جمعرات , 22 اپریل 2021

شکنجہ ٔیہود

(ایوب بیگ مرزا)
جدید دور میں1897ء میں تھیوڈر ہرزل (Theodor Herzl) کی زیرسربراہی Baselمیں عالمی زائنسٹ کانگریس کے پہلے اجلاس میں عالمی صہیونی تنظیم World Zionist Organization کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد اپنے آبائی وطن فلسطین کو پھر سے اپنا ملک بنانے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس کیلئے اولاً تو سلطنتِ عثمانیہ سے معاہدات کی ناکام کوشش کی گئی مگرجنگِ عظیمِ اوّل کے نتیجے میں اسکے ٹوٹ جانے یا تُڑوا دیے جانے کے بعد برطانیہ بہادر (جو کہ فلسطین کا نگہبان بنا دیا گیا تھا) سے 1917ء میں اعلان بالفور حاصل کیا گیا اور اس طرح فلسطین میں یہودیوں کو قیام کی اجازت مل گئی مگر غیر یہودی شہریوں کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ۔ 1922ء میں League of Nations نے بھی مذہب اور نسل سے بالا تر ہو کر ہر فلسطینی کی فلاح و بہبود کیلئے اس کو منظور کر لیا۔ دوسری جنگِ عظیم میں Holocaust کے واقعہ نے یہودیوں کو مظلوم قرار دے کر ایک طرف تو فلسطین کی طرف یہودیوں کی ہجرت اور آبادکاری کو تیز تر کر دیا اور دوسری طرف صہیونی تنظیم کے تحت قائم کردہ فنڈ کے ذریعے فلسطین میں بڑے پیمانے پر زمین کے حصول کو یقینی بنایا۔ 1922ء سے 1945ء تک فلسطینی عربوں اور شر پسند یہودیوں کے درمیان کئی جھڑپیں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ 1945ء میں امریکی صدرFranklin Roosevelt کے مفاہمتی دورہ سعودی عرب کے دوران جب ابنِ سعود نے یہ بیان دیا کہ یہودیوں پر ظلم کرنے والا تو جرمنی تھا عرب نہیں لہٰذا جرمنی کو سزا دو اور اسکے کسی بھی حصے کو یہودیوں کا ملک بنا دو تو Franklin Rooseveltنے واپس جا کر طاقت کے استعمال کا اعلان کر دیا۔ اور بالآخر 14 مئی 1948ء کو (پورے نو ماہ پہلے 14 اگست 1947ء کو بننے والے پاکستان کے بانی کے بقول) مغرب کے ناجائز بچے (اسرائیل) نے جنم لیا۔ اور اسی دن سات عرب ممالک سے اس کی جنگ چھڑ گئی اور نتیجتاً 7,11,000 فلسطینی عرب بے وطنی پر مجبور ہوگئے۔ اور یوں اس المناک داستان کا آغاز ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔

1948ء سے لے کر آج تک سودی معاشی استعمار کے ذریعے انسانیت کا استحصال اپنی جگہ اور فلسطین پر بتدریج ناجائز قبضہ اپنی جگہ مگر انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار رائے کے سب سے بڑے علمبرداروں کے بلندوبانگ نعروں کے باوجود Holocaustاور اسرائیل کی حقیقت پر بات تک کرنا بھی Anti-Semitism کہہ کر ممنوع قرار دے دینا ان کی انسان دوستی کی اصل حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے ۔ چونکہ یہ سب محض اسلام دشمنی ہی نہیں بلکہ انسان دشمنی بھی ہے لہٰذا صرف مسلمان نہیں بلکہ تمام انسانیت کے ہر طبقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والے باضمیر لوگ اسرائیل کی حرکتوں کیخلاف کسی نہ کسی سطح پر آواز بلند کرتے رہے۔ اور استحصالی معاشی نظام کے خلاف احتجاج اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم کیخلاف (Boycott Divestment and Sanction)BDS تحریک مغرب میں کہیں زیادہ سرگرم ہے۔ پھراگلے مرحلے کے طور پر Canary Mission Website کے ذریعے BDS کو Support کرنے اور اسرائیل کیخلاف جذبات رکھنے والوں کی لسٹ شائع کر کے طالب علموں اور استادوں کا کیرئیر تباہ کرنا، میڈیا پر بین کروانا، سیاسی طور پر تنہا کرنا اور عربوں کو اسرائیل میں Family سے ملنے حتیٰ کہ مذہبی رسوم ادا کرنے کیلئے بھی داخلے پر پابندی عائد کرنا بھی ایک عرصے سے جاری ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اسرائیل کی مخالفت تو درکنار صرف فلسطینی مظلوموں کی حمایت بھی قابلِ سزا جرم قرار دی جا رہی ہے۔ مثلاً 2018ء میں نوبل انعام یافتہ کیمسٹ Dr.Smith کو بھی صرف اس بات پر متنازع بنا دیا گیا کہ اس نے فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی مظالم کی مخالفت کا جرم کیا۔ جب کہ یاد رہے کہ وہ فلسطین سے یہودیوں کے انخلاء کا نہیں بلکہ محض تمام فلسطینی عوام کے برابر کے حقوق کا پرچارک ہے۔ اور اب اگلے قدم کے طور پر BDS کی حمایت اور اسرائیل کیخلاف توہین آمیز جذبات رکھنا بھی قابلِ سزا جرم قرار دینے کیلئے دنیا کی 25 مہذب مغربی فلاحی ریاستیں (Western Welfare States) باقاعدہ قانون سازی کر چکی ہیں اور امریکہ بہادر بھی اسکی تیاری میں ہے۔ یعنی صرف یہودیوں کیخلاف امتیازی رویّہ کو Anti-Semitism قرار دینے سے بڑھ کر اب اسرائیل کے دوسرے انسانوں سے امتیازی رویّے کیخلاف تنقید (جو کہ دراصل Anti-Zionism ہے)کو بھی New Anti-Semitism کہہ کر قابلِ سزا جرم قرار دیا جا رہا ہے۔عرب کا حال یہ ہے کہ ایک آدھ ملک کو چھوڑ کر باقی سب اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں، وہ ایک دوسرے کو دھکا دے کر نیتن یاہو سے بغل گیر ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان حالات میں جب بعض نام نہاددانشوروں کی طرف سے یہ کلمات سننے کو ملتے ہیں کہ ہماری اسرائیل سے آخر کیا دشمنی ہے؟ ،ہم فلسطینیوں سے بڑھ کر فلسطینی کیوں بنتے ہیں؟ جب اکثر عرب ممالک اسرائیل کو قبول کر چکے ہیں تو ہمارے اسے قبول کرنے میں آخر حرج کیا ہے؟ تو ہم ان سے کہے دیتے ہیں کہ ہماری اسرائیل سے مخالفت صرف اور صرف فلسطینیوں پر مظالم کی وجہ سے نہیں(اگرچہ یہ بڑی اہم وجہ ہے )بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے مطالعہ سے جب یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ یقینا یہ کبھی اللہ کی پسندیدہ قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جو نوازشات ان پر کیں اور جس طرح اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش اِن پر برسائی تاریخ میں کسی انسانی اجتماعیت کو یہ اعزاز حاصل نہ ہوا، لیکن انہوں نے سرکشی، نافرمانی، بدعہدی اور اپنی باغیانہ سرگرمیوں سے ہمیشہ کفرانِ نعمت کیا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انہیں مغضوب علیہ قرار دیا اور بطور امت ِ مسلمہ رد کر دیا۔اپنی طرف بھیجے گئے انبیاء کے قتل اور حضرت عیسیٰ کے قتل کی ناپاک مگر ناکام سازش کے بعدبھی خاتم النبیینﷺ کے ساتھ اپنی بدعہدی کی بھی پاداش میں شہر بدر کیے گئے۔ یوں یہودی ذلیل و خوار ہوئے۔ لیکن اُنہوں نے نہ سازشی کردار کو بدلا اور نہ انسانیت کے خلاف شیطانی حربے استعمال کرنے ترک کیے۔ صلیبی جنگیں ہوں یا گزشتہ صدی کی عالمی جنگیں انسانوں کے باہمی قتل و غارت اور خونریزی کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ صاف نظر آتا ہے۔ آج بھی جب وہ اپنے گریٹر اسرائیل کے نقشہ میں مسلمان کی آن، شان اور جان مدینہ منورہ کو شامل کرتے ہیں تو ہم کیوں نہ اسلام اور انسانیت کے ان دشمنوں کیخلاف کھڑے ہوں۔ اُصولی طور پر آسمانی ہدایت کے آخری امین کے طور پر پوری امت مسلمہ اور بالخصوص واحد ایٹمی اسلامی ملک پاکستان کو اس شیطانی ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بننا چاہیے اور ہمیں لیاقت علی خان مرحوم کا اپنے پہلے امریکی دورہ پر اسرائیلی بینکرز اور سرمایہ کاروں کی طرف سے اس پیشکش کہ اسرائیل کو تسلیم کر لو، ہم اپنے خزانوں کے منہ کھول دینگے کے جواب میں کہا گیا وہ تاریخی جملہ یاد رکھنا چاہیے "Gentlemen! Our Souls are not” for Sale.لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی اس دجالی طاقت کے سامنے آج ساری دنیا جھکتی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں ہونیوالے G-20کے اجلاس کو جس طرح اسرائیل نے ہائی جیک کر کے Anti-semitismکودنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کرپیش کیا ہے اور مشرق و مغرب میں جس طرح اس کو تسلیم کیا گیا ہے، وہ انتہائی حیران کن بھی ہے اور دنیا کے امن کیلئے انتہائی خطرناک بھی ہے۔ وہ دنیا سے منوانا چاہتے ہیں کہ یہودی ظالم نہیں مظلوم ہیں، وہ جابر نہیں مجبور ہیں۔ کوئی اُنکے ظلم کیخلاف زبان نہ کھولے دنیا سیاہ کو سفید تسلیم کرے۔ تکلیف دہ اورپریشان کن بات یہ ہے کہ امت ِ مسلمہ خصوصاً حکمران انکے عزائم کا نوٹس لینے اور اِس کا تدارک کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر غافل نظر آ رہے ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے حکمران عالمی قوتوں کی ڈکٹیشن قبول کرتے ہوئے مسلمانوں میں انتہا پسندی بڑھنے کا ہر وقت ذکر کرتے رہتے ہیں جبکہ اصل صورتِحال یہ ہے کہ اسرائیل کے مذہبی حلقوں میں اِس وقت بہت جذباتیت پائی جاتی ہے۔ اِسکی وجہ یہ ہے کہ ان کو گریٹر اسرائیل کا خواب بہت جلد پورا ہوتا ہوا دکھائی دے رہاہے۔ اِسکی حالیہ مثال Rabbis 26 پر مشتمل کونسل جسے Sanhedrin کہا جاتا ہے اُس کا دو ہزار سال بعد دوبارہ قیام اور دنیا کے 70 ممالک کو اُسکی دعائیہ تقریب میں دعوت دینا ہے اِس تقریب میں وہ قربان گاہ جیسے Third Templeمیں نصب کیا جانا ہے اس کی تقریب رونمائی ہوگی۔

قصہ مختصر علامہ اقبال نے ایک صدی پہلے جو کہا تھا کہ فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے وہ پنجہ اب شکنجہ بن کر تمام دنیا خصوصاً عالم اسلام کی گردن میں کسا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان اِس کا صحیح ادراک نہیں کر رہا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ اہل پاکستان بانی پاکستان کے اس اعلان کے باوجود کہ قرآن پاکستان کا آئین ہو گا، ایسا نہ کر سکے۔ لیکن اسرائیل تو رات کو اپنا آئین قرار دے چکا ہے۔ ہم اسلام کے نام پر ملک حاصل کر کے اسلامی فلاحی ریاست نہ بنا سکے جبکہ یہودی علی الاعلان کہہ رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ اسرائیل ایک یہودی ریاست بن چکی ہے۔ اے مسلمانانِ پاکستان اللہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کرو، پاکستان کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرو۔ وگرنہ تمہاری بربادی کے مشورے آسمانوں میںہیں۔ اللہ ہمیں دین سے وفاداری کا عملی ثبوت فراہم کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین یا رب العالمین!

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …