اتوار , 11 اپریل 2021

عرب ارکان کی مداخلت ، اذان پرپابندی کا نام نہاد صہیونی قانون ناکام

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی کنیسٹ میں عرب رکن کنیسٹ ڈاکٹر احمد الطیبی نے کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے فلسطینی مساجد میں اذان پرپابندی سے متعلق ایک نسل پرستانہ آئینی بل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر عرب ارکان نے کوشش کرکے اذان پاپندی کے قانون کو زمین برد کردیا۔

ڈاکٹراحمد الطیبی نےت کہا کہ "جیوش ہوم” کے رکن موطی یوگیو نے کنیسٹ میں انتخابات کی تعطیلات سے قبل مساجد میں اذان پرپابندی سے متعلق قانون کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر عرب ارکان کنیسٹ نے "یہودت ھتورات” نامی سیاسی جماعت کے لیڈر موشے گیونی کے ساتھ مل نہ صرف اس قانون پر رائے شماری منسوخ کرادی بلکہ اس قانون کو حتمی طورپر قبر میں دفن کردیا گیا۔

ڈاکٹر طیبی نے کہا کہ اسرائیلی کنیسٹ میں کئی ایسے نام نہاد نسل پرستانہ سیاہ قوانین موجود ہیں جو منظوری کے مراحل میں ہیں۔ آج سے ڈیرھ سال پیشتر صہیونی ارکان کنیسٹ نے اذان پرپابندی کا نسل پرستانہ بل منظور کرانے کی کوشش کی تھی مگر اسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہودت ھتورات کے لیڈر گیونی کےساتھ مل کر گذشتہ ڈیڑھ سال سے اذان پرپابندی کے نام نہاد قانون کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ ان انہیں اس میں حتمی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ہم اذان پر پابندی کے نسل پرستانہ قانون کو قبر میں دفن کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

حماس کے ساتھ مفاہمت انتخابات کے انعقاد میں کامیابی کا حصہ ہے

تحریک فتح نے کہا ہے کہ تحریک حماس کے ساتھ مفاہمت انتخابات کے انعقاد میں …