بدھ , 21 اپریل 2021

عصر حاضر میں تعلیم کی عظمت

(تحریر: عظمت علی)

رواں دور کو تعلیمی دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جہاں ہر شخص حصول علم کی تگ و دو میں کوشاں ہے۔ اب تو پیدل اسکول جانے کا زمانہ اتنا نہ رہا، ورنہ اس وقت اسکول کو جانے والی ساری شاہراہوں پر طالب علموں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ سہانی صبح کو اسکول جانے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا تھا۔ اب حالات نے یوں کروٹیں لیں کہ جسمانی ورزش کا نظام ہی درہم برہم ہو چلا ہے اور اب تو بس حمل و نقل کی جدید مشینری سے ہی استفادہ کیا جاتا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہر ماں باپ کی یہی تمنا ہوتی ہے کہ اپنے گود کے پالوں کو ہر قسم کی تعلیمی آسائش سے بہرہ مند رکھے۔ مگر زیادہ کامیاب وہی لوگ ہیں جن کی اقتصادیات مضبوط ہوں۔ چونکہ مہنگائی نے اس قدر سر اٹھا لیا ہے کہ غریب طبقہ اپنی عزیز اولاد کو بھی اعلیٰ تعلیمی آسودگی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ اہل علم دن بدن تعلیمی بالیدگی کو سر کئے جا رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ لوگ بھی تعلیم یافتہ بن جائیں اور جہالت کی تاریک راہوں پر علم کی روشنی بکھیر دی جائے۔ اسی مقصد کے تحت شہر سے دور دیہی علاقوں میں جگہ جگہ علمی مراکز قائم کئے جا رہے ہیں، تاکہ ہر کوئی دولت علم سے فیضیاب ہوسکے۔ ہر علم پسند کی یہی دلی تمنا ہے کہ ہر سو علم کا بول بالا ہو جائے اور چار سو سے جہالت کا خاتمہ ہو جائے۔

ہر مکتب فکر کی یہی انتھک کوشش رہی ہے کہ قوم کا ہر فرد زیور تعلیم سے آراستہ رہے اور خود کو آدمیت کے خول سے نکال کر انسانیت کے دائرہ میں آجائے۔ جوں جوں تعلیمی وسائل بڑھ رہے ہیں، انسان کو اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے اندر بے شمار قیمتی جوہر نہاں کر رکھے ہیں۔ بس ہمیں انہیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور آج ہر انسان اسی قابل قدر جوہر کی جستجو میں سرگرم ہے۔ لوگ اس نکتہ کو بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ جہالت ایک بدترین سماجی ناسور ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ہماری آئندہ نسل کو پستی کی طرف ڈھکیل دے گا۔ لہذا ہر صاحب علم معاشرہ میں بہبود لانے میں آٹھوں پہر کدو کاوش کر رہا ہے۔ تعلیمی ترقی سے بہت سے اسرار کائنات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ پچھلے زمانوں میں کون تصور کرسکتا تھا کہ زمین پر بیٹھ کر آسمان کا سفر کیا جاسکے گا اور گھر بیٹھے دنیا کا نظارہ کیا جاسکے گا۔ لیکن آج یہ باتیں سبھی کے علم میں ہیں، یہ صرف علم کی بدولت میسر ہے۔

حالیہ ترقی پر ہر فرد بشر کا دل دل خوشی سے باغ باغ ہوا جاتا ہے اور بڑے ہی فخر و مباہات سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ابھی تو تاروں پہ کمنڈے ڈالنا باقی ہے۔ عصر حاضر کا انسان ایسے خواب کی تلاش میں ہے جسے اس کے بزرگوں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ کبھی مردوں کے زندہ کرنے پر تجربہ کیا جاتا ہے مگر ناکام ہو جاتا ہے اور قیامت کی پیشن گوئی کی جاتی ہے اور نظریات دم توڑ جاتے ہیں۔ یہ ہوا اس لئے کہ علم ہے لیکن معرفت سے بے بہرہ ہے۔ جس کے سبب وہ فطرت کے مسلم اصولوں کو چیلنچ کرتا ہے مگر نتیجہ میں شرمندگی ہی ہاتھ آتی ہے۔ درحقیقت! علم وہی ہے جو معرفت خالق کے حصول کا سبب بنے اور جو علم الوہیت سے دور کرے وہ محض گمراہی ہے۔ خالق دو جہان نے زمین و آسمان میں جو نشانیاں پیدا کی ہیں۔ دشت و صحرا، آفاق و سمندروں میں جو عجائبات پنہاں کئے ہیں، ان کے انکشاف و دریافت سے مالک و خالق حقیقی کا پتہ چلتا ہے۔

اگتا سورج ہو یا نکتا چاند، یہ سب خالق کی راہ معرفت کے چراغ ہیں اور معرفت، علم کے بغیر ناممکن ہے۔ اگر کسی محقق نے زمین کی کشش کو کشف کیا تو اس کو خالق زمین کا اعتراف کرنا چاہیئے۔ اگر کسی نے پانی سے روشنی کے وجود کو حاصل کیا تو اسے نور محض خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہیئے۔ اگر کسی نے دھرتی سے آکاش میں لوہے اڑانے کا ہنر حاصل کیا تو اس کو ہوا و فضا کے خالق کا کلمہ پڑھنا چاہیئے۔ یہ کائنات راز سر بستہ ہے مالک حقیقی کا اور اس کا حصول علم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ علم کی معراج یہ ہے کہ مالک کائنات کی معرفت حاصل ہو جائے۔۔۔! ہاں۔۔۔! بہت سارے ایسے منصف مزاج محقق گزرے ہیں جنہوں نے وجود خدا اور وحدانیت الہیٰ کا اعتراف کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …