بدھ , 21 اپریل 2021

سال 2019ء میں ٹرمپ کو مواخذے کا خطرہ درپیش ہے:عبدالباری عطوان

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب دنیا کے ایک معروف سیاسی تجزیہ کار اورروزنامہ رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی اسٹریٹجک غلطیوں اور ملک کے سیاستدانوں کی طرف سے ان پر ڈالے جانے والے دباؤ کےباعث 2019ء میں انہیں مواخذے کا خطرہ ہے۔

’’عبدالباری اتوان ‘‘نے لکھا کہ ٹرمپ کی اسٹریٹجک غلطیوں اور ملک کے سیاستدانوں کی طرف سے ان پر ڈالے جانے والے دباؤ کےباعث 2019ء میں انہیں مواخذے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ امریکہ کے اکثر ماہرین کا یہ عقیدہ ہے کہ عوام کو گمراہ کرنے کرپشن اور بدعنوانی جیسے مسائل پر ٹرمپ پر اس وقت بہت زیادہ دباؤ ہے اور انہیں صدارتی عہدے سے ہٹانے کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محمد بن سلمان کی حمایت جاری رکھنے اورمشرق وسطیٰ علاقے کے تئیں ٹرمپ کی ناکام پالیسیوں پر بھی امریکی صدر کو ہرطرف سے دباؤ کا سامنا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ شام سے امریکی فوجیں واپس بلانے اورافغانستان سے امریکی افواج کی تعداد میں کمی کے فیصلے سے ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ وزیر خارجہ اوروزیر دفاع کےمستعفی ہونے کے بعد ٹرمپ کو بھی اپنے عہدےسے مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑےگا۔

اسے قبل عبدالباری اتوان نے اپنے ایک مختصر مضمون میں شام سے امریکی افواج کے انخلاء اور عرب ریاستوں کے دمشق میں سفارت خانے کے کھولنے کے فیصلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ سال 2019ء امریکہ کیلئے مزید ذلت آمیز شکستوں جبکہ مقاومتی محاذ کی فتوحات کا سال ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ 2019ء مقاومتی محاذ کی کامیابیاں علاقائی ریاستوں کے وقار کی بحالی اور علاقے کے خلاف امریکی منصوبوں کی ناکامیوں کا سال ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ شام کی سات سالہ جنگ میں شام فتح یاب ہوکر اُبھرا ہےا ورعرب ممالک پوری مسرت کےساتھ دمشق میں اپنے سفارتخانے کھول رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مقاومتی محور کو گذشتہ سال دشمنوں پر اہم اور اسٹریٹجک فتوحات حاصل ہوئی جبکہ اسرائیل اور امریکہ ہر محاذ پر شکست سے دوچار ہے۔انہوں نے کہاکہ علاقے میں حزب اللہ کی طاقت میں ذبردست اضافہ ہورہا ہے اوراس کے پاس کم ازکم ڈیڑ لاکھ جدید ہائی پرسیجن میزائیل موجود ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ واشنگٹن نے دہائیوں سے مشرق وسطیٰ علاقے کی جنگوں پر سات ٹریلین ڈالر ضائع کئے ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …