منگل , 13 اپریل 2021

وادی اردن کا "عقبہ گائوں” صہیونی توسیع پسندی کی راہ میں رکاوٹ

فلسطین کے وادی اردن کو صہیونی ریاست کی توسیع پسندی کا نیا ہدف سمجھا جاتا ہے مگر اس کے بعض قصبے اور مقامات ایسے ہیں جو صہیونی ریاست کی توسیع پسندی کے پروگرام میں سد راہ بنے ہوئے ہیں۔

وادی اردن کے شمال میں "العقبہ” گائوں بھی انہی مقامات میں سے ایک ہے جسے صہیونی ریاست یہودیانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ العقبہ گائوں وادی اردن کے شمالی علاقوں‌ کے ایک چھوٹے سے گائوں کو کہا جاتا ہے۔

اس گائوں کی مسجد صلاح الدین ایوبی وہاں کا لینڈ مارک ہے جو صہیونی دشمن کے خلاف فلسطینیوں کی نصرت اور فتح کی بھی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد اپنے خوبصورت اور منفرد طرز تعمیر کے مینار کی وجہ سے مشہور ہے جسے دور دور سے دیکھا جاسکتا ہے۔

العقبہ کے فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست نے مسجد اور اس کے خوبصورت مینار کو ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی۔ مگر مقامی فلسطینی آبادی کے عزم استقلال نے صہیونیوں کو ایسی جسارت کی ہمت نہیں دی۔ تاہم صہیونی آئے روز طرح طرح کی چالیں اور منصوبے بناتے ہیں تاکہ مسجد صلاح الدین ایوبی کےمینار اور مسجد کے وجود کو ختم کر دیں۔

مسجد صلاح الدین ایوبی کے ایک معذور نمازی الحاج سامی صادق کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسے اس مسجد کا نمازی ہونے کی پاداش میں گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ العقبی گائوں سنہ 1967ء کی صہیونی جنگ کے بعد اب تک پورے قد کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑا اور فلسطینیوں‌ نے دشمن کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔

تعمیرات پر پابندی
العقبہ گائوں کے اہل حل وعقد نے ایک کونسل قائم کر رکھی ہے جو اکثر گائوں کے ایک بڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور مقامی مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست نے مقامی فلسطینی آبادی پر گھروں کی تعمیر اور توسیع پسند پابندی عائد کررکھی ہے۔ یہ پابندی مقامی فلسطینیوں کو ھجرت پر مجبور کرنے کا ایک مکروہ صہیونی حربہ ہے۔

دوسری جانب صہیونی حکومت یہودی تنظیمیں مل کر گائوں میں آباد کاری کے لیے منصوبے بناتے اور یہودیوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ستر سالہ ایک مقامی فلسطینی بزرگ الحاج سامی صادق کا کہنا ہے کہ العقبہ ایک مشہور اور معروف جگہ ہے۔ فلسطین کے اندر اور باہر کا کوئی بھی رہ نما جب وادی اردن میں آتا ہے تو وہ ضرور اس علاقے میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ العقبہ گائوں کافی شہرت رکھتا ہے۔ دنیا کے مختلف براعظموں میں اس کے چرچے ہیں۔ اس کے باسی بھی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ شہد کی مکھیوں کے ایک چھتے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رہتے اور قضیہ فلسطین کے لیے عالمی محافل میں آواز بلند کرتے ہیں۔

الحاج سامی کا کہنا ہے کہ دو سال قبل اس قصبے میں مقامی شہریوں‌ نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی کی پائپ لائن بچھائی مگر صہیونی فوج نے اسے متعدد بار مسمار کیا ہے۔ ہم نے معاملہ اسرائیلی عدالت میں اٹھایا مگر ہمیں گذشتہ بدھ کو بتایا گیا کہ انہیں قصبے میں مزید تعمیرات کی اجازت نہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …