بدھ , 14 اپریل 2021

فلسطینی اتھارٹی قومی ثقافت کی دشمن بن گئی!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں کئی تاریخی اور تہذیب وثقافتی اہمیت کے حامل مکانات اور مقامات موجود ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی قومی تشخص کو بچانے میں پہلے بھی ناکام رہی ہے مگر اب فلسطینی اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت دو اور دو چار کی طرح واضح ہوگئی ہے۔رام اللہ میں حالیہ ایام میں صہیونی حکام کے ساتھ ساتھ فلسطینی بلدیہ کے حکام نے بھی کئی ایسے تاریخی اور ثقافتی مراکز کو مسمار کر کے انہیں ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

یہ سب کچھ فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ اور رام اللہ بلدیہ کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ فلسطین کے ان تاریخی مقامات کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے مگر فلسطینی اتھارٹی اور رام اللہ حکومت ان تاریخی مقامات کے تحفظ کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کا شکار ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر شاہراہ السھل پر ایک تاریخی مرکز کی مسماری کی تصاویر شائع ہوئیں۔ یہ مرکز فلسطینی اتھارٹی کے حکام نے بلڈوزروں کی مدد سے مسمار کر دیا تھا۔فلسطینی سماجی کارکنوں‌ نے "رام اللہ مدینتنا” یعنی رام اللہ ہمارا شہر ہے کے عنوان سے ان تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی ہے۔

فلسطینی تشخص پر حملہ
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شاہراہ السھل کے اطراف میں کئی ایک تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات ہیں۔ ان میں ایک پرانا مکان حرب خاندان کی ملکیت ہے۔ حالیہ ایام میں کئی بار اس مکان کی مسماری کی بھی کوشش کی گئی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی عوامی اور سماجی حلقوں‌نے فلسطینی اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی مقامات کی مسماری فلسطینی قوم کے تہذیبی اور ثقافتی تشخص پر براہ راست حملہ ہے اور فلسطینی اتھارٹی اس جنگ میں‌ مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہے۔

سوشل میڈیا پر شہریوں‌ نے تاریخی مقامات کی مسماری کی تصاویر اور فوٹیجز نشر کی ہیں اور ان جگہوں کی مسماری کی تمام تر ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی پرعاید کی جا رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تاریخی اور پرانے گھروں کی مسماری کے پیچھے فلسطینی اتھارٹی کی ایک طے شدہ پالیسی ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطینی تشخص پر حملہ آور ہے۔

عوامی دبائو
بیت سھل نامی ایک تاریخی گھر کی مسماری کے بعد مقامی صحافیہ شرق السعد نے کہا کہ تاریخی مقامات کی مسماری کے مجرمانہ عمل کے پیچھے فلسطینی اتھارٹی کا ہاتھ کار فرما ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ رام اللہ اور کئی دوسرے علاقوں میں جہاں اسرائیلی فوج فلسطینیوں کی املاک تباہ کررہی ہے وہیں فلسطینی اتھارٹی بھی قومی تشخص کومٹانے کے لیے سرگرم ہے۔انہوں‌ نے کہا کہ تاریخی مقامات کے تحفظ اور اس کی بقاء کے لیے فلسطینی اتھارٹی پرعوامی دبائو ڈالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ رام اللہ کی فلسطینی بلدیہ کو تاریخی مقامات پر نئی عمارتیں تعمیر کرنے کے لیے ٹھیکے جاری کرنے سے باز آنا ہوگا ورنہ رام اللہ میں موجود تمام تاریخی مقامات اپنا وجود کھو دیں گے۔

شروق السعد نے کہا ک پرانے اور تاریخی مقات نہ صرف رام اللہ کی ثقافتی پہچان ہیں بلکہ وہ شہر کا حسن بھی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی کارروائیوں اور برسوں پرانے گھروں کی مسماری پر عوام میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …