منگل , 13 اپریل 2021

فرشتہ مہربانی کی شہادت پر نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ

(ترجمہ: سید نجیب الحسن زیدی)
7 مئی کو اس نے نیویارک ٹائمز سے کہا، "میں یہ پیغام دنیا والوں تک پہنچانا چاہتی ہوں، میں خود اپنے آپ میں ایک لشکر ہوں، اور اپنے لشکر کے لئے ایک شمشیر ہوں، ہم سب کا ایک مقصد ہے، کہ لوگوں کو نجات دیں، انہیں ہاسپٹل پہنچائیں اور دنیا تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ہم بغیر اسلحے کے بھی سب کچھ کر سکتے ہیں”۔ اسکا فیس بک کا صفحہ بھی اسکے خوبصورت جملوں سے بھرا ہوا تھا ، ایک بار اس نے لکھا تھا ، اس کی خون آلود یونیفارم، دنیا کی سب سے اچھی اور میٹھی خوشبو کی حامل ہے۔ بڑی بےباکی سے وہ یہ کہتے ہوئے آج بھی سربلند ہے”۔ مجھ سے کہتے ہیں جب تمہارے سمت کوئی گولی آ رہی ہو تو سر کو جھکا لو "۔ میں نے انہیں جواب دیا گولی نے میرا انتخاب کر لیا ہے، چونکہ مجھے پتہ نہیں سر کیسے خم کیا جاتا ہے، پھر میں کیوں اپنی راہ کو تبدیل کروں کیوں اپنی ڈگر کو بدلوں۔” ماہ مبارک رمضان میں اسکی زندگی کا آخری دن طلوع آفتاب سے بہت پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے، "نجار” اپنے اور اپنے والد کی سحری کے لئے سموسہ بناتی ہے اور ایک گوشت کے ٹکڑے کو بھونتی ہے، وہ نیا لباس جو اس نے اپنے 5 سالہ بھائی کے لئے خریدا ہے، خوشی سے اپنے باپ کو دکھاتی ہے، سحری کی بعد سونے سے قبل دونوں ساتھ میں نماز پڑھتے ہیں، باپ جب سو کر اٹھتا ہے تو دیکھتا ہے اسکی بیٹی جا چکی ہے۔ ”

نیویارک ٹائمز کی تفصیلی رپورٹ کا یہ ایک حصہ ہے، وہ رپورٹ جسے نیویارک ٹائمز نے "رزان نجار” کی زندگی اور شہادت کو موضوع قرار دیتے ہوئے پیش کیا ہے، غزہ میں رہنے والی ایک ایسی فلسطینی لڑکی اور نرس جو رضاکارانہ طور پر اپنا کام انجام دے رہی تھی، اس رپورٹ میں ایک ایسی لڑکی کی تصویر کو ترسیم کیا گیا ہے جو چہکتی، چہچہاتی، زندگی سے عشق کرنے والی ڈٹ کر مشکلات کا مقابلہ کرنے والی بلند اہداف کی حامل ہے، ایسی لڑکی جو اپنے بلند اہداف کے ساتھ جی رہی تھی لیکن فلسطینی زخمیوں کے اعتراض آمیز مظاہرے کے دوران زخمیوں کا مداوا کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے فوجی شوٹر کی گولی کا نشانہ بن گئی اور شہید ہو گئی۔ نیویارک ٹائمز کے تحقیقی شعبہ سے متعلق نامہ نگاروں نے اس رپورٹ میں رزان کی زندگی کی تفصیل پیش کرتے ہوئے اس فلسطینی لڑکی کی شہادت کے وقت کی ویڈیو اور ہزار سے زیادہ لی گئیں تصاویر کی چھان پھٹک کی، گولی چلنے کے وقت معترض مظاہرین اور صہیونی فوجیوں کے کھڑے ہونے کی خاکہ نگاری کرتے ہوئے حادثے کے وقت کو دہراتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے، صہیونی حکومت کے دعووں کے برخلاف،”نجار رزان” یا دیگر مظاہرین کی جانب سے صہیونی فوجیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

30 مارچ مظاہروں کا پہلا دن، زخمیوں کو امداد پہنچانے والے تین رضاکاروں کے درمیان "نجار” سب سے کم عمر اور واحد ایسی نوجوان لڑکی تھی، جو زخمی ہونے والے افراد کی دیکھ بھال کر رہی تھی، جینز اور ٹی شرٹ پہنے، فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کر رہے تھے اور جتنی تیزی کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے نشانہ بنتے ہوئے وہ زمین پر گر رہے تھے، اتنی ہی تیزی کے ساتھ وہ انکے سرہانے پہنچ رہی تھی، ان کے زخموں پر پٹی باندھ رہی تھی، جلنے والی جگہوں پر مرہم، تو ٹوٹ جانے والی جگہوں کو باندھ رہی تھی، گولی لگنے کی بنیاد پر جاری ہونے والے خون کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی، انہیں ڈھارس دلارہی تھی حتٰی انکے آخری جملوں کو سن رہی تھی۔ اس دن ۹ ہفتوں کے بعد اسکے پیروں میں بال آ گیا اور ایک جلتے ہوئے ٹائر سے ٹکڑا جانے کی بنا پر جل گیا، آنسو گیس کے گولے اس کے بازو میں لگے اور اسکا بازو ٹوٹ گیا، لیکن اس نے اسی دن اپنے ہاتھ کے پلاسٹر کو کھول دیا اور مظاہرین کی طرف پلٹ آئی۔ جب بھی اسرائیلی فوجی مظاہرین کی طرف نشانہ باندھتے، سب اپنا سر چھپا لیتے سوائے نجار کے وہ کہتی "یہ گولیاں جنکی آوازوں کو ہم سن رہے ہیں یہ ہمیں نقصان نہیں پہنچائیں گی، اسکا مطلب یہ تھا جو تمہیں مار رہا ہے تم اسکی آواز نہیں سنو گے”۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق رزان اور اسکا خانوادہ سالہا سال سے غزہ پٹی میں صہیونیوں کے قبضے سے متاثر ہو کر جی رہے تھے، صہیونیوں کے غزہ پٹی پر قبضے نے انکی زندگی کی ڈگر کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ نجار رزان گرچہ ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھ رہی تھی لیکن اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑنے پر مجبور تھی، اور مظاہرین کے درمیان بھی ایک رضا کار نرس کی حیثیت سے پہنچ کر زخمیوں کی مدد کر رہی تھی۔

1997ء کے علاوہ جب وہ محض چند دن کی تھی مصر گئی، اس نے اپنی پوری زندگی غزہ پٹی اور غالبا خزاعہ کے چھوٹے سے دیہات میں گزاری تھی، اس بارڈر سے متصل دیہات کے رہائشی زیادہ تر نجار ہی کے خاندان سے متعلق تھے، 1998ء میں یافا کے نزدیک "سلامہ” نامی علاقے سے فرار کرنے والے رفیوجی اور پناہ گزیں "نجار رزان” ذہین تھی، اور دو سال کے سن سے پلے گروپ جاتی تھی، وہاں پہنچ کر انگریزی کے جملوں کی تکرار کرتی اور اشعار پڑھتی، اسکی ماں اپنی ہنسنے کھیلنے والی بچی کی مسکراہٹ کو اب بھی یاد کرتی ہے وہ کہتی ہے، "جب میری بچی دیکھتی کہ میں غمگیین ہوں تو وہ دنیا کو ادھر سے اُدھر کر دیتی تھی، لیکن "نجار رزان” اپنے باپ کی زیادہ لاڈلی تھی، نجار کے باپ اشرف النجار تھے اور جتنا ان سے ہو سکتا اسکی ناز برداری کرتے تھے۔ وہ ایک مہم جو کاروباری (Entrepreneu) آدمی تھے اور مہارت کے ساتھ مختلف انداز سے نہ صرف اپنا کام کرتے، بلکہ مختلف نوعیت کے کاموں کو بھی ڈھونڈ نکالتے۔ انہیں پتہ تھا کونسا کام کب چلے گا اور انہیں اسے کیسے نبھانا ہے۔ انہوں نے مہینوں اسرائیل میں کام کیا تھا اور جو کچھ وہ اسرائیل سے خریدتے جو بھی مال یا فرنیچر ہوتا سب کا سب غزہ میں کئی گنا قیمت پر بک جاتا، اتنا پیسہ ہاتھ آ جاتا کہ رات کو گوشت کھایا جاسکے۔

اسکے والد کہتے ہیں،”سچ تو یہ ہے کہ میرا دل ان دِنوں کو یاد کر کے بےچین ہے”۔ انہی دنوں میں”نجار رزان” میڈیکل کے کھلونوں اور آلات کے پیچھے رہتی اور اسکے والد یہ چاہتے تھے کہ ایک دن اسے میڈیکل کی اعلٰی تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجیں، لیکن اسکے بعد راکٹس، محاصرہ اور جنگ یہ سب شروع ہو گیا۔ اب نجار کے باپ کے لئے اسرائیل میں کام کرنا ناممکن ہو گیا۔ انہوں نے موٹر سائیکل کی تعمیر کی ایک دوکان کھولی، یہ دوکان بھی 2014ء میں اسرائیلی فوج کے حملے کی وجہ سے زمین بوس ہو گئی۔ "نجار” کے والد کا دیوالیہ ہو گیا اس کے بعد سے اب وہ اپنی بہنوں اور بھائیوں کے خرچ پر آگئے ان سے پیسے لینے شروع کر دیئے۔ "نجار رزان” نے بھی اسکول جانا چھوڑ دیا کہ اخراجات کچھ کم ہو جائیں۔ وہ لوگ "خزاعہ” جنگ میں تقریبا نابود ہو گئے، "نجار رزان” کے دو سب سے بہترین دوست مارے گئے، جن میں سے ایک اپنے 20 سے زیادہ گھر والوں کے ساتھ جاں بحق ہوا۔ "نجار رزان” نے اپنے ایک چچا زاد بھائی کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے دیکھا۔ نجار کے گھر کو بھی نقصان پہنچا، اس کے گھر کے کاغذات گم ہو گئے۔ جب "نجار "کے گھر والے اپنی پناہگاہ سے پلٹے تو دیکھا کہ سڑکیں جنازوں سے بھری پڑی ہیں، زخمی لوگ مر رہے ہیں، یہی وہ جگہ تھی یہاں "نجار رزان” نے کہا کہ مجھے سیکھنا ہے کہ زخمیوں کی کیسے مدد کی جاتی ہے، انہیں کیونکر بچایا جاتا ہے۔

دنیا کا سب سے بہترین عطر:
غزہ پٹی پر ہونے والے مظاہروں کے دوران، "نجار رزان” ہر پل ہر گھڑی زخمیوں کے ساتھ کھڑی رہی، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے "تھکن کا احساس کئے بغیر نجار تمام اجتماعات میں شریک ہوتی اور جنہیں گولی لگ جاتی ان کی مدد کو دوڑتی۔ "نجار” کے والد کہتے ہیں انہوں نے اس سے کہا تھا کہ کم از کم ایک دن تو آرام کر لے لیکن اسکا جواب تھا۔ "نہیں بابا، وہاں ایسے لوگ ہیں جنہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔” اس کی ماں مظاہروں کو دیکھنے کے لئے نکلی، لیکن کہتی ہے اسکی اپنی بیٹی سے ہونے والی بات بیچ میں ہی ادھوری رہ گئی۔ "اچانک کوئی زخمی ہو گیا اور اس نے اپنی باتوں کا سلسلہ منقطع کر دیا اور کہا "مجھے جانا ہوگا، کوئی ہے جسے مجھے نجات دینا ہے”۔ "نجار رزان” خود کو انہی مظاہرین کے برابر سمجھتی تھی، جو ٹائر جلاتے یا باڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتے، اسی بناء پر وہ فلسطینیوں کے درمیان خود کے لئے ایک کردار کی ادائیگی کی قائل تھی، وہ ایک ترجمان کی صورت میں ڈھل گئی تھی، ایسی ترجمان و اسپیکر جو کسی بھی انٹرویو کی دعوت کو نہ ٹھکرائے جواب دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہے۔ 7 مئی کو اس نے نیویارک ٹائمز سے کہا: "میں یہ پیغام دنیا والوں تک پہنچانا چاہتی ہوں ، میں خود اپنے آپ میں ایک لشکر ہوں ، اور اپنے لشکر کے لئے ایک شمشیر ہوں، ہم سب کا ایک مقصد ہے کہ لوگوں کو نجات دیں، انہیں ہاسپٹل پہنچائیں اور دنیا تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ہم بغیر اسلحے کے بھی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ "اسکا فیس بک کا صفحہ بھی اسکے خوبصورت جملوں سے بھرا ہوا تھا، ایک بار اس نے لکھا تھا، "اس کی خون آلود یونیفارم ، دنیا کی سب سے اچھی اور دلآویز خوشبو کی حامل ہے”۔

گولیوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے:
غزہ پٹی میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اسکی تحریروں میں شہادت کی بو کو محسوس کیا جا سکتا تھا، جس کے لئے وہ تیار تھی اور اس نے اپنے دوستوں اور چاہنے والوں سے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ شہادت کے بعد اسے اچھائیوں کے ساتھ یاد کیا جائے۔ اس نے پانچ مئی کو اپنی فیس بک پر لکھا: "جب میری زندگی کا اختتام ہو جائے تو مجھے ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں، ایک حسین و شیریں خواب میں بدل دیا جائے۔” "نجار” نے ذرا آگے لکھا، "مجھ سے کہتے ہیں جب تمہاری سمت کوئی گولی آ رہی ہو تو سر کو جھکا لو”۔ میں نے انہیں جواب دیا گولی نے میرا انتخاب کر لیا ہے، چونکہ مجھے پتہ نہیں سر کیسے خم کیا جاتا ہے، پھر میں کیوں اپنی راہ کو تبدیل کروں کیوں اپنی ڈگر کو بدلوں۔” ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں یعنی یکم جون کو نجار رزان اپنے معمول کے مطابق زخمیوں کو امداد پہنچانے میں مشغول تھی کہ فائر ہوتا ہے، گولی چلتی ہے اور دو نرسیں زخمی ہو جاتی ہیں، پھر انہی کے پیچھے نجار رزان بھی زمین پر گر جاتی ہے اور اپنے آپ میں بل کھانے لگتی ہے۔ (زوجہ ِابو مصطفٰی) نجار رزان کی سہیلی (کی پھٹی ہوئی آنکھوں کے سامنے، وہ مظاہرین جنکا ابھی تک وہ مداوا کر رہی تھی، اسے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیتے ہیں اور اسے جائے حادثہ سے دور لے جاتے ہیں اور ایسی حالت میں اسے میدان تصادم سے باہر لیکر جاتے ہیں کہ اسکے سینہ سے خون ابل رہا تھا۔

رزان کو حادثہ کی جائے وقوع سے کھینچ کر باہر نکالنے کے بعد عارضی طور پر بنے صحرائی ہاسپٹل میں منتقل کیا جاتا ہے۔ وہ ہاسپٹل جہاں وہ ہمیشہ مجروحین کو بچانے کے لئے جی توڑ کوشش کرتی رہتی تھی۔ اب ڈاکٹروں کی ٹیم اسکے اردگرد حلقہ بنا لیتی ہے اور دیوانہ وار سب کے سب اسکی زندگی کو باقی رکھنے کے لئے جوجھنے لگتے ہیں، وہ ڈاکٹر جو اسکی سانسوں کے تسلسل کو بحال رکھنے کی کوشش میں جٹ جاتا ہے، وہی ڈاکٹر ہے جس نے کچھ دن پہلے وزارت صحت Ministry of Health کی جانب سے ایک ٹیسٹ منعقد کیا تھا۔ وہی ٹیسٹ جس میں نجار رزان نے بہترین نمبر حاصل کر کے ممتاز درجہ حاصل کیا تھا، وہ لوگوں کے درمیان اس قدر محبوب تھی کہ تین لوگ ان تمام مناظر کو اپنے موبائل کے کیمرے سے محفوظ کر رہے تھے۔ نجار رزان اس سے قبل کہ اصلی ہاسپٹل کی طرف منتقل ہو، آخری سانس لیتی ہے اور 7-10 منٹ بعد بوقت عصر اسکے اس دنیا سے کوچ کر جانے کی خبر کا اعلان ہو جاتا ہے۔

صہیونیوں کی طرف سے دلخراش ظلم کا انکار:
نجار، رزان کی شہادت کی خبر کے عام ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ردعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا، یہاں تک کے انہوں نے ایسی ویڈیو بھی منظر عام پر پیش کیں جن میں ایڈیٹنگ کر کے اس فلسطینی نرس کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو کہ سرحدی خاردار باڑ سے نزدیک ہو رہی تھی اور اسرائیلی فوجیوں کے لئے خطرہ تھی۔
غاصب صہیونی حکام نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ وہ ان کے فوجی اسی وقت جنگی گولیوں کا استعمال کرتے ہیں، جب انکے پاس کوئی راستہ نہ بچا ہو اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے دیگر طریقوں کو استعمال کیا جا چکا ہو، جیسے آنسو گیس کے گولوں کا داغا جانا، وارننگ کے طور پر کارتوس کا داغا جانا یا لفظی طور پر انتباہ کا دیا جانا جب یہ تمام راہیں مسدود ہوں، تو ہی جنگی گولیوں کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔

صہیونی حکومت کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ تمام تر فائر اس وقت کھولے جاتے ہیں جب کمانڈر کی اجازت مل جاتی ہے، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا جو کہ اب ڈیلیٹ کر دی گئی ہے۔ "ہمیں دقیق طور پر پتہ ہوتا ہے کہ ہماری گولی کا نشانہ کون ہے، یاوہ کہاں اترے گی۔” یہ سب کچھ اس حال میں ہے کہ محض ان مظاہرین کے پہلے ہی دن 20 فلسطینی شہید ہو گئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے، اس وقت سے لیکر اب تک صرف ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا ہے اور اس کے مقابل فلسطینی شہداء کی تعداد 185 افراد تک پہنچ گئی ہے، ان شہید ہونے والوں میں 32 بچے اور دو عورتیں ہیں، ان میں ایک وہ فلسطینی جو پہلے ہی پیروں سے معذور تھا اور وہیل چئیر پر بیٹھتا تھا، اسی کے ساتھ وہ جوان بھی شامل ہے جسے پیچھے سے گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس فائرنگ کا نشانہ بننے والوں میں کچھ رپورٹرز اور چند نرسیں بھی دکھائی پڑتی ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقی کاوش میں جو کہ چشم دید گواہوں، جرم شناسی، اور پوسٹ مارٹم کے ماہرین اور امریکی فورسز کے نشانہ بازوں سے لئے گئے انٹرویو کا ماحصل ہے، اور اسی طرح اس تحقیق میں حادثہ کے وقت کی لی گئی تصاویر و ویڈیو سے بھی تحقیق میں مدد لی گئی ہے، ان تمام انٹرویوز کے ماحصل اور تصاویر و وڈیو کی جانچ پڑتال کے بعد نیویارک ٹائمز نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے جس گولی کی بنا پر "نجار رزان ” کی شہادت ہوئی دراصل وہ گولی مظاہرین کو راست طور پر نشانہ بنانے کے لئے چلائی گئی تھی، وہ مظاہرین جن کے درمیان خاصی تعداد میں نرسیں بھی موجود تھیں۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ جائے وقوع کی جو نمونہ سازی کی گئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ "نہ تو نرسیں اور نہ ہی مظاہرین میں موجود کوئی فرد، کوئی بھی اسرائیلی فورسز کے لئے ہرگز کوئی شدت پسندانہ خطرہ کا سبب نہ تھے، گرچہ اسرائیل نے اس بات کو قبول کر لیا کہ نجار رزان کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا گیا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ فائرنگ بہترین حالت میں غیر ذمہ دارانہ عمل تھا اور اس بات کا احتمال ہے کہ ایک جنگی جرم ہو، لیکن ابھی تک کسی کو اس سلسلہ سے سزا نہیں دی گئی ہے، اس اخبار کی تحریر کے مطابق، اسرائیلی شوٹرز نے اس حالت میں مظاہرین پر فائرنگ کی ہے کہ مظاہرین میں سب سے نزدیک فرد تقریبا ایک کلو میٹر صہیونی فوجیوں سے دوری پر تھا، یہ چلائی جانے والی گولی پہلے زمیں پر لگی اور اس کے بعد اس نے دو نرسوں کو زخمی کیا، اسکے بعد رزان کی شہادت کا سبب بنی۔

اگست کے مہینے میں صہیونی حکومت کے ایک عالی رتبہ کمانڈر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ غزہ میں فلسطینی مظاہرین پر بنا سوچے سمجھے گولیاں چلانے کی وجہ سے غزہ میں 60 سے 70 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، لیکن اسکے باوجود صہیونی فوجیوں کو گولیاں چلانے کے قوانین بغیر کسی ردوبدل کے باقی ہیں، اور اب تک صہیونی فوجی اسی طرح عام لوگوں کو گولیوں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، یہ سراسر بین الاقوامی قوانین کو توڑنے کا معاملہ ہے اور اس سے بین الاقوامی اصولوں کی مخالفت ہوتی ہے، اس لئے کہ اگر کسی ایک مڈبھیڑ میں مسلسل عام لوگوں کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا گراف بڑھتا رہے، اور سولز کی ہلاکتیں بڑھتی رہیں تو فوجی صاحبان اختیار و اقتدار پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تصادم کے دستور و قواعد میں نظر ثانی کریں۔ یہ اخبار کہتا ہے۔ "حادثاتی طور پر اپنی جانوں کو گنوا دینے والے افراد کی بھاری تعداد اور اسرائیل کا تصادم کے وقت اپنے عسکری قوانین میں تبدیلی نہ کرنا اس سوال کو جنم دینے کا سبب ہے کہ کیا یہ محض ایک غلطی ہے یا انکی حکمت عملی و سیاست کا ایک حصہ ہے؟۔ انجام کار نجار رزان کے والد جنہوں نے اپنی بیٹی کو فرشتہ مہربانی سے وصف کرتے ہوئے اپنے درد کو بیان کیا ہے، کہتے ہیں: "میرا احساس کیا ہے؟ اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا؟ درد کا احساس کرتے، بالکل ایسے جیسے آپ کے دل کو کسی نے آگ لگا دی ہو، آپکی پوری زندگی زیر و زبر ہو کر ر ہ جائے گی، کسی عزیز کو آپ نے اگر کھو دیا، تو آپ نے اپنی زندگی کے بڑے حصہ کو کھو دیا ہے۔ اگر آپ ایک بیگ یا ایک موبائل کھو دیتے ہیں تو آپ پریشان ہو جاتے ہیں، آپ فرض کریں ایسا انسان جو کہ آپ ہی کے وجود کا ایک حصہ تھا اسے آپ نے کھو دیا ہو، کوئی ایسا جو آپ کے وجود ہی کا ایک اٹوٹ انگ ہو، تو یہ ایسی چیز ہے جس کی قیمت کو کسی چیز سے بیان نہیں کیا جا سکتا، جسے پیسوں کے معیار پر نہیں تولاجا سکتا، یہ آپ کے وجود کا ایک حصہ ہے، آپ کی بیٹی ہے آپ کا بیٹا ہے”۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …