اتوار , 18 اپریل 2021

محمد بن سلمان کی نجات کیلئے نمائشی تبدیلیاں

(تحریر: سید رحیم نعمتی)
سعودی عرب میں حال ہی میں بڑے پیمانے پر حکومتی عہدیداروں کی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں۔ اسی سلسلے میں سابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کو برطرف کر کے ابراہیم العساف کو نیا وزیر خارجہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز سے وزارت خارجہ کا قلمدان لینے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "جمال خاشقجی کے مسئلے نے ہم سب کو غمگین اور محزون کر دیا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر کہوں گا کہ ہم بحران کا شکار نہیں ہیں بلکہ کچھ تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔” تبدیلیوں سے ان کی مراد سعودی کابینہ میں وہ ردوبدل ہے جو جمعرات کے روز سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کے حکم سے انجام پائے۔ اس حکم کے تحت سعودی عرب کے بعض حساس عہدوں پر نئے افراد تعینات کئے گئے۔ اگرچہ نئے سعودی وزیر خارجہ ابراہیم العساف نے خود کو سونپی گئی ذمہ داری کی رو سے ان تبدیلیوں کو معمولی ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان تبدیلیوں کی اصل وجہ معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے ترکی میں سعودی قونصل خانے میں مشکوک قتل سے پیدا ہونے والا سیاسی زلزلہ ہے۔ سعودی کابینہ کی ان تبدیلیوں کا سعودی ولیعہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی سیاسی پوزیشن سے گہرا تعلق ہے۔

بعض ذرائع ابلاغ کی نظر میں سعودی کابینہ میں رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں درحقیقت سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے ولیعہد محمد بن سلمان کی سرگرمیوں کو محدود اور کنٹرول کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ سعودی فرمانروا کی جانب سے ولیعہد کو کنٹرول کرنے کیلئے انجام پانے والا یہ پہلا اقدام نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی وہ ایسے کئی اقدامات انجام دے چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ولیعہد محمد بن سلمان نے سعودی آئل کمپنی "آرامکو” کے 5 فیصد حصص نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں بیچنے کا فیصلہ کر رکھا تھا جن کی قیمت 2 کھرب ڈالر مقرر کی گئی تھی۔ وہ یہ کام "ویژن 2030ء” کے تحت انجام دینا چاہتے تھے اور انہیں توقع تھی کہ اس سے حاصل ہونے والے سود میں سے 100 ارب ڈالر اپنے ترقیاتی پراجیٹس پر خرچ کریں گے۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ ان کا یہ سودا تقریباً طے پا چکا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی انتہائی مشتاقانہ انداز میں اپنے اسٹاک ایکسچینج میں اتنا عظیم سرمایہ آنے کا انتظار کر رہے تھے لیکن اچانک سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے اگست کے مہینے میں اس سودے میں مداخلت کرتے ہوئے اسے روک دیا۔ سعودی فرمانروا کے اس اقدام کی جو بھی وجہ تھی وہ اپنی جگہ لیکن اس نے شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتصادی اہداف پر کاری ضرب لگائی۔

اسی طرح سعودی فرمانروا نے اپنے بھائی احمد بن عبدالعزیز کو وطن واپس آنے کی اجازت دی۔ بعض تجزیہ کار تو اس حد تک آگے چلے گئے کہ احمد بن عبدالعزیز کی وطن واپسی کو سعودی فرمانروا کی جانب سے ولیعہد کی تبدیلی کا مقدمہ قرار دینے لگے۔ سعودی فرمانروا کا ایک اور اقدام ملک کے اٹارنی جنرل سعود بن عبداللہ بن المعجب کو جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیق کا حکم دینا تھا۔ اس تحقیق کے نتیجے میں نہ صرف سعودی عرب نے سرکاری طور پر جمال خاشقجی کا سعودی قونصل خانے میں قتل کا اعتراف کیا بلکہ سعودی عرب سے جمال خاشقجی کے قتل کیلئے ترکی بھیجی جانے والی ٹیم میں شامل افراد بھی گرفتار کر لئے گئے جن میں سے دو افراد ولیعہد محمد بن سلمان کے انتہائی قریبی افراد جانے جاتے تھے۔ ان تمام شواہد کے باوجود یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ سعودی کابینہ میں حالیہ تبدیلیاں ولیعہد محمد بن سلمان کے خلاف اور انہیں کنٹرول کرنے کیلئے انجام پائی ہیں۔ ان اقدامات کو سعودی ولیعہد کی معزولی اور ان کے عہدے سے برطرفی کا مقدمہ قرار دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ شاید سابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کی معزولی اور ان کی جگہ ابراہیم العساف کو اس عہدے پر تعینات کئے جانے سے یہ کسی کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابراہیم العساف کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہیں گذشتہ سال کرپشن کے الزام میں دسیوں دیگر سعودی شہزادوں کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا تھا اور بعد میں بھاری رقوم لے کر آزاد کیا گیا تھا۔

دوسری طرف محمد بن نواف بن عبدالعزیز کو برطانیہ میں سعودی سفیر کے عہدے سے ہٹا کر بادشاہی دربار میں مشیر جیسے نمائشی عہدے پر تقرری محمد بن سلمان کے حق میں تصور کی جا رہی ہے۔ توجہ رہے کہ محمد بن نواف بن عبدالعزیز نے برطانیہ میں سفیر کے طور پر احمد بن عبدالعزیز کی جانب سے لندن میں سعودی فرمانروا اور ولیعہد کے خلاف بیانات اور اظہار خیال کے مقابلے میں کوئی موثر اقدام انجام نہیں دیا تھا۔ دوسری طرف سابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر جمال خاشقجی کے مسئلے میں سعودی ولیعہد کی اندھی تقلید کرنے کے باوجود ولیعہد محمد بن سلمان کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے تھے۔ خاص طور پر امریکہ میں لمبے عرصے تک سفیر رہنے کے باوجود اپنے تجربات کی روشنی میں محمد بن سلمان کے حق میں لابی نہ بنا سکے اور امریکی سینیٹ میں محمد بن سلمان کے خلاف قرارداد منظور ہونے سے نہیں روک سکے۔ اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ محمد بن سلمان کے انتہائی قریبی ساتھی سعود القحطانی اپنے عہدے سے برطرف کئے جانے اور گرفتار ہونے کے باوجود خفیہ طور پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کی معزولی کا حکم صرف کاغذ کی حد تک تھا جبکہ حقیقت میں اب بھی وہ اپنے سابق عہدے پر برقرار ہے۔ لہذا سعودی کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں کا مقصد سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے اختیارات کو محدود کرنا نہیں بلکہ انہیں جمال خاشقجی قتل کیس کے نتیجے میں پیش آنے والے بحران سے نجات دلانا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …