تھائی لینڈ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

میں نے ایک مضمون میں لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’عالمی طاقتوں کی سیاست اور سی آئی اے کے پاکستان میں خفیہ آپریشن کیا پاکستان اس حالات کا شکار رہے گا ‘‘ یہ مضمون اگست 2017ء میں شائع ہوا تھا۔ جس میں میرا تجزیہ یہ تھا کہ افغان مسئلہ کو فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی بالآخر امریکہ اس علاقے سے نکل جائے گا اوراس کی افغانستان سے انخلا کے بعد کوئی واضح پالیسی نہیں ہوگی۔ افغانستان امریکہ کے پیدا کردہ افریقی عرب انتہا پسندوں کے رحم وکرم پر رہ جائے گا۔ ڈالر اور بندوق کی طاقت کے استعمال کی امریکی پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔ یہ پالیسی عراق اور شام میں بھی ناکام ہوئی۔ ان ناکامیوں کے باوجود امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک نہیں کرے گا۔

میرا تجزیہ یہ ہے کہ ہمارے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پالیسی نے امریکہ کو افغانستان چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ میں اس پالیسی کو باجوہ ڈاکٹرائن کہوں گا۔ جنرل باجوہ تمام پر یہ واضح کیا تھا کہ پاکستان بھارت کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرئن کا بھرپور جواب دے گا۔ یہ بھارتی ڈاکٹرئن نریندر مودی کی حکومت میں بھی جاری ہے اور اس کے تحت مودی نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے اور ایل او سی پر مسلسل فائرنگ کا سلسلہ شروع ہے۔

باجوہ ڈاکٹرئن بروقت تھا اس کا مقصد علاقے میں امن قائم کرنا ہے اس کے تحت امریکہ کی طرف سے ’’ڈو مور‘‘ کے دباؤ کا مقابلہ کرنا تھا۔ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ اس ڈاکٹرائن کا اہم حصہ تھا ۔

بھارتی پروپیگنڈہ کا بھی موثر جواب اس کا حصہ ہے امریکہ کا بھارت کے ساتھ دفاعی سمجھوتہ امریکہ کو اس سمجھوتے میں اپنے مقاصد کے حصول میں کوئی مدد نہیں دے گا۔ میرے ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے افغان حکومت کو عملی امداد فراہم کی ہے۔ جنرل باجوہ کی ڈیفنس ڈپلومیسی سے افغانستان سے امریکی انخلا اور پاک افغان تعلقات بہتر ہوئے ہیں امریکہ کسی موجودہ انتظامیہ پراپنی رائے عامہ اور بین الاقوامی دباؤ کے تحت افغانستان کے بارے میں موجودہ پالیسی جاری نہیں رکھ پائے گی۔کیوں کہ امریکہ کھربوں ڈالر افغان جنگ میں جھونکنے کے باوجود کامیابی نہ ملنے پر سخت دباؤ میں ہے۔پاکستان نے اس وقت طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے اچھا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کے لیے معاون کا کردار ادا کررہا ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا۔ بھارت کی کوشش ہوگی کہ افغانستان میں اس کے عمل کو سبوتاژ کیا جائے اور اگلے الیکشن سے قبل افغانستان میں گڑ بڑ اور انتشار پیدا کیا جائے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں مل کر بھارت کی اس کوشش کو ناکام بنا سکتے ہیں ۔ پاکستان نے صحیح وقت افغانستان میں امن عمل شروع کرنے اور بات چیت کے لیے ایسا مثبت کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کو امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کے مضمرات سے نٹمنے کے لیے تیار رہنا چاہا۔ بھارتی ’’را‘‘ کے تعاون سے بعض افغان عناصر پاکستان کے لیے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں ۔ افغانستان میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے لیے ایران‘ چین اور علاقائی طاقتوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

غلیل سے میزائل تک، فلسطین بدل رہا ہے

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس پچھلے گیارہ دن سے جاری جنگ کے خاتمے کا اعلان کر …